کتاب کا نام: Sophie's World مصنف…

کتاب کا نام: Sophie's World
مصنف: Jostein Gaarder
اردو ترجمہ بنام: سوفی کی دنیا
ترجمہ: شاہد حمید
صفحات: 671
قیمت: 1500
پبلشر: بک کارنر جہلم
رابطہ (وٹس ایپ): 03144440882

" اس کتاب کا مصنف جوسٹین گارڈ ناروے کا رہنے والا ہے۔ ناول نگاری کے کوچے میں قدم رکھنے سے پہلے وہ گیارہ سال تک ایک ہائی سکول میں فلسفہ پڑھاتا رہا تھا۔ فلسفہ پڑھانا اور وہ بھی ہائی سکول کے طلبہ کو۔ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ ایک تو خود پڑھانے والے کو فلسفے سے دلی لگاو ہو چاہیے تاکہ موضوع کی غرض و غایت اور تمام باریکیاں اس کی نظر میں ہوں۔ دوسرے اپنے علم کو دوسروں تک اس طرح منتقل کرنے پر قادر ہو کہ یہ نکتہ ان کی سمجھ میں آ جائے۔ یہ بہت دشوار ہے۔ اس کے لیے بیان کی شگفتگی ضروری ہے۔ فلسفہ اگر ٹھیک طرح اور دل چسپ انداز میں نہ پڑھایا جائے تو طالب علم بیزار اور متنفر ہو جائیں گے۔ گارڈ نے جس آسان اور عام فہم پیرائے میں دقیق فلسفیانہ مباحث کو عام قارئین تک پہنچایا ہے، اس سے ہم یہ قیاس کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ بہت اچھا استاد رہا ہوگا۔
بہر حال " سوفی کی دنیا" کے نام سے جو ناول اس نے تحریر کیا، وہ ناروے میں بہت مقبول ہوا۔ ابھی اس کا ترجمہ بھی نہ ہوا تھا کہ اس کا چرچا دنیا بھر میں ہونے لگا ( ناروی زبان میں پہلی بار 1991 میں شائع ہوا اور اسی سال میں نے لندن کے سنڈے ٹائمز میں اس پر تبصرہ پڑھا تھا) اندازہ ہے کہ اب تک درجنوں زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ ( ان میں چینی ، ترکی، کوریائی اور تھائی زبانیں بھی شامل ہیں۔ تھائی ترجمے کی افتتاحی تقریب میں تو ناروے کی وزیر اعظم بنفس نفیس شریک ہوئی تھیں) یہی نہیں، اکثر ملکوں میں اس کا ترجمہ بہترین فروخت ہونے والی کتابوں کی فہرست میں شامل ہے۔ ( انگریزی ترجمہ پہلے 1994 میں امریکا میں اور پھر 1995 میں انگلستان میں شائع ہوا۔ صرف انگلستان میں جنوری 1995 سے جولائی 1995 تک مجلد صورت میں اس کے بارہ ایڈیشن چھپ چکے تھے۔ 1996 میں سستا ایڈیشن منظر عام پر آیا اور ابھی تک بہترین بکنے والی کتابوں کی فہرست میں شامل ہے)۔ "
نوٹ: یہ تحریر کتاب کے شروع میں " پیش لفظ " کے عنوان سے شائع دیپاچہ سے لی گئی ہے۔

" ایک غیر معمولی کامیابی !"
(سنڈے ٹائمز)
"سب سے پہلے فلسفے کی ابتدائی کتاب کے متعلق سوچیں جو سکول کے کسی استاد نے لکھی ہو ۔۔۔ پھر ایک تصوراتی ناول کے بارے میں سوچیں؛ جام جمشید کی طرز پر کوئی جدید شکل۔ اب ان دو بے جوڑ چیزوں کو آپس میں ملائیں۔ آپ کو کیا ملے گا؟ ایک غیر متوقع بیسٹ سیلر ۔۔۔ ایک قابو میں نہ آنے والی ہٹ چیز۔۔۔۔ ایک ٹو ڈی فورس!"
(ٹائم)
"اس ناول کی علمی گہرائی ، اس کی معلومات اور اس کے بالکل اچھوتے خیال نے اسے بے پناہ مقناطیسی قوت دے دی ہے ۔۔۔ مکمل انسان بننے کے لیے اور خود کو 3000 سال کی فلسفیانہ کاوشوں سے جوڑے رکھنے کے لیے ، ہمیں اپنے آپ کو سوفی کی دنیا میں لے کرجانا پڑے گا۔ "
(بوسٹن سنڈے گلوب)
"اس ناول کی سب سے قابل تعریف بات اس کا سیدھا سادہ انداز بیان ہے۔ فلسفہ جیسے خشک موضوع کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ہر بات آسانی سے دل میں اتر جاتی ہے۔ فلسفے کی تاریخ کے بارے میں یہ ناول فرانس میں پاگل پن کی حد تک مقبول ہوا اور آج پورے یورپ کا پسندیدہ ناول ہے۔ "
(دی واشنگٹن پوسٹ بک ورلڈ)
"یہ ایک انوکھی اور نادر کتاب ہے۔ سقراط سے سارتر تک کے نظریات کا نچوڑ، ایک ایسی گولی جو شہد اور دودھ کے مرکب سے بنائی گئی ہے۔ ایک بار پڑھنا شروع کرنے کےبعد اسے آسانی سے ایک طرف ڈال دینا آپ کے بس کی بات نہیں۔"
(نیویارک نیوز ڈے)
"ایک بھرپور کتاب!
اس کتاب کی کامیابی کی وجہ ایک سادہ سا نکتہ : گارڈ کی قاری تک خیالات پہنچانے کی قدرتی صلاحیت "
(گارڈین)
"نوے کی دہائی کا 'ایلس اِن ونڈرلینڈ'۔۔۔ سوفی کی دنیا کو پہلے ہی سٹیفن ہاکنگ کی کتاب ' وقت کی مختصر تاریخ' کا فلسفیانہ جواب کہا چکا ہے۔۔۔۔ آسان لفظوں میں، یہ ایک حیرت انگیر، اپنے اندر کھینچ لینے والی کتاب ہے۔ "
(روزنامہ ٹیلی گراف)
"شاندار۔۔۔ جوسٹین گارڈ نے 3000 سالوں کے خیالات کو 700 صفحات میں سمو دیا ہے۔ نہایت پیچیدہ مسائل کو غیر اہم کیے بغیر، آسان کردینا، سوفی کی دنیا کی شاندار کامیابی ہے!"
(سنڈے ٹائم)
"پر فریب اور اچھوتا ۔۔۔ سوفی کی دنیا عجیب اور حیرت انگیز کتاب ہونے کا دعوی کرتی ہے، یہ واقعتا ہے۔ "
(ٹی ایل ایس)
"شدید پر لطف اور تصوراتی کہانی جو کتاب کے سخت، خیال انگریز فلسفیانہ قلب کے گرد لپیٹی گئی ہے۔"
(ڈیلی میل )
"خیال افزا، معلوماتی اور مشکل خیالات کو سوچنے کے آسان اور قابل تقلید طریقوں سے بھرا ہوا۔ "
(انڈیپنڈنٹ)
"سوفی کی دنیا ایک منفرد مشہور کلاسیک بننے کو ہے: خوب صوررتی سے اپنے آپ میں مگن کر لینے والی ایک کہانی، جو فلسفے اور فلسفیوں کا ایک آسان فہم تعارف بھی ہے۔"
(داٹائمز)
"جوسٹین کے زیرک ہاتھوں میں، پورے تین ہزار سال کا مغربی فلسفہ ایک گپی کالم کی طرح چونچال ہوگیا ہے۔۔۔ درجہ اول کی ادبی جادوگری !"
(فورٹ ورتھ سٹار۔ ٹیلی گرام)


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2975608966002950

جواب چھوڑیں