"حافظ" ایک دفعہ ایک نوجوان عورت حافظ کے…

"حافظ"
ایک دفعہ ایک نوجوان عورت حافظ کے پاس آئی اور کہا ،
"کسی نے خدا کو جان لیا ہے، اس کی نشانی کیا ہے؟"

حافظ کچھ دیر کے لئے بالکل خاموش ہو گے، قریب قریب ایک منٹ خاموشی سے کھڑے رہے۔… پیار سے اس نوجوان عورت کی آنکھوں کی گہرائی میں دیکھتے رہے، پھر آہستہ سے بولے۔

"میرے پیارے ، جو خدا سے آشنا ہو جاتا ہے وہ ظلم والاچاقو گرا دیتا ہے۔جس کو وہ اپنی اور دوسروں کی لطافت پہ استعمال کرتا ہے" –

میرا خیال یہ ہے کہ کسی کا خدا کو جان لینے کا تجربہ،اس کی خوشی ،اس کی تخلیقی صلاحیت کا براہ راست تعلق، اپنے آپ کو، دوسرں کو،جسمانی ، ذہنی ، جذباتی اور روحانی طور پر تکلیف نہ پہنچانے سے ہے "

ترجمہ و انتخاب
#قیصر چوہدری#
اور ایسی اچھی پوسٹ شاعری اور حکایت کے لئے Rumi – مولای روم فالو کریں ۔۔۔

"HAFIZ"

Once a young woman came to Hafiz and said,
"What is the sign of someone knowing God?"

And Hafiz became very quiet, and stood in silence for nearly a minute… lovingly looking deep into the young woman's eye, then softly spoke,

"My dear, they have dropped the knife. The person who knows God has dropped the cruel knife most so often used upon their tender self – and others."

– My take is that one's experience of God – one's joy, one's creative potential – is in direct proportion to the ability to no longer harm oneself and others physically, mentally, emotionally spiritually."

Selected and translated by.
Qasir Choudhary.


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2972514796312367

جواب چھوڑیں