"باغبان" از: رابندر ناتھ ٹیگور اے عورت…

"باغبان"

از: رابندر ناتھ ٹیگور

اے عورت ! تو صرف خدا ہی کی صنعت نہیں بلکہ انسانوں کی بھی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے دلوں سے تجھے حسن بخشتے رہتے ہیں۔ شاعرِ تخیل زریں کے تاروں سے تیرے لیے نقاب بنتے رہتے ہیں، مصور ہمیشہ تیرے پیکر کو بقائے تازہ دیتے رہتے ہیں۔

سمندر اپنے موتی دیتا ہے، کانیں اپنا سونا، باغ اپنے پھول۔ تجھے آراستہ کرنے کے لیے، تجھے پہنانے کے لیے۔ تجھے زیادہ قیمتی بنانے کے لیے۔

انسانوں کے دل کی آرزو نے اپنے جلوے سے تیرے شباب کو منور کر دیا ہے۔

تو نصف عورت ہے اور نصف خواب۔

او حسن مجسم! تو پیکر سنگیں کی شکل میں زندگی کے ہجوم و شور کے درمیان خاموش و ساکن، تنہا و جدا کھڑی ہے۔

وقت عظیم تیرے قدموں میں مہبوت بنا بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے:

" بول مجھ سے! بول پیاری! بول میری دلہن! "

لیکن اے غیر متحرک حسن! تیری تقدیر پتھر میں مقید ہے۔

–رابندر ناتھ ٹیگور
اردو قالب: نامعلوم


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2975179226045924

جواب چھوڑیں