آسا ۔۔ مختار پارس | مکالمہ


سایہ وہیں ہوتا ہے جہاں کوئی کہیں ہوتا ہے ۔ عکس گمراہ کر سکتے ہیں مگر جھوٹ نہیں کہتے۔ سچ اور جھوٹ کا پرتو ایک جیسا دکھائی دیتا ہے۔ یہ دیکھنے والی آنکھ پر منحصر ہے کہ سائے کے ماخذ تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں ۔ مسافروں کو سایہ دیوار سے غرض رہتی ہے، اس کے پار رہنے والوں سے نہیں ۔ مگر شجر گزرنے والوں کے انتظار میں رہتے ہیں چاہے ان سے کسی کو غرض ہو یا نہ ہو۔ دیوار اپنی اوٹ میں کھڑے ہونے والوں پر گر سکتی ہے مگر سایہ اشجر ایسا نہیں کر سکتا ۔ بے غرض ہو کر سر پر دست شفقت رکھنے والے کا سہارا ان درختوں جیسا ہے جن کے سائے لمبے ہو جاتے ہیں ۔
کچھ آثار وقتِ مقررہ سے پہلے نمودار نہیں ہو سکتے۔ سورج سوا نیزے پر ہو تو سایہ بھی ساتھ نہیں رہتا۔ عکس کی اہمیت اس وقت تک ہے جب تک وہ کسی کو نظر آتا رہے۔ ایک وقت آتا ہے جب انسان خود کو دیکھنا بھی بند کردیتا ہے۔ اپنے پرتو سے نگاہیں ہٹ جائیں تو گمراہی مقدر بن جاتی ہے۔ ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سمجھتے ہیں کہ بادل چھٹ گۓ مگر پسِ دیوارِ دید کچھ اور منظر لکھے ہوتے ہیں۔ وہ خواب جو ہم دیکھ نہیں پاتے، وہی حقیقت ہوتے ہیں اور حقیقتیں درخت کی ڈھلتی چھاؤں کے سوا کچھ نہیں ہوتیں۔ صاحبِ نظر اسی لیے سرو قد کو نہیں، شام کے وقت کو دیکھتے ہیں۔
اس جیسا تو کوئی ہے نہیں اور میرے جیسا ہر کوئی؛ ساری کہانی ہی اس یکتا کے گرد گھومتی ہے۔ خدا کا خلیفہ بننا آسان نہیں؛ جو صفات پیدا کرنے والے نے اپنے لیے مخصوص کیں، ان پر عملدرآمد کی ذمہ داری پیدا ہونے والے پر ہے۔ مخلوق بھی تخلیق کرنے پر قادر ہے مگر امتحان یہ ہے کہ فلسفہءِ تخلیق کے ساتھ جڑی ذمہ داریاں بھی سمجھ آتی ہیں یا نہیں۔ خدا جب پیدا کرتا ہے تو بھوکا نہیں مرنے دیتا؛ انسان جب پیدا کرتا ہے تو کئی بھوک سے بلک بلک کر مر جاتے ہیں۔ خدا جب انصاف کرتا ہے تو پھر ظالم کو چھپنے کی جگہ نہیں مل سکتی؛ انسان کا انصاف اس کی گرہ اور گریبان کے گرد کی گھومتا رہتا ہے۔ خدا جب پیار کرتا ہے تو پھر آنکھ نہیں جھپکی جاتی؛ انسان کی محبت اس کی آنکھوں سے چھلک کر دھندلی ہو جاتی ہے۔ انسان زمین پر ہے تو خدا کا سایہ مگر اسے ابھی یہاں رہنا نہیں آیا۔
خوف کے سایے کچھ کرنے ہی نہیں دیتے۔ بھوک کا خوف شہر سے باہر نہیں نکلنے دیتا؛ بیماری کی الجھن آنکھ نہیں لگنے دیتی؛ موت کا خوف ہر خواب کو کچل کر رکھ دیتا ہے؛ خدا کا خوف ہو تو ان پریشانیوں سے نجات ملے۔ پریشانیاں سطحِ آب پر لرزتی تصویروں کی طرح ڈولتی رہتی ہیں اور متزلزل کر دیتی ہیں۔ ہر تصویر جو ہمیں نظر آتی ہے، وہ ہمارا اپنا عکس ہے۔ ہم اپنے ہی شیشوں میں اترے ہوۓ لوگ ہیںجنہیں اپنے علاوہ کوئی نظر نہین آتا۔ ہم نفرت اس سے کرتے ہیں جو ہمیں اچھا نہیں لگتا؛ یہاں مہربان وہ ہے جو کسی اور پر مہربان نہیں ہے۔ کسی اور سے محبت کرنے کا خوف ہمیں کسی اور کا ہونے نہیں دیتا۔ دعویٰ یہ کہ جبینِ نادم صرف اس کے آگے خم ہے جو مہربان ہے اور ماں سے زیادہ محبت کرنے والا ہےمگرہماری خاک میں لتھڑی ہوئی محبت کو جسم کی سرحد سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں، حیرت ہے!
جب انسان کو کچھ نظر نہیں آۓ تو اسے صرف اندھیرا نظر آتا ہے۔ اندھیروں میں دیکھنے کی عادت سایے تلاش نہیں کرنے دیتی۔ اگر چاند کا سایہ سورج پر پڑ جاۓ تو وہ بھی چھپ جاتا ہے۔ ہم اگر نظریں چرا کر چھپنا نہیں چاہتے تو اس کےلیے ضروری ہے کہ ہم یہ جان رکھیں کہ ہم کون ہیں اور ہمارا سایہ کون ہے؟ کیا ہمارا سایہ واقعی ہمارا ہے؟ اگر ہم اپنے سایے کو نہیں دیکھ سکتے تو کیا ہم اندھیرے میں ہیں؟ ہم میں سے ہر شخص جو اندھیروں میں رہ کر اپنے سایوں کی شناخت کھو چکا ہے وہ “بدائی” ہے جو اپنے دیو ہیکل بازو پر اپنا سر رکھے کسی ویرانے میں سو رہا ہے اور اس کا سر، بازو اور ٹانگیں ریت میں دھنسی ہوئی ہیں۔ ایک دن وہ جاگے گا اور اتنا عرصہ خود کو نہ دیکھنے کے غم میں ساری دنیا کو کھا جاۓ گا۔
من و تو کے سہارے کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ میری مانند اور میں اس کے آسا؛ وہ روشنی تو میں اسکا سایہ؛ وہ سایہ تو میں اسکی آشا۔ حق تو یہ ہے کہ کہیں کوئی دیوار دھم سے نہ گرے اور کہیں کوئی بجلی نہ کڑکے۔ شام کی ہوا دبے پاؤں چلے تو اس کی یاد بھی تڑپ اٹھے۔ محفلِ شب میں کیفیتِ دل پر بات ہوتی رہے۔ یہ طے ہو جاۓ کہ زندگی کے سورج نے کب طلوع ہونا ہے اور کب ڈھلک جانا ہے تاکہ کوئی اندیشہء زوال نہ رہے اور کسی کو کسی کے سایے میں چھپنے کی حاجت نہ رہے۔ مولا کے رنگ میں رنگ جانے سے آنکھیں نہیں چندھیائیں گی اور آبِ رواں پر کوئی تصویر متزلزل نہیں ہو گی۔ انسانوں کے درمیان فاصلوں کا تعلق براہِ راست خدا کے فیصلوں سے ہے۔ کسی جنگل میں بیٹھا سادھو خدا سے محبت کا دعویٰ کرے تو وہ اپنے سایے میں بیٹھا ہے۔ خدا کی محبت تو کڑکتی دھوپ میں سایہ تلاش کرنے والوں تلاش کرنے میں ملتی ہے۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں