عالمی ادب کے اردو تراجم سن 2020ء : ایک جائزہ ت…

عالمی ادب کے اردو تراجم
سن 2020ء : ایک جائزہ
تبصرہ نگار : منیرفراز

فروری 2018ء کی ایک شام میں فیس بک پر ایک سرسری نظر ڈال رہا تھا کہ "عالمی ادب کے اردو تراجم" کا گروپ میری نظروں سے گزرا ۔ میں اُن دنوں کالم نویسی، افسانے، مضامین اور اپنے ذاتی ماہنامہ کی ادارت سے فارغ ہو کر ادب بیزاری کے دن گزار رہا تھا، فیس بک میرے لئے ایک اجنبی میڈیا تھا اور میں ہفتوں اس سے بے خبر رہتا تھا پڑھنے کو کچھ نیا دستیاب نہ تھا لکھنے کو نیا سوجھتا نہ تھا ۔ عالمی ادب کے اردو تراجم کا گروپ میری نظروں سے گزرا تو میں یہاں کچھ دیر رُک گیا،پندرہ بیس منٹ کے مطالعہ سے ہی محسوس ہوا کہ یہاں کچھ سنجیدہ اور معیاری کام ہورہا ہے ۔پھر میں نے اس گروپ کا گہرا مطالعہ شروع کیا، ادب کی مختلف اصناف کا جائزہ لیا تو مجھے عالمی ادب کے افسانوں کے تراجم نے بے حد متاثر کیا ۔چند افسانے پڑھے تو مجھے نہ صرف تراجم کا معیار پسند آیا بلکہ میں نے دیکھا کہ گروپ کے ممبران کا ادبی ذوق انتہائی بلند ہے اور وہ افسانوں کے تراجم پر صحت مند تبصرے کر رہے ہیں ۔ یہاں دوسرے کئی گروپس کی طرح فرسودہ اور غیر معیاری زبان استعمال نہیں ہو رہی تھی اور ادب کا ایک سنجیدہ حلقہ پروان چڑھ رہا تھا۔ گروپ کا یہ سارا حسن گروپ ایڈمن کے برتاؤ سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ گروپ ایڈمن، گروپ کے اس فطری بہاؤ پر اثر انداز ہوئے بغیر خاموشی سے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور کسی ممبر یا قلمکار کو کوئی دشواری پیش نہیں آرہی ۔ میں نے اس گروپ میں ٹھہرنے کا فیصلہ کیا ۔ آج اس واقعہ کو تین برس ہو چلے ہیں میں نے کسی دوسرے ادبی گروپ کا ممبر بننے کی بات تو دور رہی، کسی گروپ میں جھانک کر بھی نہیں دیکھا کہ لوگ کیا کر رہے ہیں، اس لئے کہ مجھے خوب اندازہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ادبی گروپس کن "دانشوروں" کے ہاتھوں میں ہیں ۔ میں نے اس گروپ میں لکھنے کا آغاز کیا تو اپنی چند ابتدائی تحریروں سے ہی مجھے ممبران کا اعتماد حاصل ہوگیا اور مجھے یہاں ایسی محبت ملی، جس نے میرے ایسے پاؤں باندھے کہ میں اس گروپ سے کہیں اور جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ یہاں اپنائیت ہے اور ادب کا بہت معیاری ماحول ہے، یہاں اجنبیت نہیں ہے، یہاں ایڈمن ہاتھ میں دانشوری کا ڈنڈا تھامے ایڈمنسٹریٹر بن کر نہیں بیٹھے۔ یہ گروپ اس وقت ڈیڑھ لاکھ مسافروں کے ساتھ اپنے سفر پر رواں دواں ہے ۔ دیگر گروپس میں آپ احباب نے بھی نوٹ کیا ہوگا کہ ایڈمن حضرات کی اپنی تحریروں اور تصویروں کی بھر مار نظر آتی ہے اور کسی مخصوص طبقہ کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے ۔ اس گروپ میں مجھے ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی ایڈمن یاسر حبیب ناموری کی خاطر اپنی تحریریں تو در کنار، کسی پوسٹ پر کمنٹ کی مداخلت تک کرنے نہیں آتے، لیکن ایسا بھی نہیں کہ انہوں نے گروپ کو آزاد چھوڑ دیا ہے وہ اپنی مخصوص طبع کے ساتھ ہر وقت گروپ کے ساتھ نظر آتے ہیں اور دن میں کئی بار پیج اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں ۔ کبھی بھولے سے کوئی پوسٹ لگا دیں تو ہاؤس فُل جاتی ہے ۔
دسمبر اکتیس کے ساتھ ہی سن 2020ء اختتام کو پہنچ رہا ہے اور سن 2021ء کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔ میرا دل چاہا کہ میں سالِ گذشتہ پر ایک نظر پھر سے ڈالوں اور دیکھوں کہ اس گروپ میں کس طرح کا کام ہوا ہے اور ہم نے کیا کچھ سیکھا یا حاصل کیا ہے ۔ویسے تو گروپ میں سالِ گذشتہ عالمی افسانوں اور شاعری کے تراجم کے علاوہ اقتباسات، ناولوں پر تبصرے، اقوال ، مضامین اور ادبی کتب کی تشہیر پر لکھا اور پڑھا گیا ہے لیکن میں ذاتی طور پر اس گروپ کو عالمی ادب کے افسانوں، ناولوں اور شاعری کے تراجم کے حوالے سے جانتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ یہی اس کی اثاث ہے اور یہ گروپ اسی بنیاد پر کھڑا ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ بیشتر ممبران بشمول ایڈمن، میرے اس خیال سے متفق بھی ہوں گے چنانچہ میں بیشتر افسانوں کے تراجم پر ہی اظہار خیال کو ترجیح دوں گا۔
افسانوں کے تراجم کے حوالے سے گروپ میں 2020ء کا آغاز 5 جنوری کو افسانہ نمبر 277، کیتھرائن مینسفیلڈ کے افسانے "گڑیا گھر" سے ہوا جس کا ترجمہ ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی کے قلم کا شاہکار ہے اور سال 2020ء کا اب تک کا آخری افسانہ ، افسانہ نگار ایڈگر کریٹ کا افسانہ " ٹوپی والا نظری فریب " ہے جس کا ترجمہ قیصر نذیر خاور نے کامیابی سے کیا ہے اور یہ اس گروپ کا 349 واں افسانہ ہے، یوں سن 2020ء میں کُل 72 افسانوں کے تراجم پیش کئے گئے ہیں یہ ایک حیرت انگیز تعداد ہے جس سے گروپ کے فعال اور مقبول ہونے کا اندازہ با آسانی لگایا جاسکتا ہے۔ اگر ہم سال کو 54 ہفتوں پر شمار کریں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہفتے سے بھی کم مدت میں ایک افسانہ شائقینِ ادب کے لئے پیش کیا گیا ہے ۔ اِن تمام افسانوں کے مترجمین گروپ کے وہ مستقل ترجمہ نگار ہیں جن پر گروپ کی عمارت کھڑی ہے ۔
گروپ میں جن عالمی ادیبوں اور شاعروں کے افسانے،نظمیں، اقتباسات، ناولوں پر تبصرے اور اقوال کثرت سے پیش کئے گئے ان میں کافکا، پابلو نیرودا ،پائلو کوئلہو ،خلیل جبران، لیو ٹالسٹائی، چیخوف، میکسم گورکی،اورحان پامک، رومی، شیلے، گیبریل مارکیز، ہرمن ہیسے، شیکسپیئر، گوئٹے، ایٹس، کیٹ شوپن، رسول حمزہ توف، اور بورخیس کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اسی طرح گبریل مارکیز کے شہرہ آفاق ناول " تنہائی کے سو سال"، ماریو پوژو کے ناول " گاڈ فادر"، اور خالد حسینی کے ناول " کائٹ رنر" ، خلیل جبران کے " ٹوٹے ہوئے پر" ، پاولو کوئلہو کے شہرہ آفاق ناول " الکیمسٹ " گورکی کا شاہکار ناول " ماں"، رسول حمزہ توف کی سوانح عمری "میرا داغستان" اور ٹالسٹائی کے ناول "جنگ اور امن " پر سب سے زیادہ تبصرے پوسٹ ہوئے ۔ترک مصنف اورحان پاموک کے ناول "سرخ میرا نام" پر بھی دل کھول کر پوسٹیں لگائی گئیں۔ گروپ میں اہم عالمی ادبی خبریں، شخصیات اور مختلف ادبی ایوارڈز وغیرہ کی تفصیلات بھی فراہم کی گئیں۔
2020ء میں اس گروپ کے لئے سب سے زیادہ افسانے قیصر نذیر خاور صاحب نے ترجمہ کئے ان کے تیرہ افسانے سال کی فہرست میں شامل ہیں، متعدد افسانچے الگ، گویا انہوں نے ہر ماہ ایک افسانہ ترجمہ کیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھ جیسے ہر افسانہ پسند آدمی کو ان کا ممنون ہونا چاہئے کہ کسی مشقت اور ڈاک خرچ کے بغیر گھر کے دروازے پر اتنے افسانے پڑھنے کو مل گئے اُن کے تراجم کے معیار کے لئے یہی کہہ دینا کافی ہوگا کہ جو مترجم سال میں تیرہ بھاری بھرکم افسانے، متعدد افسانچے اور مضامین لکھتا ہے اس کے قلم میں کسقدر روانی در آئی ہوگی اور بلاشبہ یہ روانی اُن کے ترجم میں واضح نظر بھی آتی ہے۔
ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی کے افسانوی تراجم کی تعداد دوسرے نمبر پر رہی انہوں نے اس سال نو بھرپور افسانوں کے ترجمے پیش کئے یہ قابلِ تحسین عمل ہے اپنے روز مرہ سے ادب پڑھنے والوں کے لئے اتنا وقت نکالنا اور پھر ترجمے جیسے مشکل فن سے نبرد آزما ہونا قابل تحسین ہے ڈاکٹر صاحبہ کا ایک مخصوص رنگ ہے جو اُن کی ہر کہانی میں نظر آتا ہے اُن کی کہانیوں کا انتخاب بھی بہت عمدہ ہے جو اُن کے ذوق کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے جو افسانہ منتخب کیا اسے خوبصورتی کے ساتھ اردو قالب میں ڈھالا ۔ گروپ میں اُن کے پڑھنے اور اگلے افسانے کا انتظار کرنے والوں میں مَیں بھی شامل ہوں۔
گروپ کی معتبر ترجمہ نگار رومانیہ نور نے آر کے نارائن، او ہنری، کیٹ شوپن کے افسانوں اور عالمی شعری ادب کا بہترین انتخاب پیش کرتے ہوئے فنِ ترجمہ نگاری کا حق ادا کیا ۔ میں نے گروپ میں اپنی آمد کے ابتدائی دنوں کا ضمناً جو ذکر کیا ہے تو اُن دنوں رومانیہ نور کے چند ابتدائی تراجم ہی میری نظروں سے گزرے تھے۔ ان کے تراجم کا اب تک کا پورا سفر میرے سامنے ہے ۔ میں نے بہت کم تراجم ایسے پڑھے ہیں جن میں زبان کی ایسی چاشنی پیدا کی گئی ہو جو میں نے ان کے تراجم میں محسوس کی ہے ، پھر ان کے تراجم پر قارئین کے تبصروں میں بڑی علمی اور ادبی گفتگو کی جاتی ہے جو اس گروپ کے ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ رومانیہ نور کا کام گروپ میں انفرادی طور پر سب سے زیادہ ہے ان کے آٹھ افسانے، بارہ خوبصورت نظمیں اور چھ اقتباسات مجھے نظر آئے ہیں ان سب تراجم کا معیار یکساں بلند ہے اور وہ اب تک سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مترجم ہیں۔ ترجمے کا فن کچھ ایسا آسان نہیں کہ آپ ایک صفحے سے انگریزی متن پڑھتے جائیں اور دوسرے صفحے پر ترجمہ گھسیٹتے چلے جائیں، اصل متن میں اگر اوہنری جیسا قلمکار، جس کے اسلوب میں جابجا پیچیدگیاں نظر آتی ہوں اور ایٹس اور بکاؤسکی جیسا گنجلک دماغ شاعر بیٹھا نظر آئے تو مکمل اعتماد کے ساتھ گروپ کے ڈیڑھ لاکھ قارئین کے سامنے اُس کا ترجمہ پیش کر دینا حوصلے کا کام ہے ۔ تحسین کی یہ چند سطریں اُن کا حق ہے ۔
شوکت نواز نیازی فنِ ترجمہ کا بڑا معتبر حوالہ ہے وہ غالباً چند ناولوں کے تراجم میں مصروف رہے تاہم انہوں نے فرانسیسی ناول نگار رہنے گوسینی کے ناول سے بڑے تسلسل کے ساتھ اقتباسات کی مکمل سیریز ترجمہ کی یہ منفرد اور دلچسپ اقتباس ہیں جن میں ترجمے کی خوبصورتی نمایاں نظر آتی ہے
عقیلہ منصور جدون صاحبہ نے سالِ گذشتہ سات افسانے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ جواہر لال نہرو کے خطوط، جو انہوں نے اپنی بیٹی اندرا گاندھی کو لکھے تھے، کے منفرد تراجم بھی پڑھنے والوں کو دیئے یہ تاریخی اعتبار سے اہم خطوط تھے اور ان کے تراجم کا معیار، زبان و بیان بہت عمدہ تھا میں اِن خطوط سے بہت متاثر ہوا ہوں ۔ جدون صاحبہ گروپ کی فعال رکن ہیں ۔
مقبول ملک صاحب نے ہیرمان ہیسے کی یاد تازہ کی اور خوب تازہ کی، ان کے ناولوں سے درجنوں اقتباسات کا جرمن زبان سے براہ راست ترجمہ پیش کیا، ترجموں کو عنوان دیئے، علاوہ ازیں انہوں نے جرمن ادب سے تین خوبصورت افسانے بھی قارئین تک پہنچائے ملک صاحب کی جرمن زبان پر دسترس اور اردو ادب ہر عمیق نگاہ ہے اور یہ بات ان کے تراجم کی روانی سے بہت واضح ہوتی ہے ۔ملک صاحب نے گوئٹے اور کافکا کے متعدد پیچیدہ اقتباسات کا بڑی مہارت سے ترجمہ پیش کیا جو اُن کے نام کی طرح خاصے مقبول رہے ۔میں نے جب جب گروپ کی سیاحت کی، مجھے مقبول ملک ضرور نظر آئے خدا معلوم سوتے میں بھی ہیرمان ہیسے پڑھتے ہوں گے۔
سید سعید نقوی نے ناولوں کے باب پوسٹ کیے. جن میں ٹونی موریسن کا "دلاری"، اسماعیل کدارے کا دو نیم اپریل، جان اسٹین بیک کا "اشتعال کی فصل"، وغیرہ شامل ہیں. سید سعید نقوی فنِ ترجمہ کا بہت معتبر حوالہ ہے کیا خوب زبان لکھتے ہیں، میں نے ان کے ترجم سے زبان کا بہت لطف اُٹھایا۔
نود خان صاحب اور یونس فرانسس نظموں کے تراجم کے حوالے سے بڑے اہم نام ہیں مجھے ان کے انتخاب اور ترجمے کا معیار دونوں ہی اعلی نظر آئے ہیں۔ نود خان کا انتخاب بڑا منفرد ہے اور انہیں نظم کو ترجمہ کرنے میں خاصی سہولت نظر آتی ہے ایک مخصوص وقفہ کے بعد ایک عمدہ نظم لے کر حاضر ہوتے ہیں
شگفتہ شاہ صاحبہ نے تین افسانے ترجمہ کرنے کے علاوہ نارویجن ادب اور زبان پر خاصے دلچسپ مضامین اور تبصرے کئے اُن کے تراجم کی خاص بات یہ تھی کہ وہ براہ راست نارویجن زبان سے ترجمہ کئے گئے تھے ۔میں نے ان کے تراجم پڑھ کر یہ محسوس کیا کہ وہ دونوں زبانوں پر مکمل عبور رکھتی ہیں ۔ اسی طرح نصر ملک نے ڈینش ادب سے براہ راست تین کہانیاں ترجمہ کیں ۔ اِس حوالے سے عالمی ادب کے اس گروپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں انگریزی زبان کے علاوہ دیگر یورپی زبانوں کے ادب سے براہ راست ترجمے پوسٹ کئے گئے ۔ جو ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کے ترجمان تھے ۔ اسماء حسین اور دور دراز شکاگو سے عبدالقیوم خالد کی تین تین کہانیاں بھی اس گروپ کا حصہ ہیں ۔
ان تمام قلم کاروں، مترجمین اور پوسٹ نگاروں میں ایک نام علیحدہ نظر آتا ہے یہ اس گروپ کے سائبان کی طرح لگتے ہیں، شوکت تھانوی کے بقول یہ لوگ چلتی پھرتی ڈکشنری کی طرح ہوتے ہیں، جو اگر کچھ نہ بھی کہیں تو لوگ ان سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ یہ ابراہیم رنگلا صاحب ہیں اور ان کے بارے میں مَیں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا
گروپ کے ایک اور تھکے ہارے قلم کار منیرفراز کے چھ سات ماڑے چنگے مضامین بھی اس سال کے ادبی اثاثے میں شامل ہیں ۔
گروپ کے مترجمین نجم الدین احمد اور مقبول ملک کے لائیو انٹرویو، جو دعا عظیمی نے خوش اسلوبی سے کئے، اور ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی سے ام ماریہ حق کی لائیو گفتگو بھی اس گروپ کا حصہ ہے ۔علاوہ ازیں صائمہ اسحاق نے گروپ کے ترجمہ شدہ متعدد افسانوں کی آڈیو ویڈیو تیار کیں جن میں صوتی آھنگ بہت نمایا رہا ۔ محترمہ صفیہ کوثر قلم قبیلے کا محترم نام ہے انہوں نے اس گروپ میں ترجمہ کی گئی شاعری کی آڈیوز تیار کیں جو میرے سننے میں آیا ہے کہ ادب دوست ان آڈیوز کو دورانِ سفر سن کر حظ اٹھاتے ہیں یہ سب حوالے اس گروپ کی انفرادیت ہیں ۔
مقبول ملک، شوکت نواز نیازی، نجم الدین احمد، قیصر نذیر خاور،عبدالقیوم خالد، رومانیہ نور، عقیلہ منصور جدون،ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی ، شگفتہ شاہ، نصر ملک، اسماء حسین، احمد بلال، یونسس فرانس، احمد سہیل یہ اس گروپ کے وہ نام ہیں جو گروپ میں سب سے زیادہ فعال ہیں ۔ آپ جس وقت گروپ کا پیج کھولتے ہیں، ان قلمکاروں کی پوسٹ آپ کے سامنے آجاتی ہے ۔ علینا بتول نے ناول "فرشتے اور شیطان" کا قسط وار ترجمہ بھی پیش کیا ہے۔
احمد بلال، نجیب الرحمن، ہنضلہ خلیق، شمس اللہ خان، منظر چوہدری، نائلہ جبیں، ماجد اقبال چوہدری، صوفیہ کاشف، فرمان اللہ اور شمس اللہ خان کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں یہ تمام پوسٹ نگار مستقل اور سنجیدگی کے ساتھ اس گروپ کا اہم حصہ رہے ہیں بلخصوص احمد بلال اور نجیب الرحمن کا کام بڑا معیاری اور تعداد میں نسبتاً زیادہ نظر آتا ہے۔اگر سال بھر کی انفرادی پوسٹ کی تعداد دیکھی جائے تو شاید احمد بلال کا نام سرِفہرست ہوگا ۔ ایک نام مہہ خان کا ہے جن کا تلفظ ادا کرنے سے قاصر ہوں کہ وہ انگریزی میں Mahh Khan لکھ رہی ہیں،ان کا انتخاب اور ترجمہ بھی اعلی معیار کا حامل ہے ۔دانش مرزا پی ڈی ایف فائلیں طلب اور تقسیم کرتے نظر آتے رہے یہ بھی خاصہ مشقت طلب کام ہے
گروپ کے قارئین اس گروپ کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں ان کا ذوق اور ادب میں دلچسپی قابل تحسین ہے ادب کے بہت کم گروپ ایسے ہیں جنہیں اس قدر مخلص اور سنجیدہ پڑھنے والوں کا اعتماد حاصل ہے مجھے گروپ میں اپنے پورے کیریئر میں ایک کمنٹ بھی ایسا نظر نہیں آیا جسے ناشائستہ یا غیر معیاری کہا جاسکتا ہو وہ ہر اچھی پوسٹ پر رائے کا اظہار کرتے ہیں تنقیدی پہلوؤں پر سیر حاصل تبصرے کرتے ہیں ۔ میں اس کا سارا کریڈٹ اول ایڈمن یاسر حبیب کو اور پھر گروپ کے قلمکاروں کو دوں گا جو اپنی پوسٹ پر سنجیدگی کے ساتھ حاضر رہتے ہیں بالخصوص رومانیہ نور اور مقبول ملک اپنی پوسٹ پر ہر سوال کا انتہائی خلوص سے جواب دینے کے لئے ہمہ وقت پوسٹ پر مصروف نظر آتے ہیں۔
سال 2020ء کے آخری مہینوں سے تا حال، گروپ میں ایک واضح تبدیلی بھی رونما ہوئی اور وہ یہ کہ چھوٹے چھوٹے پیراگراف، چند سطروں کے تراجم، انتخاب اور ٹائپنگ کی پوسٹ تواتر سے پوسٹ ہونے لگیں اس دوران کئی نئے نام بھی سامنے آئے اور ممبران نے، کم خرچ بالا نشین کے اصول کے تحت ان مختصر ترجمہ کی حامل پوسٹس میں دلچسپی لینا شروع کی، لکھنے والوں میں سے کئی ایک نے اپنے ہنر کے زور پر معیاری، اور کئی احباب نے گوگل ٹرانسلیٹر پر انحصار کرتے ہوئے غیر معیاری ترجمے بھی پوسٹ کرنا شروع کئے اس ضمن میں کئی ایک اقتباس دو چار لفظوں کے ردو بدل سے کئی ترجمہ نگاروں نے اپنے نام سے پوسٹ کئے اس کا ایک نقصان گروپ کے مستقل افسانہ مترجمین کو یہ ہوا کہ پڑھنے والوں کا رجحان کم سطروں کے تراجم کی طرف ہوتا چلا گیا۔ ظاہر ہے یہ ایک وقتی لہر ہے اور گروپ کو اپنے فطری راستے پر ہی سفر کرنا ہے ۔
عالمی ادب کے اردو تراجم کا یہ گروپ سن 2021ء میں داخل ہورہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ سالِ رواں میں بھی اپنی سابقہ روایات کی پاسداری کرے گا، ایڈمن یاسر حبیب اپنی عمدہ روایتی صلاحیتوں کا مظاہرہ یوں ہی جاری رکھیں گے، گروپ کے مترجمین بڑے عالمی ادب کی کھوج اور اپنی صلاحیتوں کے عمدہ مظاہرہ کے لئے تیار ہوں گے، مختصر اقتباسات کے شوقیہ ترجمہ نگار مزید آگے بڑھیں گے اور سب سے اہم یہ کہ قارئین اپنے سابقہ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے دلچسپی سے تراجم پر اظہار رائے پیش کریں گے اور یوں یہ گروپ عالمی ادب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہر ادب پرور کے ذوق کی تسکین کرتے ہوئے سب سے نمایاں نظر آئے گا ۔ اور جب 2021ء کے اختتام پر کوئی اور منیرفراز اس سال کی کارکردگی پر تبصرہ لکھنے بیٹھے گا تو اسے یہ گروپ سن 2020ء سے بہتر نظر آئے گا ۔
سالِ نو مبارک


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2974999956063851

جواب چھوڑیں