عالمی ادب کے اردو تراجم [انتخاب افسانہ] افسانہ نم…

عالمی ادب کے اردو تراجم [انتخاب افسانہ] افسانہ نمبر 85 : چیلیں
تحریر: بھیشم ساہنی [ہندوستان] ہندی سے ترجمہ: انعام ندیم

چیل نے پھر سے جھپٹا مارا ہے۔ اوپر، آسمان میں منڈلارہی تھی۔ جب اچانک، نیم دائرہ بناتی ہوئی تیزی سے نیچے اتری اور ایک جھپٹے میں ، گوشت کے لوتھڑے کو پنجوں میں دبوچ کر پھر سے ویسا ہی نیم دائرہ بناتی ہوئی اوپر چلی گئی۔ وہ قبرگاہ کے اونچے مینارے پر جابیٹھی ہے اور اپنی پیلی چونچ، گوشت کے لوتھڑے میں بار بار گاڑنے لگی ہے۔
قبرگاہ کے اردگرد دور تک پھیلے پارک میں ہلکی ہلکی دھند پھیلی ہے۔ ماحول میں سایا سا ڈول رہا ہے۔ پرانی قبرگاہ کے کھنڈر جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں۔ اس دھندلکے میں اس کا گول گنبد اور بھی زیادہ قدیم نظر آرہا ہے۔ یہ مقبرہ کس کا ہے، میں جانتے ہوئے بھی بار بار بھول جاتا ہوں، فضا میں پھیلی دھند کے باوجود، اس گنبد کا سایہ گھاس کے پورے میدان کو ڈھکے ہوئے ہے، جہاں میں بیٹھا ہوں، جس سے ماحول کا سوناپن اور بھی زیادہ بڑھ گیا ہے، اور میں بھی زیادہ اکیلا محسوس کرنے لگا ہوں۔
چیل مینارے پر سے اڑ کر پھر سے آسمان میں منڈلانے لگی ہے، پھر سے نہ جانے کس شکار پر نکلی ہے، اپنی چونچ نیچی کیے، اپنی گہری آنکھیں زمین پر لگائے، پھر سے چکر کاٹنے لگی ہے، مجھے لگنے لگا ہے جیسے اس کے پنجے لمبے ہوتے جارہے ہیں اور اس کا جسم کسی بھیانک جانور کے بدن کی طرح پھولتا جارہا ہے، نہ جانے وہ اپنا نشانہ باندھتی ہوئی کب اترے، کہاں اترے، اسے دیکھتے ہوئے میں خود کو اس سے نبردآزما سا محسوس کرنے لگا ہوں۔
کسی جانکار نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ ہم آسمان میں منڈلاتی چیلوں کو تو دیکھ سکتے ہیں پر انہی کی طرح فضا میں منڈلاتی ان نظر نہ آنے والی چیلوں کو نہیں دیکھ سکتے جو ویسے ہی نیچے اتر کرجھپٹا مارتی ہیں اور ایک جھپٹے میں انسان کو لہولہان کرکے یا تو وہیں پھینک جاتی ہیں، یا اس کی زندگی کی سمت موڑ دیتی ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ جہاں چیل کی آنکھیں اپنے ہدف کو دیکھ کر وار کرتی ہیں ، وہاں وہ نظر نہ آنے والی چیلیں اندھی ہوتی ہیں، اور اندھا دھند حملہ کرتی ہیں۔ انہیں جھپٹا مارتے ہم دیکھ نہیں پاتے اور ہمیں لگنے لگتا ہے کہ جو کچھ بھی ہوا ہے، اس میں ہم خود کہیں مجرم رہے ہوں گے، ہم جو ہر واقعہ کو وجہ کی کسوٹی پر پرکھتے رہے ہیں، ہم سمجھنے لگتے ہیں کہ اپنی تباہی میں ہم خود کہیں ذمہ دار رہے ہوں گے، اس کی باتیں سنتے ہوئے میں اور بھی زیادہ بدحواس محسوس کرنے لگا تھا۔
اس نے کہا تھا، جس دن میری بیوی کا انتقال ہوا، میں اپنے دوستوں کے ساتھ ، برابر والے کمرے میں بیٹھا باتیں کررہا تھا۔ میں سمجھے بیٹھا تھا کہ وہ اندر سورہی ہے۔ میں ایک بار اسے بلانے بھی گیا تھا کہ آؤ باہر آکر ہمارے پاس بیٹھو، مجھے کیا معلوم تھا کہ مجھ سے پہلے ہی کوئی نظر نہ آنے والا حیوان اندر گھس آیا ہے اور اس نے میری بیوی کو اپنی جکڑ میں لے رکھا ہے۔ ہم سارا وقت ان دکھائی نہ دینے والے حیوانوں میں گھرے رہتے ہیں۔
ارے، یہ کیا! شوبھا؟ شوبھا پارک میں آئی ہے! ہاں، ہاں ، شوبھا ہی تو ہے۔ جھاڑیوں کے بیچوں بیچ وہ دھیرے دھیرے ایک طرف بڑھتی ہوئی آرہی ہے، وہ کب یہاں آئی ہے اور کس طرف سے اس کا مجھے پتا ہی نہیں چلا۔
میرے اندر جوار سا اٹھا، میں بہت دن بعد اسے دیکھ رہا تھا۔
شوبھا دبلی ہوگئی ہے۔ تھوڑی جھک کر چلنے لگی ہے، پر اس کی چال میں اب بھی پہلے کی سی دلربائی ہے، وہی دھیمی چال، وہی بانکپن، جس میں اس کی ساری شخصیت کی تصویر جھلکتی ہے، دھیرے دھیرے چلتی ہوئی وہ گھاس کا میدان الانگھ رہی ہے۔ آج بھی بالوں میں سرخ رنگ کا پھول اڑے ہوئے ہے۔
شوبھا، اب بھی تمہارے ہونٹوں پر وہی مہکی سی مسکراہٹ کھیل رہی ہوگی، جسے دیکھتے ہوئے، میں تھکتا نہیں تھا، ہونٹوں کے کونوں میں دبی سمٹی مسکان، ایسی مسکراہٹ تو تبھی ہونٹوں پر کھیل سکتی ہے، جب تمہارے دل میں مافوق الفطرت جذبات کے پھول کھل رہے ہوں۔
من چاہا، بھاگ کر تمہارے پاس پہنچ جاؤں اور پوچھوں شوبھا ۔۔ اب تم کسی ہو؟
بیتے دن کیوں کبھی لوٹ کر نہیں آتے؟ سارا ماضی نہ بھی آئے، ایک دن ہی آجائے، ایک گھڑی ہی، جب میں تمہیں اپنے قریب پاسکوں، تمہاری ساری شخصیت کی مہک سے شرابور ہوسکوں۔
میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس کی طرف جانے لگا، میں جھاڑیوں ، درختوں کے درمیان چھپ کر آگے بڑھونگا تاکہ اس کی نظر مجھ پر نہ پڑے، مجھے ڈر تھا کہ اگر اس نے مجھے دیکھ لیا تو وہ جیسے تیسے قدم بڑھاتی، لمبے لمبے ڈگ بھرتی پارک سے باہر نکل جائے گی۔
زندگی کی یہ ستم ظریفی ہی ہے کہ جہاں عورت سے بڑھ کر کوئی ذی روح کومل نہیں ہوتی، وہاں عورت سے بڑھ کر کوئی ذی روح بے مہر بھی نہیں ہوتی۔ میں کبھی کبھی تعلقات کو لے کر پریشان بھی ہو اٹھتا ہوں۔ کئی بار تمہاری طرف سے میری عزتِ نفس کو دھکا لگ چکا ہے۔
ہمارے شادی کے کچھ ہی وقت بعد تم مجھے اس بات کا احساس کرانے لگی تھیں کہ یہ شادی تماری توقعات کے مطابق نہیں ہوئی ہے اور تمہاری طرف سے ہمارے باہمی تعلقات میں ایک قسم کا ٹھنڈا پن آنے لگا تھا، پر میں ان دنوں تم پر نثار تھا، متوالا بنا گھومتا تھا، ہمارے درمیان کسی بات کو لے کر چخ ہوجاتی، اور تم روٹھ جاتیں ، تو میں تمہیں منانے کی ہر ممکن کوشش کیا کرتا، تمہیں ہنسانے کی، اپنے دونوں کان پکڑ لیتا، کہو تو اوندھا لیٹ کر زمین پر ناک سے لکیریں بھی کھینچ دوں، زبان نکال کر بار بار سر ہلاؤں؟ اور تم، پہلے تو منھ پھلائے میری طرف دیکھتی رہتیں، پھرا اچانک کھلکھلا کر ہنسنے لگتیں، بالکل بچوں کی طرح جیسے تم ہنسا کرتی تھیں اور کہتیں چلو، معاف کردیا۔
اور میں تمہیں باہوں میں بھر لیتا تھا۔ میں تمہاری کھنکتی آواز سنتے نہیں تھکتا تھا، میری آنکھیں تمہارے چہرے پر تمہاری کھلی پیشانی پر لگی رہتی اور میں تمہارے دل کے جذبات پڑھتا رہتا۔
عورت مرد کے تعلقات میں کچھ بھی تو واضح نہیں ہوتا، کچھ بھی تو منطقی نہیں ہوتا، جذبات کی دنیا کے اپنے اصول ہیں یا شاید کوئی بھی اصول نہیں۔
ہمارے درمیان تعلقات کی خلیج چوڑی ہوتی گئی، پھیلتی گئی، تم اکثر کہنے لگی تھیں، مجھے اس شادی میں کیا ملا؟ اور میں جواب میں تنک کر کہتا، "میں نے کون سا ایسا جرم کیا ہے کہ تم سارا وقت منھ پھلائے رہو اور میں سارا وقت تمہاری دلجوئی کرتا رہوں؟ اگر ایک ساتھ رہنا تمہیں خوش نہیں آرہا تھا تو پہلے ہی مجھے چھوڑ جاتیں۔ تم مجھے کیوں نہیں چھوڑ کر چلی گئیں؟ تب نہ تو ہر آئے دن تمہیں الاہنے دینے پڑتے اور نہ ہی مجھے سننے پڑتے۔ اگر گھر میں تم میرے ساتھ گھسٹتی رہتی ہو، تو اس کا قصوروار میں نہیں ہوں، خود تم ہو، تمہاری بے رُخی مجھے جلاتی رہتی ہے، پھر بھی اپنی جگہ اپنے آپ کو مظلوم اور دکھیاری سمجھتی رہتی ہو۔
جی چاہا، میں اس کے پیچھے نہ جاؤں، لوٹ آؤں اور بینچ پر بیٹھ کر اپنے دل کو پُر سکون کروں، کیسی میری من کی حالت ہوگئی ہے، اپنے آپ کو بد دعائیں دیتا ہوں تو بھی بے چین، اور جو تمہیں بد دعائیں دیتا ہوں تو بھی بے قرار، میری سانس پھول رہی تھی، پھر بھی میں تمہاری طرف دیکھتا کھڑا رہا۔
سارا وقت تمہارا منھ تاکتے رہنا، سارا وقت لیپا پوتی کرتے رہنا، اپنے کو ہر بات کے لیے قصوروار قرار دیتے رہنا، میری بہت بڑی بھول تھی۔
پٹری پر سے اتر جانے کے بعد ہماری گھریلو زندگی گھسٹنے لگی تھی۔ پر جہاں شکوے شکایت، کھینچ کھچاؤ اور عدم تحمل ، نکیلے پتھروں کی طرح ہمارے جذبات کو چھیلنے کاٹنے لگے تھے۔ وہیں کبھی کبھی شادی شدہ زندگی کے ابتدائی دنوں جیسی آسان خیر سگالی بھی موجیں مارتے ساگر کے درمیان کسی جھلملاتے جزیرے کی طرح ہماری زندگی میں سکھ کے چند لمحات بھر دیتی۔
پر مجموعی طور پر ہمارے باہمی تعلقات میں سرد مہری آگئی تھی۔ تمہاری مسکراہٹ اپنا جادو کھو بیٹھی تھی، تمہاری کھلی پیشانی کبھی کبھی تنگ لگنے لگتی تھی، اور جس طرح بات سنتے ہوئے تم سامنے کی طرف دیکھتی رہتیں، لگتا تمہارے پلے کچھ بھی نہیں پڑرہا ہے، ناک نقشہ وہی تھا،ا دائیں بھی وہی تھیں، پر ان کا جادو غائب ہوگیا تھا، جب شوبھا آنکھیں مچمچاتی ہے، میں من ہی من کہتا، تو بڑی احمق لگتی ہے۔
میں نے پھر سے نظر اٹھا کر دیکھا، شوبھا نظر نہیں آئی، کیا وہ پھر سے درختوں جھاڑیوں کے درمیان آنکھوں سے اوجھل ہوگئی ہے؟ دیر تک اس طرف دیکھتے رہنے پر بھی جب وہ نظر نہیں آئی، تو میں اُٹھ کھڑا ہوا۔ مجھے لگا جیسے وہ وہاں پر نہیں ہے۔ مجھے جھٹکا سا لگا۔ کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا تھا؟ کیا شوبھا وہاں پر تھی بھی یا مجھے دھوکہ ہوا تھا؟ میں دیر تک آنکھیں گاڑے اس طرف دیکھتا رہا جس طرف وہ مجھے نظر آئی تھی۔
اچانک مجھے پھر سے اس کی جھلک ملی۔ ایسا پہلی بار نہیں ہورہا تھا۔ پہلے بھی وہ آنکھوں سے اوجھل ہوتی رہی تھی، مجھ میں پھر سے ہیجان سا ابھر آیا، ہر بار جب وہ آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی تو میرے اندر اٹھنے والے طرح طرح کے جذبات کے باوجود، پارک پر سونا پن سا اتر آتا، پر اب کی بار اس پر نظر پڑتے ہی دل پریشان سا ہوا تھا، شوبھا پارک میں سے نکل جاتی تو؟
ایک ہیجان میرے اندر پھر سے اٹھا، اسے مل پانے کے لیے دل میں ایسی بے قراری سی اٹھی کہ تمام شکوے شکایت، خس و خاشاک کی طرح اس ہیجان میں بہہ سے گئے۔ تمام دل زدگی بھول گئی، یہ کیسے ہوا کہ شوبھا پھر سے مجھے شادی شدہ زندگی کے پہلے دن والی شوبھا نظر آنے لگی تھی۔ اس کی شخصیت کا سار تیج پھر سے لوٹ آیا تھا اور میرا دل پھر سے بھر آیا۔ دل میں بار بار یہی آواز اٹھتی، میں تمہیں کھو نہیں سکتا، میں تمہیں کبھی کھو نہیں سکتا۔
یہ کیسے ہوا کہ پہلے والے جذبات میرے اندر پورے جوش کے ساتھ پھر سے اٹھنے لگے تھے۔
میں نے پھر سے شوبھا کی طرف قدم بڑھا دیے۔
ہاں، ایک بار میرے ذہن میں سوال ضرور اٹھا، کہیں میں پھر سے اپنے آپ کو دھوکہ تو نہیں دے رہا ہوں؟ کیا معلوم وہ پھر سے مجھے ٹھکرادے؟
پر نہیں، مجھے لگ رہا تھا گویا ازواجی مصیبت اور کشمکش کی وہ ساری مدت چھوٹی تھی، گویا وہ وقت کبھی تھا ہی نہیں، میں برسوں بعد تمہیں انہی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا، جن آنکھوں سے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا۔ میں پھر سے تمہیں بانہوں میں بھر لینے کے لیے بے چین اور بے قرار ہوا اٹھا تھا۔
تم دھیرے دھیرے جھاڑیوں کے درمیان آگے بڑھتی جارہی تھیں۔ تم پہلے کے مقابلے میں دبلی ہوگئیں تھیں اور تم مجھے بڑی معصوم اور اکیلی سی لگ رہی تھیں۔ اب کی بار تم پر نظر پڑتے ہی میرے دل کا سار ولولہ، ریت کے گھروندے کی طرح بھر بھرا کر گر گیا تھا۔ تم اتنی دبلی، اتنی لاچار سی لگ رہی تھیں کہ میں بے چین ہوا تھا اور اپنے آپ کو پٹکارنے لگا تمہارا نازک سا بدن کبھی ایک جھاڑی کے پیچھے تو کبھی دوسری جھاڑی کے پیچھے چھپ جاتا۔ آج بھی تم بالوں میں سُرخ رنگ کا پھول ٹاکنا نہیں بھولی تھیں۔
عورتیں دل سے دکھی اور بے چین ہوتے ہوئے بھی، بن سنور کر رہنا نہیں بھولتیں۔ غمزدہ بھی ہونگی تو بھی صاف ستھرے کپڑے پہن کر، بال سنوار کر، نک سک درست ہو کر باہر نکلیں گی۔ جبکہ مرد، قسمت کا ایک تھپیڑا کھانے پر بھڈا ، بد وضع ہوجاتا ہے۔ بال الجھے ہوئے، منھ پر داڑھی بڑھی ہوئی، کپڑے میلے اور آنکھوں میں ویرانی لیے، بھک منگوں کی طرح گھر سے باہر نکلے گا۔ جن دنوں ہمارے درمیان ناچاکی ہوتی اور تم اپنی قسمت کو کوستی ہوئی گھر سے باہر نکل جاتی تھیں، تب بھی ڈھنگ کے کپڑے پہننا اور چُست درست بن کر جانا نہیں بھولتی تھیں۔ ایسے دنوں میں بھی تم باہر آنگن میں لگے گلاب کے پودے میں سے چھوٹا سا سرخ پھول بالوں میں ٹاکنا نہیں بھولتی تھیں۔ جبکہ میں دن بھر ہانپتا، کسی جانور کی طرح ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں چکر کاٹتا رہتا تھا۔
تمہاری شال تمہارے دائیں کندھے پر سے کھسک گئی تھی اور اس کا سرا زمین پر تمہارے پیچھے گھسٹنے لگا تھا، پر تمہیں اس کا احساس نہیں ہوا کیونکہ تم پہلے ہی کی طرح دھیرے دھیرے چلتی جارہی تھی، کندھے ذرا آگے کو جھکے ہوئے، کندھے پر شال کھسک جانے سے تمہاری سڈول گردن اور زیادہ واضح نظر آنے لگی تھی۔ کیا معلوم تم کن خیالوں میں کھوئی چلی جارہی ہو، کیا معلوم ہمارے بارے میں، ہمارے رشتے اور علیحدگی کے بارے میں ہی سوچ رہی ہو۔ کون جانے میرے پارک میں مل جانے کی امید لے کر تم یہاں چلی آئی ہو، کون جانے تمہارے دل میں بھی ایسی ہی کسک ایسی ہی بے قراری اٹھی ہو، جیسی میرے دل میں، کیا معلوم قسمت ہم دونوں پر مہربان ہوگئی ہو اور نہیں تو میں تمہاری آواز تو سُن پاؤنگا، تمہیں آنکھ بھر کے دیکھ تو پاؤنگا، اگر میں اتنا بے چین ہوں تو تم بھی تو بالکل اکیلی ہو اور نہ جانے کہاں بھٹک رہی ہو۔ آخری بار، تعلق ٹوٹنے سے پہلے تم ایک ٹک میری طرف دیکھتی رہی تھیں، تب تمہاری آنکھیں مجھے بڑی بڑی سی لگی تھیں، پر میں ان کا انداز نہیں سمجھ پایا تھا، تم کیوں میری طرف دیکھ رہی تھی اور کیا سوچ رہی تھی، کیوں نہیں تم نے منھ سے کچھ بھی کہا؟ مجھے لگا تھا تمہاری تمام شکایتیں سمٹ کر تمہاری آنکھوں کے انداز میں آگئی تھیں، تم مجھے بے جان بت جیسی لگی تھیں، اور اس شام گویا تم نے مجھے چھوڑ جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
میں معمول کے مطابق شام کو گھومنے چلا گیا تھا۔ دل اور دماغ پر چاہے کتنا ہی بوجھ ہو، میں اپنا اصول نہیں توڑتا، تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے بعد جب میں گھر واپس لوٹا تو ڈیوڑھی میں قدم رکھتے ہی مجھے اپنا گھر سونا سونا لگا تھا۔ اور اندر جانے پر پتہ چلا کہ تم جاچکی ہو۔ تبھی تمہاری وہ ایک ٹک نظر یاد آئی تھی، میری طرف دیکھتی ہوئی۔
تمہیں گھر میں نہ پاکر پہلے تو میری انا کو دھکا سا لگا تھا، تم جانے سے پہلے نہ جانے کیا سوچتی رہی ہوگی، اپنے من کی بات منھ تک نہیں لائیں، پر جلد ہی اس ویرانے گھر میں بیٹھا میں گویا اپنے سر کو دھننے لگا، گھر بھائیں بھائیں کرنے لگا تھا۔
اب تم دھیرے دھیرے گھاس کے میدان کو چھوڑ کر چوڑی پگڈنڈی پر آگئی تھیں جو مقبرے کا احاطہ کرتی ہوئی پارک کے باہر کی طرف جانے والے راستے سے جا ملتی ہے۔ جلد ہی تم چلتی ہوئی پارک کے دروازے تک جا پہنچو گی اور آنکھوں سے اوجھل ہوجاؤ گی۔
تم مقبرے کے کونے کا چکر کاٹ کر اس چوکور میدان کی طرف جانے لگی ہو جہاں بہت سے بینچ رکھے رہتے ہیں اور بڑی عمر کے تھکے ہارے لوگ سستانے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔
کچھ دور جانے کے بعد تم پھر ٹھٹھکیں تھیں، موڑ آگیا تھا اور موڑ کاٹنے سے پہلے تم نے مڑ کر دیکھا تھا۔ کیا تم میری طرف دیکھ رہی ہو؟ کیا تمہیں اس بات کی آہٹ مل گئی ہے کہ میں پارک میں پہنچا ہوا ہوں اور دھیرے دھیرے تمھارے پیچھے چلا آرہا ہوں؟
کیا سچ مچ اسی وجہ سے ٹھٹھک کر کھڑی ہوگئی ہو۔ اس توقع سے کہ میں بھاگ کر تم سے جاملو نگا؟ کیا یہ میرا بھرم ہی ہے یا تمہارا انسانی حجاب کہ تم چاہتے ہوئے بھی میری طرف قدم نہیں بڑھاؤ گی؟ پر کچھ لمحے تک ٹھٹھک کے رہنے کے بعد تم پھر سے پارک کے پھاٹک کی طرف بڑھنے لگی تھیں۔ میں نے تمہاری جانب قدم بڑھا دیے، مجھے لگا جیسے میرے پاس گنے چنے چند لمحات ہی رہ گئے ہیں۔ جب میں تم سے مل سکتا ہوں، اب نہیں مل پایا تو کبھی نہیں مل پاؤنگا اور نہ جانے کیوں، یہ سوچ کر میرا گلا رندھنے لگا تھا۔
لیکن میں ابھی کچھ ہی قدم آگے کی جانب بڑھا پایا تھا کہ زمین پر کسی بھاگتے سائے نے میرا راستہ کاٹ لیا، لمبا چوڑا سایہ، تیرتا ہوا سا، میرے راستے کو کاٹ کر نکل گیا تھا، میں نے نظر اوپر اٹھائی اور میرا دل بیٹھ گیا۔ چیل ہمارے سر کے اوپر منڈھلائے جارہی تھی۔ کیا یہ چیل ہی ہے؟ پر اس کے پنجے کتنے بڑے ہیں اور پیلی چونچ لمبی ، آگے کو مڑی ہوئی، اور اس کی چھوٹی چھوٹی گہری آنکھوں میں بھیانک سی چمک ہے۔
چیل آسمان میں ہمارے اوپر چکر کاٹنے لگی تھی اور اس کا سایہ بار بار میرا راستہ کاٹ رہا تھا۔ ہائے، یہ کہیں تم پر نہ جھپٹ پڑے، میں بدحواس سا تمہاری طرف دوڑنے لگا، من چاہا، چلا کر تمہیں ہوشیار کردوں، پر پنجے پھیلائے چیل کو منڈلاتا دیکھ کر میں اتنا حواس باختہ ہوا اٹھا تھا کہ منھ میں سے الفاظ نہیں نکل پارہے تھے، میرا گلا سوکھ رہا تھا اور پاؤں بوجھل ہورہے تھے، میں جلدی تم تک پہنچنا چاہتا تھا، مجھے لگا جیسے میں سائے کو الانگھ ہی نہیں پارہا ہوں، چیل ضرور نیچے آنے لگی ہوگی، حواس کا سایہ اتنا پھیلتا جارہا ہے کہ میں اسے الانگھ ہی نہیں سکتا۔
میرے دماغ میں ایک بات بار بار گھوم رہی تھی کہ تمہیں اس منڈ لاتی چیل کے بارے میں ہوشیار کردوں اور تم سے کہوں کہ جتنی جلدی پارک میں نکل سکتی ہو، نکل جاؤ۔
میری سانس دھوکنی کی طرح چلنے لگی تھی، اور منھ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل پا رہا تھا۔
باہر جانے والے دروازے سے تھوڑا ہٹ کر، دائیں ہاتھ ایک اونچا سا مینار ہے جس پر کبھی مقبرے رکھوالی کرنے والا پہرہ دار کھڑا رہتا ہوگا۔ اب وہ مینار بھی ٹوٹی پھوٹی حالت میں ہے۔
جس وقت میں سائے کو الانگھ پانے کی ہر ممکن کوشش کررہا تھا اس وقت مجھے لگا تھا جیسے تم چلتی ہوئی اس مینارے کے پیچھے جا پہنچی ہو۔ لمحہ بھر کے لیے مجھے اس پر یقین سا ہوگیا۔ تمہیں اپنے سر کے اوپر منڈلاتے خطرے کا احساس ہوگیا ہوگا۔ نہ بھی ہُوا ہو ہو تو بھی تم نے باہر نکلنے کا جو راستہ اپنایا تھا، وہ زیادہ محفوظ تھا۔
میں تھک گیا تھا۔ میری سانس بری طرح سے پھولی ہوئی تھی۔ ناچار، میں اسی مینارے کے قریب ایک پتھر پر ہانپتا ہو بیٹھ گیا۔ کچھ بھی میرے بس نہیں رہ گیا تھا لیکن میں سوچ رہا تھا کہ جونہی تم منارے کے پیچھے سے نکل کر سامنے آؤ گی۔ میں چلا کر تمہیں پارک میں سے نکل بھاگنے کو کہوں گا۔ چیل اب بھی سر پر منڈ لائے جارہی تھی۔
تبھی مجھے لگا تم منارے کے پیچھے سے باہر آئی ہو۔ ہوا کے جھونکے سے تمہاری ساڑھی کا پلو اڑ رہا ہے اور اٹھکھیلیاں سی کرتی ہوئی تم سیدھا پھاٹک کی طرف بڑھنے لگی ہو۔
"شوبھا۔۔۔۔ !" میں چلایا۔
لیکن تم بہت آگے بڑھ چکی تھیں۔ تقریباً پھاٹک کے پاس پہنچ چکی تھیں۔ تمہاری ساڑھی کا پلو ابھی بھی ہوا میں پھڑ پھڑا رہا تھا۔ بالوں میں سُرخ پھول بہت کھلا کھلا لگ رہا تھا۔
میں اٹھ کھڑا ہوا اور جیسے تیسے قدم بڑھاتا ہوا تمہاری طرف جانے لگا۔ میں تم سے کہنا چاہتا تھا، اچھا ہوا جو تم چیل کے پنجوں سے بچ کر نکل گئی ہو۔ شوبھا!
پھاٹک کے پاس تم رکی تھیں اور مجھے لگا تھا جیسے میری طرف دیکھ کر مسکرائی ہو اور پھر پیٹھ موڑ لی اور آنکھوں سے اوجھل ہوگئی تھیں۔
میں بھاگتا ہوا پھاٹک کے پاس پہنچا تھا۔ پھاٹک کے پاس میدان میں ہلکی ہلکی دھول اڑ رہی تھی اور پارک میں آنے والے لوگوں کے لیے چوڑا کھلا راستہ بھائیں بھائیں کررہا تھا۔
تم پارک سے صحیح سلامت نکل گئی ہو۔ یہ سوچ کر میں مطمعین سا محسوس کرنے لگا تھا۔ میں نے نظر اٹھا کر اوپر کی طرف دیکھا۔ چیل وہاں پر نہیں تھیں۔ چیل جاچکی تھی۔ آسمان صاف تھا اور ہلکی ہلکی دُھند کے باوجود اس کی نیلاہٹ جیسے لوٹ آئی تھی۔
Written by:
Bhisham Sahni (8 August 1915 – 11 July 2003) was a Hindi writer, playwright, and actor.
نوٹ: اس افسانے کی آڈیو ویڈیو سننے کے لیے اس لنک پر کک کریں۔
https://www.youtube.com/watch?v=uJeIRc3Hmh4


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2054038391493350

جواب چھوڑیں