حالات سے شکوہ کیوں؟

ہم میں سے اکثر لوگ حالات کاگلہ شکوہ کرتے ہی نظر آتے ہیں اور ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو خود سے بھی بے زار ہی رہتے ہیں انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہ اگر کرنا چاہے تو بہت کچھ کرسکتا ہے نیک نیتی اور جدوجہد سے معاشرہ میں ایک اچھا مقام حاصل کرسکتا ہے مگر اس کے لیے سب سے پہلی شرط ایمانداری ہے اور یہی راستہ کامیابی کا ہے جو ہمیں اپنی منزل تک پہنچا سکا ہے اللہ تعالی نے ہر انسان کو بااختیار پیدا کیا ہے بے شمار نعمتیں ہمارے لیے ہیں اور اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ہم معاشرہ میں اپنا مقام نہ بنا سکیں تو پھر ہمیں تنہائی میں بیٹھ کر اپنا احتساب کرکے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم میں کیا کمی ہے کیوں زندگی کی دوڑ میں ہم پیچھے کو بھاگ رہے ہیں اور جو ہم سے آگے نکل گئے ان میں کیا خوبیاں ہیں ایک بات جو ہم سب کو زہن نشین کرلینی چاہیے کہ حالات بھی انسان کا ساتھ اس قت دیتے ہیں جب خود ہمارے اندر آگے بڑھنے کی سچی لگن ہوگی اور ایمانداری ہمارے اندر ہو ہم کسی کی ٹانگ کھینچ کر اوپر چھڑنے کی کوشش نہ کریں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہیں صرف دکھاوے کے لیے بلکہ اپنے اندر کی پاکیزگی کو قائم رکھنے کے لیے ہم اپنے اندر برداشت کو جنم دیں انتقام انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کردیتا ہے اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین کر اسے ناکارہ کردیتا ہے ۔
ہمیشہ وہی افراد تاریخ کے جھروکوں میں زندہ رہتے ہیں جو اپنا آج کل کے لیے محفوظ بنا لیتے ہیں کیونکہ وقت گذرتے وقت نہیں لگتااور اکثر ہم پرانی یادوں کو جب یاد کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہم سکول جاتے تھے اور پھر وہ سکول کا زمانہ ہماری آنکھوں میں ایک فلم طرح گذر جاتا ہے کالج کے زمانہ کو یاد کرتے ہیں تو پھر کچھ اور ہی طرح کی یادیں دل ودماغ کو روشن کرکے گذر جاتی ہے اور جب یونیورسٹی کا سنہرا زمانہ آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو پورے جسم میں ایک عجیب سے سرشاری اور خمار سا چھا جاتا ہے جس کے سحر سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے مگر یادوں کی یہ حسین گھڑی بھی آخر کار گذر ہی جاتی ہے اور ہم پھر سے اپنی موجودہ دنیا میں لوٹ آتے ہیں اس دنیا میں بے شمار لوگ آئے اپنی زندگی گذاری اور پھر مٹی میں مل گئے مگرجنہوں نے انسانیت کی خدمت کی اپنی زندگی کو ایک مقصد کے تحت گذارا وہ تاریخ کے اوراق میں آج بھی زندہ ہیں ہم میں سے اکثر لوگ حالات کاگلہ شکوہ کرتے ہی نظر آتے ہیں اور ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو خود سے بھی بے زار ہی رہتے ہیں انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہ اگر کرنا چاہے تو بہت کچھ کرسکتا ہے نیک نیتی اور جدوجہد سے معاشرہ میں ایک اچھا مقام حاصل کرسکتا ہے مگر اس کے لیے سب سے پہلی شرط ایمانداری ہے اور یہی راستہ کامیابی کا ہے جو ہمیں اپنی منزل تک پہنچا سکا ہے اللہ تعالی نے ہر انسان کو بااختیار پیدا کیا ہے بے شمار نعمتیں ہمارے لیے ہیں اور اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ہم معاشرہ میں اپنا مقام نہ بنا سکیں تو پھر ہمیں تنہائی میں بیٹھ کر اپنا احتساب کرکے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم میں کیا کمی ہے کیوں زندگی کی دوڑ میں ہم پیچھے کو بھاگ رہے ہیں اور جو ہم سے آگے نکل گئے ان میں کیا خوبیاں ہیں ایک بات جو ہم سب کو زہن نشین کرلینی چاہیے کہ حالات بھی انسان کا ساتھ اس قت دیتے ہیں جب خود ہمارے اندر آگے بڑھنے کی سچی لگن ہوگی اور ایمانداری ہمارے اندر ہو ہم کسی کی ٹانگ کھینچ کر اوپر چھڑنے کی کوشش نہ کریں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہیں صرف دکھاوے کے لیے بلکہ اپنے اندر کی پاکیزگی کو قائم رکھنے کے لیے ہم اپنے اندر برداشت کو جنم دیں انتقام انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کردیتا ہے اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین کر اسے ناکارہ کردیتا ہے اور جو انسان اپنے اندر دوسروں کو پروان چڑھانے کا جذبہ رکھتا ہواور زندگی کی دوڑ میں کامیابی کی جستجو رکھتا ہوتو پھر حالات خود بخود اسکے حق میں ہونا شروع ہوجاتے ہیں پھر اسکے راستے کا تعین قدرت خود کرتی ہے اور جس معاشرہ میں ایسے افراد موجود ہوں پھر ووہ شہر مثالی بن جاتا ہے اور وہ ملک قابل مثال بن جاتا ہے اور ایسے لوگ دنیا میں جہاں بھی چلے جائیں وہاں وہ سرکے تاج سمجھے جاتے ہیں اور وہی لوگ کتابوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتے ہیں مگر اس کے لیے پہلی شرط ایمانداری ہے مگر ہم نے اسی چیز سے پیچھا چھڑوا لیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم حالات کا رونا رو کر اپنی بربادی خود پیدا کررہے ہیں اور آجتک چور بازاری اور لوٹ مار سے کوئی انسان خوش نہیں رہا اگر وہ کسی کے ساتھ فراڈ کررہا ہے تو وہ اپنے ساتھ ہی فراڈ کررہا ہے اس لیے انسان کو اپنے آپ سے مخلص رہتے ہوئے دوسروں کے ساتھ بھی وہی رویہ رکھنا چاہیے تب کامیابیاں اسکی راہ میں ہاتھ باندھے کھڑی ہوتی ہیں انسان کی زندگی بہت مختصر ہے اور پھر کسی کو اپنی موت کا بھی معلوم نہیں کہ کب اور کہاں اسکا مقدر بن جائے گی اور اسکے باوجود ہم نے منصوبہ بندی ایسے کی ہوتی ہے جیسے ہم نے اس دنیا سے جانا ہی نہیں ہے اور اسی لیے جب موت آتی ہے تو بہت سے کام ادھورے ہی رہ جاتے ہیں جو پھر کبھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتے اس لیے ہم اپنے ہر دن کو غنیمت اور آخری جانیں اپنی سابقہ زندگی پر ایک نظر دوڑائیں اپنی خامیاں اور کوتاہیاں اپنے سامنے لائیں اورانکو اپنی بری حرکتوں سمیت ایک گڑھا کھود کر اس میں دبا دیں ۔ محمدصدیق مدنی کا کہنا ہے کہ اپنے اردگرد لوگوں پر نظر دوڑائیں کامیاب اور مثالی زندگی گذارنے والوں کی خوبیاں نوٹ کریں اور پھر انہیں اپنے اندر سمیٹ لیں اپنے راستے کا تعین کریں اور پھر ایک بار پوری ایمانداری کے ساتھ اس پر چل پڑیں آپ کو ایسے محسوس ہوگا کہ جیسے مشکلات کا یک پہاڑ آپ کے سامنے کھڑا ہے مگر ہمت اور حوصلے سے آپ اس پہاڑ کو عبور کرنا شروع کردیں اسکے بعد پھر کامیابیاں آپ کے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہو جائیں گی آپ ثابت قدم رہے تو پر آپ کے ساتھ چلنے والی وہی کامیابیاں آپ کے قدم چوم لیں گی اسکے بعد آپ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگئے مرنے کے بعد بھی آپ کی تاریخ کے جھرکوں سے باہر جھانکتے رہیں گے اور لوگ آپ کی کامیابی کے قصے سنایا کریں گے مگر شرط صرف ایمانداری ہے کیونکہ یہی کامیابی کا راز ہے۔
آپ ثابت قدم رہے تو پر آپ کے ساتھ چلنے والی وہی کامیابیاں آپ کے قدم چوم لیں گی اسکے بعد آپ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگئے مرنے کے بعد بھی آپ کی تاریخ کے جھرکوں سے باہر جھانکتے رہیں گے۔

تحریر۔ مولانا محمدصدیق مدنی ۔چمن

جواب چھوڑیں