مٹکے سے دریا کی کہانی – سعدیہ بشیر

دنیا میں ناممکن کچھ نہیں ہوتا اور یہ بھی سچ ہے کہ slow and steady wins the race۔ اتفاق میں برکت ہے۔ ایمان داری کا پھل اور ایسی سینکڑوں کہاوتیں جس تیزی سے معنویت بدل رہی تھیں، اس کی کہانی نئی نہیں لیکن اپنی خیرہ کن چمک دمک سے آنکھوں کے ساتھ دماغ بھی چندھیا دیتی ہیں۔ فی زمانہ کوئی عمل ناجائز نہیں تھا۔ دلیلیں مساجد میں اذان کے مقابلہ میں گونجتی تھیں۔ اب صرف دو کہاوتوں کا ڈنکا بجتا تھا۔ ایک “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” اور دوسری “جنگ اور محبت میں سب جائز ہے۔

ہر بھدے عمل کے جواز میں ایک تواتر سے جنگ اور محبت میں سب جائز کا راگ یوں الاپا گیا کہ سب کو قومی ترانہ بھول گیا۔ انھیں ایسی روشن خیالی درکار تھی جس کے لیے وہ سماجی گھٹن کا رونا رو کر اپنی محرومی واضح کر سکیں۔ چنانچہ شہر میں  جب بھی کہرام مچتا۔۔۔۔۔ ماسک پہن کر گدھ چڑیا، فاختہ یا کوئل کا شکار کرتے اور ادھم مچاتے، سب کھلی آنکھوں سے یہ ظلم دیکھتے اور خاموش رہ کر اداس ایموجی پوسٹ کرنا کافی سمجھتے۔ اصل دہائی تو یہ تھی کہ باز بھی ان کا ہی ساتھ دیتے۔ شہر بھر کے مچھیرے بھی اسی روشن خیالی اور سماجی گھٹن کے تھری ڈی کارڈ سجا کر مردہ مچھلیوں کی اس بساند کو دبانے کی کوشش کرتے جو دریا کے پانی میں زہر پھیلا رہی تھی۔ پانی کی بوتلوں پر جدت کے الٹے سیدھے لیبل سجا کر انھیں صرف اس بات میں دل چسپی تھی کہ کسی طرح یہ آلودہ پانی شہر بھر کے پائپوں میں بہنے لگے۔

دریا کی روانی، کشتی، بادبان اور دریا پر لکھے گئے دل چسپ اشعار نے اور دریا کے بھنور اور کنارے کے دلفریب بیان نے شہر میں اونگھتے مٹکوں کو جیسے جھنجھوڑ ڈالا۔ مٹکوں کی نظر نہ تو اپنے ظرف پہ گئی اور نہ ہی انھوں نے اپنے دامن کی وسعت کا اندازہ لگایا۔ حد تو یہ کہ انھوں نے گھڑے کی تہہ سے لگے پانی کے ان چار قطروں کو بھی نظر بھر کے نہیں دیکھا جو شرم سے ڈوب مرنے کے لیے بھی کافی نہ تھا۔ حقیقت کو بدلنے کے خطوط پر کام کرتے ہوئے مٹکوں نے بھی اجلاس بلانے میں ہی سہولت سمجھی۔ شہر بھر کے چھوٹے بڑے گھڑے اور مٹکے اجلاس میں قسمت بدلنے کی امید پر شامل ہوئے۔ ان کے دل میں زیر خانہ یہ خواہش بھی موجود تھی کہ اس رستے پہ ان کے دن پھرنے والے ہیں۔ اجلاس میں شامل ہر مٹکا سردار قرار پایا اور لفظوں کے ہیر پھیر سے ان سب کو یکساں فضیلت سے نوازا گیا۔ ایک مٹکا تو دریائے راوی پر کامران کی بارہ دری کی کہانی سن کر اتنا exited ہوا کہ اس کی رال ٹپکنے لگی۔ اسے لگا کہ اب اسے دریا بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن اس کی نظر میں چلو بھر پانی نے جالا سا تان دیا۔ ایک آہ رساء گلوگیر انداز میں نکلی اور اس نے آہستگی سے خود کلامی کی۔

ننگی کیا نہائےگی اور کیا نچوڑے گی!

ایک دانا مٹکے نے یہ سرگوشی سن لی اور مائک پر نہایت دانش مندانہ جواب دیا۔ اس نے حاضرین مٹکوں کو آمادہ عمل کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اپنی نظر پانی کی کمی اور وسعت قلب کی بجائے اہداف پر رکھنا چاہئے، آخر درخت کی شناخت اس کے پھولوں اور پتوں ہوتی ہے، اس کے سائے سے نہیں۔ مثال دیتے ہوئے اس نے کہا کہ کیکر، تھور اور ببول بھی تو درختوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ دریا میں تیرتی رنگین مچھلیوں نے اس کے ذہن میں ہلچل مچا رکھی تھی۔ یہ جواب آنے والی نسلوں کی تشفی کے لیے کافی تھا۔ تمام مٹکوں نے ہاؤ و ہو کا ایک زور دار نعرہ لگایا جس سے چھوٹے گھڑوں کے پیندوں میں سوراخ ہو گئے۔ کاروباری نقطہء نظر سے یہ کوئی اتنا بڑا عیب نہیں تھا۔ اس لیے انھیں اپنی قیمت گرنے کا شائبہ تک نہ ہوا۔ پانی کی سطح بلند کرنے کے لئے ایک پڑھے لکھے مٹکے نے سب کو سیانے کوے کی کہانی سنائی۔ اس نے اپنے لیکچر میں اس ویڈیو کو بھی شامل کیا جو کسی ستم ظریف نے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی تھی۔ اس کا مقصد جو بھی ہو لیکن اس سے کووں کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہوا اور ان کی شہرت چار دانگ پھیل گئی۔ چنانچہ کووں کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ ایک کوا جس نے رنگین پروں کی ایکسٹنشن لگا رکھی تھی اور کوے سے زیادہ خود کو مور سمجھ رہا تھا۔ اس نے تمام کووں کی طرف سے سوشل میڈیا کی اس پذیرائی پر شکریہ ادا کیا۔ آخر اسی کی بدولت مٹکوں نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ کوے کی گڑھے میں کنکر ڈالتے ہوئے یہ ویڈیو اتنی وائرل ہوئی کہ ہر چھوٹے بڑے ہر گھڑے اور مٹکے نے اسے اپنے موبائل پر محفوظ کر لیا تھا اور ادھر ادھر بھیج کر خود کو دریا ثابت کرنے کے امکانات پر توجہ مبذول کروانے میں مگن تھے۔ جوش جذبات میں انھوں نے اس بات پر توجہ ہی نہ دی کہ کوا جس گھڑے میں کنکر ڈال رہا تھا، وہ animated تھا۔ ذرا اور تحقیق کرتے تو ابن انشا کی “اردو کی آخری کتاب” میں سیانے کوے کی جدید کہانی بھی پڑھ لیتے لیکن یہاں تجسس و تحقیق کی زحمت ہی کسے تھی۔ پہلا خبری بننے کے لالچ نے انھیں وہ لٹو بنا دیا تھا جو چار تماشائی دیکھ کر گھومنے لگتا تھا۔

مٹکوں کے دریا بننے کی خواہش اب خبر بن چکی تھی۔ تالاب، ندی، نالوں اور چشموں کے لیے کوئی اور چارا نہ بچا تو انھوں نے اپنی عزت بچانے کے لیے خود کو سمندر کہلوانے پر اصرار کیا اور بحیرہ مردار کی تصاویر لگا کر فخر کرنے لگے۔ گاؤں کے جوہڑ اور شہر کے گندے نالے بھلا کیسے پیچھے رہتے۔ انھوں نے خود کو PH.D کی شفاف اعزازی ڈگری سونپ ڈالی۔ سمندر اور دریاؤں کی کسے پروا تھی۔ عبداللہ غازی جیسے ولی اللہ کی روایت کا سہارا لے کر سمندر کی حدود کا تعین کیا گیا۔ دریا کے متعلق سوچ لیا گیا کہ وہ خود ہی اپنا راستہ بدل لیں گے آخر ماضی میں بھی تو ایسا ہوتا رہا ہے۔ دریا پہ بند باندھنے کے لیے بھی کچھ ویڈیوز موجود تھیں۔ دریائے راوی کی مثال دے کر دریاؤں کو الٹی میٹم دیا گیا کہ ضعف پیری نے ان کی ہیبت میں دراڑ ڈال دی ہے۔ اب وہاں شعبدہ بازوں کا قبضہ تھا اور وہ پھونکوں کے بل پر دنیا بدلنے کا عزم رکھتے تھے۔ دریا نے سمندر اور سمندر نے آہ بھر کر دریا کو دیکھا۔ پانی کنارے سے ٹکرایا اور ریت میں جذب ہو گیا۔ ساحل پر پھیلی گندگی مٹانے کی خواہش آنسو بن کر رہ گئی۔ بھنور اور طوفان پہ البتہ ان کا اختیار نہ تھا کچھ عوامل پہ قدرت کی طاقت دائمی ہے۔ تب سے مٹکے کووں کے جمع شدہ کنکروں اور پتھروں کو سطح آب میں اضافہ سمجھتے ہیں اور خود کو دریا کہلوانے پر اصرار کرتے ہیں۔ مردم شماری کے جدید خطوط کے مطابق مٹکے، تالاب اور جوہڑ کو بدرجہ رتبہ دریا، ندی اور تالاب قرار دیا گیا ہے لیکن ان کا دعوی ہے کہ اب انھیں سمندر کہہ کر لکھا اور پکارا جائے۔

رہے نام اللہ کا۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں