وہ مجھ سے اتنی محبت جتانے لگتا ہے کبھی کبھی تو م…

وہ مجھ سے اتنی محبت جتانے لگتا ہے
کبھی کبھی تو مجھے خوف آنے لگتا ہے

کچھ اس لئے بھی تو وحشت ہے مجھ کو ساون سے
یہ دل میں یاد کی بیلیں اگانے لگتا ہے

وہ ہر خیال پہ کرتا ہے گفتگو مجھ سے
وفا کی بات پہ پہلو بچانے لگتا ہے

فضا میں اڑتے پرندوں کو جب بھی دیکھتا ہوں
مرے وجود میں کچھ پھڑپھڑانے لگتا ہے

کسی ستم پہ جو دانستہ چپ رہوں فہمی
مری رگوں میں لہو سنسنانے لگتا ہے

(شوکت فہمی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

جواب چھوڑیں