عشق کے اصول اور ایک دل پذیر ناول عالم کے ہاتھ میں…

عشق کے اصول اور ایک دل پذیر ناول
عالم کے ہاتھ میں کتابیں تھیں، وہ ایک حوض کنارے کھڑا تھا۔ مطمئن و مسرور۔
اور تب ایک درویش منظر میں آتا ہے، اور اس سے سوال کرتا ہے: یہ کیا ہے؟
اور عالم، عالمانہ ڈھب پر، جس میں احساس تفاخر بھی گندھا ہے، جواب دیتا ہے: یہ علم ہے۔
درویش کتابیں چھین کر حوض میں پھینک دیتا ہے۔
پلوں میں اوراق بھیگ جاتے ہیں، ان پر لکھے الفاظ بے معنی ہوئے، سیاہی ضایع ہوگئی۔ اور علم بہہ گیا۔
عالم غم زدہ، متوحش اپنے علم کی سیاہی کو مٹتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ وہ گریہ کرتا ہے، درویش سے شکوہ کرتا ہے کہ تم نے میری برسوں کی محنت برباد کر دی ۔ ۔ ۔ میرا علم ضایع کر دیا۔
اور تب درویش حوض سے وہ کتابیں اٹھا کر عالم کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے۔ اور عالم کو یہ پرسرار ادراک ہوتا ہے کہ وہ کتابوں جوں کی توں ہیں ۔ ۔ ۔ خشک ہیں، ان کے اوراق پر پانی کا ایک قطرہ نہیں، ہر لفظ محفوظ ہے،
یوں جیسے کبھی انھیں پانی نے چھوا بھی نہ ہو۔
اور تب عالم متحیر، متذبذب، مبہوت ہو کر سوال کرتا ہے: یہ کیا ہے؟
اور تب درویش جواب دیتا ہے: یہ علم ہے۔
جانتے ہوئے بھکشوؤ، وہ دونوں کون تھے؟
بدھا یہاں تک پہنچ کر خاموش ہوگیا۔
اور وہ اب تک خاموش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایلف شفق کا تعلق ترکی کی زرخیز ادبی زمین سے ہے، جس نے دنیائے ادب کو اورحان پامک جیسا نابغہ روزگار نوبیل انعام یافتہ ادیب دیا، جس کے ناول” مائی نیم از ریڈ “کو ماسٹر پیس تصور کیا جاتا ہے۔

ایلف شفق کے ناول ”دی فورٹی رولز آف لو“ پر تبصرے سے قبل اورحان پامک، بالخصوص 1998 میں شایع ہونے والے ”مائی نیم از ریڈ“ کا تذکرہ بے سبب نہیں کہ اپنی تکنیک کی حد تک ایلف شفق اِس انوکھے ناول سے بے حد متاثر نظر آتی ہیں ۔ اس میں بھی صغیہ واحد متکلم میں کہانی بیان کی گئی ہے۔
البتہ 2009 میں شایع ہونے والے اِس ناول کا موازنہ اورحان پامک کے ماسٹر پیس سے یوں نہیں کیا جاسکتا کہ اورحان نے ایک شاہکار لٹریری ناول لکھا ہے اور ایلف شفق کی تخلیق کے لیے پاپولر ناول کی کیٹیگری زیادہ موزوں ہے۔
یہاں ایلف کے ناول کو، جس نے ایک بڑے طبقے کو گرویدہ بنا رکھا ہے، پاپولر ٹھہرا کر اس کی حیثیت کم کرنا مقصود نہیں ۔ عالمی ادب کا پاپولر فکشن ہمارے پاپولر فکشن سے نہ صرف کئی دہائیوں آگے ہے، بلکہ اپنا اعتبار بھی قائم کر چکا ہے۔
دنیا بھر میں پاپولر ادب میں ایسے حیران کن اور دل چسپ تجربات کیے جارہے ہیں کہ پڑھنے والا ششدر رہ جائے۔ چاہے یہ ڈین براﺅن کا ”دی ڈی ونچی کوڈ “ہو، نیوکلس اسپارک کا” نوٹ بک“ یا پاﺅلا ہاوکینز کی” دی گرل آن ٹرین“۔ دی ”فورٹی رولز آف لو‘‘ جس کامعیاری ترجمہ ہماانور نے ”چالیس چراغ عشق کے“ کے زیر عنوان کیا، ایک ایسا ہی ناول ہے، جس کے پس پردہ مطالعہ بھی ہے، تحقیق بھی، تجربہ بھی اور مشقت بھی۔ ورنہ اس ناول کو اتنی مقبولیت نصیب ہونا ممکن نہ تھا۔
ادب عالیہ کے قارئین اکثر اُن پاپولر ناولز سے متعلق متذبذب دکھائی دیتے ہیں، جنھیں دنیا بھر میں دیوانگی کے ساتھ پڑھا جائے کہ آیا وہ انھیں پڑھیں یا نہ پڑھیں، اس کی ایک بڑی مثال پاﺅلو کوئیلو کا ناول الکیمسٹ ہے۔
راقم الحروف کو ایلف شفق کے اس مشہور زمانہ ناول سے متعلق یہی الجھن درپیش تھی۔ البتہ اس کے ابتدائی ابواب کے مطالعے کے بعد اندیشے زائل ہوئے، اور اس کا دل پذیر موضوع اور ایلف کی تکنیک غالب آگئی۔
ناول میں شمس تبریز اورمولانا رومی کے بے بدل تعلق کو عشق کے چالیس اصولوں میں گوندھ کر پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں شمس اور مولانا رومی کی کہانی کے ساتھ ساتھ عہد حاضر کا ایک پلاٹ بھی چل رہا ہے، جس میں مرکزی کردار ایلا ایک غیر معروف ادیب اے زی ظہارا کا رومی اور شمس سے متعلق تحریر کردہ ناول پڑھ رہی ہے۔ ہمارے سامنے مرکزی کردار کے زیر مطالعہ ناول ہی کے ابواب وقفے وقفے سے آتے ہیں۔
اپنی پراثر تکنیک، دل پذیر موضوع اور بے پناہ مقبولیت کے باعث اگر قاری کو اِسے پڑھنے یا چھوڑ دینے کے مابین فیصلہ کرنا ہو، تو موزوں یہی ہے کہ اسے پڑھ لیا جائے۔ قاری کو، بالخصوص مشرقی اور اسلامی پس منظر رکھنے والے قاری کو قطعی مایوسی نہیں ہوگی۔
اگر ادب عالیہ پڑھنے والے کئی سنجیدہ قلم کارخود کو اس کا گرویدہ پاتے ہیں، تو یہ بے سبب نہیں۔ ایک جانب جہاں یہ اردو پاپولر ناولز میں مذہبی، اساطیری اور جذباتی علامتوں کے بے دریغ استعمال سے پاک ہے، وہی یہ تصوف کے چند لطیف احساسات کو کامیابی سے بیان کرنے کا مرحلہ بھی طے کر گیا ہے۔
یہ ترجمہ جمہوری پبلی کیشنز نے معیاری ڈھب پر، پورے اہتمام کے ساتھ شایع کیا ہے، قیمت اور پیش کش میں توازن۔ فرخ سہیل گوئندی کو سلام ۔ ۔ ۔ جس تسلسل سے وہ ترکی کا معیاری ادب ہم تک پہنچا رہے ہیں، وہ قابل تعریف ہے۔
اس ناول کے دیگر تراجم بھی ہیں، مگر ہمارا مشورہ کہ قاری یہی منتخب کرے۔ اس میں عشق کے اصول رچے بسے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھکشوؤ، جانتے ہو وہ دونوں کون تھے؟
بدھا نے سوال کیا۔
بھکشوؤں خاموش اور منتظر تھے۔ ان میں مہاکیشپ بھی تھا اور آنند بھی۔ اور کہیں پرے، بہت پیچھے سبھوتی بھی موجود تھا۔
بدھا نے پھر سوال کیا: جانتے ہو، وہ دونوں کون تھے؟
اور پھر وہ جواب دیتا ہے۔
اور پرندے زمین پر اتر آتے ہیں۔
پیڑ جھک کر اسے سنتے ہیں۔
بدھا کہتا ہے: بھکشوؤ ۔ ۔ ۔ وہ میں تھا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقبال خورشید


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2974042159492964

جواب چھوڑیں