یومِ وفات بیگم عطیہ فیضی January 04, 1967 برِ صغ…

یومِ وفات بیگم عطیہ فیضی
January 04, 1967

برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت
(ولادت: 1 اگست 1877ء – وفات: 4 جنوری 1967ء)
…….
عطیہ فیضی کون تھی؟
ماھرالقادری
یہ تین بہنیں تھیں۔ سب سے بڑی نازی بیگم، ان سے چھوٹی زہرا بیگم اور آخری عطیہ بیگم۔ صرف عطیہ نے اپنا نام اپنے خاندانی لقب فیضی کی نسبت سے عطیہ فیضی رکھا۔ ان کے والد علی حسن آفندی کا تعلق ایک عرب نژاد خاندان سے تھا جو اپنے ایک بزرگ فیض حیدر کے نام کی نسبت سے فیضی کہلاتا تھا۔ یہ لوگ تجارت پیشہ تھے اور تجارتی کاموں کے سلسلے میں بمبئی سے لے کر کاٹھیاواڑ تک پھیل گئے تھے۔ عرب، ترکی اور عراق کے عمائد اور عوام سے بھی تعلقات تھے۔ اس خاندان میں علم وادب کا چرچا تھا۔ عطیہ کبھی کبھی دعویٰ کیا کرتی تھیں کہ ان کا خاندان ترکی النسل ہے لیکن عام طور پر انھیں عرب نژاد ہی خیال کیا جاتا تھا۔
نازی بیگم: علی حسن آفندی کی سب سے بڑی بیٹی عطیہ فیضی سے نو سال بڑی تھیں۔ یہ بھی استنبول میں ۱۸۷۲ء کو پیدا ہوئیں۔ نازی بیگم نے ترکی کے اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں تعلیم حاصل کی۔ ان کو ترکی، انگریزی، عربی اور فارسی میں اچھی دستگاہ حاصل تھی۔ بعد میں انھوں نے گجراتی اور اُردو زبان میں بھی مہارت پیدا کر لی۔ ابھی ۱۳ برس کی تھیں کہ ان کی شادی بمبئی کے قریب واقع ایک چھوٹی سی ریاست جنجیرہ کے نواب سرسیدی احمد خاں سے کر دی گئی۔
سرسیدی احمد خاں کے اجداد حبشہ (ایتھیوپیا) کے ساحل پر آباد تھے۔ وہاں سے نقل مکانی کر کے یہ بمبئی آئے اور جنجیرہ کے جزیرے میں آباد ہو گئے۔ بعد میں وہ اس جزیرے کے حکمران بن گئے۔ یہ تحقیق نہیں ہو سکی کہ یہ خاندان جنجیرہ میں کب آباد ہوا اور کب وہاں ان کی حکمرانی قائم ہوئی۔ سسرال میں نازی بیگم کو رفیعہ سلطان کا لقب دیا گیا اور وہ ہر ہائی نس نازی رفیعہ سلطان آف جنجیرہ کہلائیں۔ اپنے حسنِ عمل کی بدولت یہ جزیرے میں کافی ہر دل عزیز تھیں۔ ان کو علم و ادب سے گہرا لگائو تھا اور وہ اربابِ علم کی بے حد قدر دان تھیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی شہرہ آفاق تصنیف سیرت النبیﷺ کی تیاری میں ان کی تحریک اور اعانت بھی شامل تھی۔ مولانا نے اس کا کافی حصہ جنجیرہ کی پر سکون فضا میں رہ کر مکمل کیا۔
سفرِ یورپ کے دوران نازی بیگم کو علامہ اقبال اور کئی دوسرے مشاہیر سے بھی ملاقات کا موقع ملا۔ علامہ اقبال ان کی علمی وجاہت سے بہت متاثر ہوئے اور یہ شعر ان کی نذر کیے:
اے کہ تیرے آستانے پر جبیں گستر قمر
اور فیضِ آستاں بوسی سے گل برسر قمر
روشنی لے کر تیری موجِ غبارِ راہ سے
دیتا ہے ایلائے شب کو نور کی چادر قمر
نازی بیگم نے شبلی نعمانی کی میزبانی کے علاوہ کئی بار علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، قائد اعظم محمد علی جناح، مسز سروجنی نائیڈو اور ملک کے متعدد دوسرے نامور اربابِ علم اور اہل سیاست کی میزبانی کا شرف بھی حاصل کیا۔ بقول نازی بیگم قائد اعظم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جنجیرہ آ کر بہت آرام اور سکون ملتا ہے۔ وہ جنجیرہ میں اپنا بیشتر وقت محل سے ملحق باغ میں گزارا کرتے تھے۔
عطیہ فیضی نے بھی اپنی بہنوں کی طرح استنبول میں اعلیٰ تعلیم پائی اور ترکی، عربی، فارسی، انگریزی، اُردو اور گجراتی میں اچھی استعداد بہم پہنچائی۔ ان کی بڑی بہن نازی بیگم کی شادی ۱۸۸۵ء میں نواب جنجیرہ (بمبئی) سے ہوئی تو یہ بھی ان کے ساتھ جنجیرہ میں رہنے لگیں۔ عطیہ اپنے والدین کی بہت لاڈلی تھیں اور سب بہنوں میں زیادہ شوخ وچنچل بھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ بڑی ذہین و فطین اور علم و ادب کی شیدائی بھی تھیں۔ جنجیرہ ایک پُر فضا جزیرہ تھا۔
نازی بیگم کی دعوت پر ملک کے بڑے بڑے اہلِ سیاست اور اربابِ علم کی یہاں آمد آمد ہوئی ان میں مولاناشبلی نعمانی بھی شامل تھے۔ ان کو عطیہ کی ذہانت، علم وادب سے شغف اور دوسرے اوصاف نے بے حد متاثرکیا اور وہ ان کے مداح بن گئے۔ عطیہ بھی شبلی نعمانی کی بہت قدر دان تھیں۔ ان کے درمیان خط وکتابت بھی ہوتی رہتی تھی۔ جس میں بے تکلفی کا ایک مخصوص رنگ پایا جاتا تھا۔ بالخصوص مولانا شبلی کے خطوں میں، بعض اصحاب نے اس بے تکلفی کو کوئی اور رنگ دینے کی کوشش کی ہے لیکن یہ بے تکلفی ہمیشہ ایک حد کے اندر رہی اور عطیہ ہمیشہ انھیں (شبلی کو) عزت کا ایک مقام دیتی رہیں۔
۱۹۰۳ء میں عطیہ کی شادی ایک عالمی شہرت یافتہ مصور رحیمن (رحمین) سے ہوئی۔ وہ یہودی نژاد تھے لیکن مسلمان ہو گئے تھے۔ یہ ڈاکٹر فیضی رحیمن کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی بنائی ہوئی تصویریں دنیا کے مختلف عجائب گھروں اور آرٹ گیلریوں کی زینت رہیں۔ ہندوستان میں پیدا ہوئے لیکن تعلیم و تربیت یورپ میں ہوئی۔ وہیں مصوری، افسانہ نگاری اور مضمون نویسی میں شہرت حاصل کی۔ وہاں سے اچانک ہندوستان آ گئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔
قیام پاکستان کے بعد نازی بیگم اور عطیہ فیضی کے ساتھ یہ پاکستان آ گئے اور کراچی میں مستقل اقامت اختیار کی۔ کراچی میں ان کی زندگی کے آخری چند سال بڑی پریشانیوں میں گزرے اس کی کچھ تفصیل آگے آئے گی۔ بعض لوگوں نے اس شادی پر اعتراض کیا، شبلی نعمانی کو خبر ہوئی تو انھوںنے یہ شعر کہے:
عطیہ کی شادی پہ کسی نے نکتہ چینی کی
کہا میں نے جاہل ہے یا احمق ہے یا ناداں ہے
بتانِ ہند کافر کر لیا کرتے تھے مسلم کو
عطیہ کی بدولت آج اک کافر مسلماں ہے
مولانا شبلی نے ایک مرتبہ قیامِ جنجیرہ کے دوران عطیہ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کہے:
کسی کو یاں خدا کی جستجو ہو گی تو کیوں ہو گی
خیالِ روزہ و فکرِ وضو ہو گی تو کیوں ہو گی
ہوائے روح پرور بھی یہاں کی نشہ آور ہے
یہاں فکرِ مے وجام و سبو ہو گی تو کیوں ہو گی
کہاں یہ لطف، یہ سبزہ یہ منظر یہ بہارستان
عطیہ تم کو یادِ لکھنو ہو گی تو کیوں ہو گی
اور جب ان کو لکھنو میں جنجیرہ کی یاد ستاتی تو کہتے:
یاد میں صحبت ہائے رنگیں جو جزیرے میں ہیں
وہ جزیرے کی زمین تھی یا کوئی مے خانہ تھا
۷،۱۹۰۶ء میں نازی بیگم اپنے شوہر اور دوسرے اہل خاندان کے ساتھ یورپ گئیں تو عطیہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ انگلستان میںان کی علامہ اقبال سے خوب ملاقاتیں رہیں اور ابنِ عربی کے فلسفۂ تصوف پر طویل مباحث ہوتے (علامہ اس وقت بسلسلۂ تعلیم انگلستان میںتھے) علامہ اقبال عطیہ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کو راز دار بنا لیا۔ اپنے ذاتی حالات اور ذہنی کیفیات تک سے ان کو آگاہ کرتے تھے اور اپنا کلام بھی انھیں بھیجتے تھے۔ اقبال کے خطوط عطیہ بیگم کے نام طبع ہو چکے ہیں۔
ان کو دیکھ کر دونوں کے باہمی روابط کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ عطیہ فیضی بڑی خوبیوں کی مالک تھیں لیکن فی الحقیقت ان کو ملک گیر شہرت مولانا شبلی کی شاعری اور علامہ اقبال کے قلم نے عطا کی اور وہ برصغیر کی نامور خواتین میں شمار ہوئیں۔ ماہر القادری نے عطیہ سے بعض ذاتی ملاقاتوں اور ان مجالس کا کچھ احوال بھی لکھا ہے جو عطیہ کے خصوصی ذوق اور خود ان کے رونقِ محفل ہونے کی وجہ سے منعقد ہوئیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے آخری ایام کی دھندلی سی ایک تصویر ہمیں دکھاتے ہیںجس سے پتا چلتا ہے کہ دھوپ چھائوں کا کھیل بھی کیا کھیل ہے۔ لکھتے ہیں:
’’یہ قصہ نشاطیہ تو ہے ہی مگر کسی حد تک المیہ (ٹریجڈی) بھی ہے۔ شبلی نعمانی کے تذکرے میں عطیہ فیضی کا نام آتا ہے۔ مولانا شبلی نعمانی سے مجھے بے انتہا محبت بھی ہے اور عقیدت بھی۔ اسی نسبت اور تعلق کے سبب عطیہ فیضی کے نام سے میں بہت دنوں سے واقف تھا۔ فنون لطیفہ سے عطیہ کو جو خاص شغف تھا اس کے تذکرے بھی لوگوں کی زبانی سنے تھے۔‘‘

Death anniversary of Begum Donation Faizi
January 04, 1967

Famous academic, literary and social personality of the subcontinent.
(Born: August 1, 1877-Death: January 4, 1967)
…….
Who was Donation Faizi?
Maharul Qadri
These were three sisters. The oldest Nazi Begum, her younger Zahra Begum and the last Donation Begum. Only Donation named her name as Donation Faizi in the name of her family title Faizi. Her father Ali Hassan Afandi belongs to an Arab-born family. He was known as Faizi by the name of one of his elder Faiz Haider. These people were trade professionals and spread from Bombay to Kathiawad for trade works. They also had relations with the leaders of Arab, Turkey and Iraq and the people. The family was discussed about knowledge. Donations sometimes claimed that their family was Turkish but they were usually considered Arabian.
Nazi Begum: Ali Hassan Afandi's oldest daughter was nine years older than Donation Faizi. She was also born in Istanbul on 1872 Nazi Begum studied in higher educational institutions in Turkey. She was in Turkey, English, Arabic. And Persian had a good place. Later he also skills in Gujarati and Urdu language. He was just 13 years old that he was married to Nawab Sarsidi Ahmed Khan of a small state near Bombay. Gave up.
Sarsidi Ahmed Khan's ancestors were settled on the coast of Habshah (Ethiopia). From there they came to Bombay and settled in the island of Janjeera. Later they became rulers of the island. It could not be investigated that it was. When did the family of Janjeera settled and when did they rule there. In her in-laws, Nazi Begum was given the title of Rafiah Sultan and she was called every high Nazi Rafiah Sultan of Janjeera. Because of her good deeds, she is very dear to the island. He was deeply attached with knowledge and literature and he was highly appreciated by the Arbabs of knowledge. Maulana Shibli Nomani's preparation of the city of Afaq book of the Prophet (P.B.U.H) was also included in his movement and support. Maulana had a lot of part of it. Completed by staying in the relaxed atmosphere.
During her trip to Europe, Nazi Begum also got the opportunity to meet Allama Iqbal and many other mushaheers. Allama Iqbal was very impressed with her knowledge and presented this poetry to her:
O ' the moon is on your arrows.
And Gul Barsar Qamar from Faiz-e-Astan Bosi
Taking light from your waves of dust
The moon gives the sheet of light in the night.
Nazi Begum has also received the honor of hosting Allama Iqbal, Maulana Muhammad Ali Johar, Maulana Shaukat Ali, Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah, Mrs. Sarojini Naidu and many other renowned Arbabs of the country and the people of politics. According to Nazi Begum Quaid-e-Azam, Quaid-e-Azam used to tell her that I feel very relaxed and relaxed after coming to Janjira. She used to spend most of her time in the garden adjacent
Diana Faizi also received a higher education in Istanbul like her sisters and gave a good strength in Turkey, Arabic, Persian, English, Urdu and Gujarati. Her elder sister Nazi Begum's wedding in 1885 with Nawab Janjeera (Bombay). So they also lived with them in Janjeera. Donation was very dear to her parents and the most vibrant of all sisters. Along with this, she was very intelligent and a lover of knowledge and literature. Jinjeera is a full atmosphere The island was.
On the invitation of Nazi Begum, the country's great politicians and the Arbabs of knowledge came here. Among them, Maulana Shabli Naomani was also affected by the intelligence of donation, knowledge and other qualities and she became their fans. Gay. Donations were also very appreciative of Shibli Naomani. There was also a letter and Viktabat between them. In which a specific color of frankly was found. Especially in the letters of Maulana Shibli, some of the companions of this frankly someone else. Tried to give color but this frankly has always been within a limit and donation has always given them (Shibli) a place of respect.
In 1903, Donation was married to a world renowned painter Rahimin (Rahimin). He was a Jewish origin but became a Muslim. He was famous as Dr. Faizi Rahimin. His pictures were made in different museums of the world. And the art galleries remain adorned. Born in India but education and training happened in Europe. There got fame in painting, fiction and essay. Suddenly came to India from there and then happened here.
After the establishment of Pakistan, she came to Pakistan with Nazi Begum and Dhya Faizi and took a permanent place in Karachi. Some details of her last few years of her life in Karachi will come forward. Some people at this wedding. What an objection? When Shibli Nomani came to know, he said this poetry:
Someone made a point on the wedding of Donation.
Said I'm ignorant or foolish or stupid
Tell me India, they used to make Muslims infidels.
Due to donation, today an infidel is a Muslim.
Maulana Shibli once addressed the donation during the establishment of Janjira and said these poems:
If someone is searching for God, then why will it happen?
If the thought of fasting and thinking of ablution is there then why will it happen?
Oh the soul of the soul is also addicted here.
If there will be a lot of worries here, then why will it happen?
Where is this joy, this greenery, this scene, this spring
If you have to remember the donation, then why will it be?
And when they remember Jinjira in Lucknow, they would say:
Memory of the colours in the island.
Was it an island land or a house
In 7,1906, when Nazi Begum went to Europe with her husband and other family, Donation was also with her. In England, she had a great meeting with Allama Iqbal and had long discussions about the philosophy of Sufism of Ibn Arabic (Allama at this time, Basilsal Education) He was in England) Allama Iqbal was so impressed by the donation that he was made a secret. He used to inform him about his personal circumstances and mental feelings and also sent his words to him. Iqbal's letters have been published to Donation Begum. Are.
By looking at them, the interaction of the two can be assumed. Although Donation Faizi was the owner of great virtues, but in fact, he was given nationwide fame by Maulana Shibli's poetry and the pen of Allama Iqbal and he was among the famous women of the subcontinent. Counted down. The expert of Qadri has also written some of the personal meetings with donation and some of the committees that were held due to the special taste of donation and their own radiant gathering and a blurry picture of their last days. Let us show what a game of sunshine and shades is. Writes:
′′ This story is a nishatia but also a tragedy to some extent. In the mention of Shibli Nomani, the name of Donation Faizi is known. I have extreme love and devotion to Maulana Shibli Nomani. For the same connection and relationship. Because I've known for a long time in the name of Donation Faizi. The people have also heard the mention of the donation from the arts of the arts

Translated


جواب چھوڑیں