A Mad Tea-Party by Carl Lewis ترجمہ صبغت وائیں …

A Mad Tea-Party
by Carl Lewis
ترجمہ صبغت وائیں
14 جنوری، 2016
گھر کے سامنے درخت کے نیچے ایک میز پڑا تھا، اور مارچؔ خرگوش اور ٹوپی والا ھیٹرؔ اس پر بیٹھے چائے پی رہے تھے: ان دونوں کے درمیان ایک ڈارماؤس چوہا بھی بیٹھا تھا، جو کہ گہری نیند میں سویا تھا۔ یہ دونوں ڈارماؤس پر اپنی کہنیاں ٹیکے اسے ایک تکیے کی جگہ استعمال کر رہے تھے اور اس کے سر پر باتیں کئے جا رہے تھے۔ ایلسؔ نے یہ دیکھ کے سوچا؛ "یہ سب ڈارماؤسؔ کے لئے کس قدر تکلیف دہ ہو گا۔ شاید وہ صرف اس لئے برداشت کر رہا ہے کہ وہ گہری نیند میں ہے۔"
وہ ایک بڑی میز تھی، لیکن وہ تینوں اس کے ایک ہی کنارے پر رش ڈال کے بیٹھ رہے تھے۔ انہوں نے ایلسؔ کو دور سے آتے دیکھ کے ہی چلانا شروع کر دیا کہ یہاں کوئی جگہ نہیں ہے، کوئی جگہ نہیں ہے۔ "جگہ ہی جگہ پڑی ہے، تم کس طرح سے کہتے ہو کہ جگہ نہیں ہے؟" ایلس نے یہ تیوریاں چڑھا کر کہا اور میز کے ایک طرف پڑی آرام کرسی پر پاؤں پسار کے بیٹھ گئی۔
چلو پھر کچھ وائن سے شغل ہو جائے، مارچؔ خرگوش نے بڑے ہی دوستانہ سے انداز میں اس کی ہمت بڑھاتے ہوئے کہا۔
ایلسؔ نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن اسے چائے کے سوا میز پر کچھ دکھائی نہیں دیا۔ "مگر مجھے تو کہیں وائن نظر نہیں آ رہی" اس نے بڑے ہی دھیان سے دیکھتے ہوئے کہا۔
"ہوتی تو نظر بھی آ ہی جاتی" مارچؔ خرگوش نے کہا۔
"تب پھر یہ کوئی تمہاری ایسی تہذیب کی بات نہیں ہے جو اس کی صلح مارتے پھر رہے ہو،" ایلس بپھر کر بولی۔
"تو یہ تمہاری بھی کوئی ایسی تہذیب کی بات نہیں تھی جو یوں منہ اٹھا کے بن بلائے یہاں آن بیٹھی ہو" مارچؔ خرگوش نے کہا۔
"مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ 'تمہاری' میز ہے" کم از کم تین بندوں سے تو یہ بہت بہت زیادہ بڑی ہے۔
"تمہاری حجامت ہونے والی ہے، بال بہت بڑھ چکے ہیں" ھیٹرؔ نے کہا۔ وہ تب سے ایلسؔ کو گہرے تجسس سے دیکھتا ہی جا رہا تھا، اور یہ پہلے الفاظ تھے جو اس کے منہ سے نکلے تھے۔
"تمہیں یہ تمیز سیکھنی چاہئے کہ ذاتی تبصرے کرنا اچھی بات نہیں ہوتی" ایلسؔ نے کچھ سخت لہجے میں کہا۔ "یہ بہت ہی بدتمیزی کی بات ہے"۔
ھیٹرؔ نے یہ سُن کر اپنی آنکھیں پوری کی پوری کھول دیں لیکن صرف یہ کہا، "ایک پہاڑی کوا لکھنے کی میز جیسا کیوں ہوتا ہے؟"
"یہ ہوئی نا بات، اب ہم سب کو مزا آئے گا" ایلسؔ نے سوچا۔ "مجھے خوشی ہے کہ آپ لوگوں نے پہیلیاں بجھوانی شروع کر دی ہیں۔۔ مجھے یقین ہے کہ میں اس کا جواب دے دوں گی،" اس نے بلند آواز میں کہا۔
"تمہارا مطلب ہے کہ تم سمجھتی ہو کہ تم اس کا جواب دے سکتی ہو؟" مارچؔ خرگوش نے پوچھا؟
"بالکل یہی" ایلسؔ نے کہا۔
"تو پھر تو تم کو وہی کہنا چاہئے جو تمہارا مطلب ہو،" مارچؔ خرگوش نے کہا۔
"میں تو ہمیشہ ایسا ہی کرتی ہوں،" ایلسؔ نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا؛ "اور بہرحال۔۔ بہرحال جو میں کہتی ہوں وہی میرا مطلب ہوتا ہے، یہ بالکل ایک جیسی بات ہے۔ تم یہ اچھی طرح سے جانتے ہو۔"
"بالکل بھی ایک جیسی بات نہیں ہے یہ! کس نے کہا؟" ھیٹرؔ نے کہا۔ "تو گویا تُم یہ کہہ رہی ہو کہ'میں جو کھاتا ہوں وہ دیکھتا ہوں' اور 'میں جو دیکھتا ہوں کھا جاتا ہوں' ایک جیسی باتیں ہیں"!
"تو گویا تُم یہ کہہ رہی ہو کہ، 'میں جو کچھ خریدتا ہوں، اسے پسند کرتا ہوں' اور میں جو کچھ پسند کرتا ہوں خرید لیتا ہوں' ایک جیسی باتیں ہیں"! مارچ خرگوش نے بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
اب ڈارماؤسؔ نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا، یوں لگ رہا تھا کہ وہ سوتے سوتے میں ہی بول رہا ہو، "تو گویا تم یہ کہہ رہی ہو کہ، 'جب میں سوتا ہوں تب میں سانس لیتا ہوں' اور 'جب میں سانس لیتا ہوں سوتا ہوں' ایک جیسی باتیں ہیں"!
"یہ سب کچھ تمہارے لئے ایک جیسا ہے، ھیٹرؔ نے کہا اور گفتگو یہیں ختم ہو گئی۔ ایک منٹ کے لئے سب پر گہری خاموشی چھا گئی، اسی اثنا میں ایلسؔ نے پہاڑی کووں اور لکھنے کی میزوں کے بارے میں جو کچھ سوچ سکتی تھی سوچ لیا، لیکن یہ سب کچھ بھی کچھ خاص نہیں تھا۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2969370379960142

جواب چھوڑیں