روف طاہر : کمال کی شخصیت – سلمان عابد

میں جب ماحول میں تیری کمی محسوس کرتا ہوں
تھکی آنکھوں کے پردے میں نمی محسوس کرتا ہوں

روف طاہر کیا کمال کا فرد تھا، یقین کرنے کو دل ہی نہیں کرتا کہ وہ ہم سب کو چھوڑ گیا ہے۔ آج صبح جب ان کے انتقال کی خبر ملی تو ایسے لگا جیسے کسی نے جان ہی نکال لی ہو۔ اگرچہ یہ دنیا عارضی ہے اور مجھ سمیت سب نے جانا ہے لیکن روف طاہر اتنی جلدی یہ بھرا میلہ اور دوستوں کی ایک نہ ختم ہونے والی محفل کو چھوڑ جائے گا یہ یقین نہیں تھا۔ روف طاہر نے کئی دہائیاں پاکستانی صحافت کو دی اور دائیں بازو کی نظریاتی محاذ پر ایک مضبوط سوچ اور فکر کے ساتھ آخری سانس تک قائم رہے۔ جس بات کو وہ سچ سمجھتے تو اس کو سچ ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس کافی دلائل ہوتے اور اپنا مقدمہ تاریخی حوالوں سے پیش کرنے کا فن خوب جانتے تھے۔

وہ پاکستانی سیاست اور گزری سیاسی تاریخ کا عملا ایک انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے۔ کمال کی ان کی یاداشت تھی اور سیاسی واقعات کو وہ بڑی دلچسپی کے ساتھ نہ سرف سناتے بلکہ سنانے کا ملکہ اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ہنر بھی رکھتے تھے۔ جمہوریت، اسلام، پاکستان سے ان کی محبت جنون کی مانند تھی۔ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور جہاں کوئی پاکستان یا اسلام مخالف بات کرتا تو روف طاہر ایک سپاہی کے طور پر پیش ہوکر اپنا مدلل مقدمہ پیش کرتے۔ وہ ایک سیاسی سوچ رکھتے تھے اور ان کے بقول کوئی بھی صحافی غیر جانبدار نہیں ہوتا اور وہ اپنی اس سیاسی سوچ کے ساتھ ہی ہمیشہ جرات اور بہادری کے ساتھ لکھتے رہے۔ لوگ ان پر تنقید بھی کرتے تو مسکرادیتے تھے۔ محفل میں کسی سے کوئی تلخی ہوتی تو محفل کے بعد خود سامنے آکر ایسی بات کہہ دیتے جو محفل اور دوست دونوں کو دوبارہ زندگی میں لے آتی۔ کیونکہ وہ ایک مجلسی آدمی تھے تو مجلس سے دور رہنا ان کا شیوہ نہیں تھا۔

’’جمہورنامہ ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے اور کیا خوب لکھتے۔ تجزیہ، تبصرہ اور معلومات کا شہکار ہوتا تھا۔ عمومی طور پر اپنی بات کرنے کے لیے وہ مختلف واقعات کو بنیاد بنا تے تھے۔ نواب زادہ نصر اللہ مرحوم کی مجلس کا ان پر کافی گہرا اثر تھا یعنی سنجیدہ سے سنجیدہ محفل کو بھی آسان بنانے کا سلیقہ بھی روف طاہر کے پاس ہوتا تھا۔ ہر طبقہ فکر کے لوگوں سے ان کی نیازمندی اوردوستی تھی۔ دوستی بھی وہ کمال کی رکھتے تھے یعنی لوگوں کو بھولنے کی بجائے ان کو ہمیشہ یاد کرواتے تھے کہ ہمیں ملنا تھا یا ملنا ہے کہاں گم ہوگئے ہو۔ اگرچہ ان کا اپنا مخصوص نکتہ نظر تھا لیکن دوسروں کے نکتہ نظر پر بھی ان میں احترام کا رشتہ موجود تھا اور یہ ہی ان کی شخصیت کا کمال تھا کہ وہ ہر مجلس اور ہر فرد کے قریب پائے جاتے تھے۔ کیونکہ وہ بنیادی طور پر انسان دوست تھے۔ سادگی، عاجزی، ملنساری، محبت اور تعلقات کو نبھانا ان کی بڑی خوبی تھی۔

میری ان سے پہلی ملاقات اپنے گھر والد مرحوم عبدالکریم عابد کے ساتھ ہوئی تھی۔ وہ اکثر گھر آتے تو کئی گھنٹے والد صاحب کے ساتھ بات چیت میں گزراتے تو بہت کچھ ان سے سیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ جب وہ پاکستان سے جدہ چلے گئے تو ان سے کسی نہ کسی شکل میں فون پر رابطہ بھی رہتا اور جب پاکستان چھٹیوں پر آتے تو ان سے خوب محفل بھی لگتی تھی۔ تاثیر مصطفے، تنویر شہزاد، سہیل راجہ ریاض، ڈاکٹر مغیث الدین شیخ مرحوم، افتخار مجاز مرحوم، میجر ارج زکریا، رانا فاروق، سلمان غنی کے ساتھ خوب محفل لگتی اور کئی کئی گھنٹوں بحث و مباحثہ رہتا۔ وہ الطاف حسن قریشی کے پائنا اور سی این اے کے مستقل رکن تھے۔ محفل میں ہمیشہ آنا اور وقت پر آنا ان کی خوبی تھی۔ ہفت روزہ زندگی، روزنامہ جسارت، نوائے وقت، جنگ اور اب دنیا سے منسلک تھے۔ وہ میڈیا کے استاد بھی تھے اور مختلف یونیورسٹیوں میں میڈیا کے طالب علموں کو باقاعدگی سے پڑھایا بھی کرتے تھے۔ وفات سے قبل وہ آن لائن کلاس ہی لے رہے تھے کہ طبیعت بگڑی اور راستے میں ہی تھے کہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ انااللہ واعلیہ راجعون۔

روف طاہر بہت ہی سادہ، نفیس اور ملنسار فرد تھے۔ جب بھی ان سے ملاقات ہوتی تو اگلی ملاقات کا طے ہوتا تھا۔ وہ اکثر تاثیر مصطفے کے ساتھ میرے دفتر آتے تو ہم مل کر دوپہر کا کھانا کھاتے اورخوب مجلس سجاتے تھے۔ مجیب شامی، سجاد میر، الطاف حسن قریشی، سعود ساحر مرحوم، حفیظ اللہ نیازی، ڈاکٹر سلیم مظہر، ڈاکٹر امان اللہ، ڈاکٹر ممتاز انور، غلام مصطفے میرانی سے ان کی کمال کی دوستی تھی۔ جب بھی میری ان سے ملاقات ہوتی تو اس محفل میں وہ میرے والد کا نام ضرور لیتے اور کہتے کہ وہ کیا کمال کے آدمی تھے اور ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا جو آج ہماری صحافت میں کام آرہا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ سے اپنے سفر کا آغاٖز کیا اور بہاونگر سے لاہور کے ہوکر رہ گئے، مطالعہ کے آدمی تھے اور ہمیشہ نئی سے نئی کتب ان کے مطالعہ میں ہوتی تھی۔ سیاسی تحریکوں کو اپنے سامنے دیکھا اور اس پر خوب نظر رکھتے تھے اور اس سیاسی تاریخ کے زبانی تاریخ دان تھے۔

روف طاہر نے ایک مشکل زندگی گزاری اور ہر مشکل میں ثابت قدم رہے کہیں بھی جھول نہیں کھایا اور اپنے نظریاتی محاذ پر ڈٹے رہے۔ وہ بہت اچھے مقرر اور کمال کے میزبان تھے۔ کھانے کا بھی کمال زوق رکھتے تھے۔ اکثر ہم جب ملتے تو مچھلی ضرور کھاتے اور میٹھا بھی کھانے کا شوق رکھتے تھے۔ چند برس قبل ان کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا تو کافی اداس رہتے تھے ان کے بقول ان کی اہلیہ نے ان کے مشکل وقت میں خوب ساتھ دیا اور اگر وہ نہ ہوتی تو زندگی کا یہ مشکل سفر اور مشکل ہوجاتا۔

روف طاہر ان لوگوں میں سے تھے جو میرے ساتھ نہ صرف مسلسل رابطے میں تھے بلکہ میری تحریروں کی خوب حوصلہ افزائی کرتے اور کبھی کبھی میرے خیال پر تنقید بھی کرتے تو اس میں محبت کا پہلو نمایاں ہوتا تھا۔ میرے والد کے شاگرد ہونے کے ناطے میرے لیے ان کے بارے میں اور زیادہ احترام کا رشتہ تھا جو ہمیشہ قائم ہی رہا۔ کئی مجالس میں وہ اور میں اکھٹے مقرر ہوتے تو میزبان سے گزارش کرتے کہ مجھے سلمان سے پہلے بات کرنی ہے۔ میں اس پر برا مانتا تو کہتے جو میں نے کہنا ہے وہ تم مجھ سے پہلے کہہ دو گے۔

نواز شریف کا ساتھ بھی انہوں نے خوب نبھایا۔ مشکل وقت میں بھی وہ نواز شریف کے ساتھ ہی کھڑے رہے۔ جدہ میں نواز شریف کے روف طاہر بہت قریب تھے اور ان کی نواز شریف سے جدہ میں مجلس بھی خوب جمتی تھی۔ فوج کی سیاسی مداخلت کے خلاف تھے اور فوج کے بارے میں ان کا جہاں احترام کا رشتہ تھا وہیں ان کے سیاسی خیالات کے ناقد بھی تھے۔ اپنی زندگی کے آخری چند برسوں میں ہم نے ان کو اس شہر میں جمہوریت کے بڑے وکیل کے طور پر دیکھا اور انہوں نے اس کا مقدمہ اپنی تحریروں اور گفتگو سے بھی خوب لڑا۔ ان کا انداز ایک ایسے نکتہ ور دانش ور کا تھا جو ہمیشہ اپنی گفتگو میں کئی نکات کو اٹھاتا تاکہ گفتگو کو آگے بڑھنے کے مزید نکات مل سکیں۔ ان کی ایک خوبی نئی نسل کی مکمل حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ وہ اپنے طالب عملوں کو عملی مشورے بھی دیتے اور مستبقل کے تناظر میں آگے بڑھنے کا راستہ بھی۔ بالخصوص وہ ہر وقت مطالعہ کی نصیحت ضرور کرتے کیونکہ ان کا موقف تھا کہ مطالعہ کے بغیر مکالمہ کی حیثیت بہت کمزور رہ جاتی ہے۔

بحرحال ان کی محض یادیں ہیں جو وہ ہمیں چھوڑ گئے ہیں اور وہ تمام مجالس بھی ان کی عدم موجودگی میں ان کے نہ ہونے کا احساس دیتی رہیں گی کیونکہ وہ واقعی بہت پیارے انسان تھے اور دوست بھی ایسا جس پر مجھ سمیت سب ہی فخر کرسکتے ہیں۔ واقعی یہ دنیا عارضی ہے اور حتمی زندگی وہ ہی ہے جہاں روف طاہر چلا گیا ہے۔ اللہ تعالی اس کی مغفرت کرے اور اس کے درجات بلند کرے آمین۔ روف طاہر تم ہمیشہ یاد آو گے اپنی خووصورت شخصیت کے ساتھ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔ بقول شاعر
شہر میں ایک چراغ تھا نہ رہا
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں