جو چشمِ تر کو ہی کافی خیال کرتے ہیں وہ عرضِ حال ا…

جو چشمِ تر کو ہی کافی خیال کرتے ہیں
وہ عرضِ حال اضافی خیال کرتے ہیں

کوئی بھی کام جو ثابت نہیں محمدﷺ سے
اسے وفا کے منافی خیال کرتے ہیں

یہ پیروی ہے کہ ہم بھوک رکھ کے کھاتے ہوئے
نبیﷺ کی بات کو شافی خیال کرتے ہیں

درِ حضورﷺ پہ مجھ سے یقین والے بہت
جو حاضری کو معافی خیال کرتے ہیں

ادائے توبہ سکھائی ہے مصطفیٰﷺ نے ہمیں
ہم اس کو روح کی صافی خیال کرتے ہیں

گناہگار بہت ہیں یہ امتی لیکن
ندامتوں کو تلافی خیال کرتے ہیں

پرو رہی ہوں نبیﷺ جی کی شان میں موتی
جو سادہ دل ہیں قوافی خیال کرتے ہیں

ہے احترام کہ وہ نام خواب میں ہو اگر
تو خود کو خواب میں حافی خیال کرتے ہیں

نورین طلعت عروبہ


جواب چھوڑیں