کبھی ہم جیالے تھے: بھٹو کے یوم ولادت پر ’’اقبالی بیان‘‘ – احمد اقبال

چار جنوری کی اُس رات لاڑکانہ جانے والی اسپیشل ٹرین کی ایک بوگی میں میرے ساتھ جاوید جبار اور مخدوم خلیق الزماں کے علاوہ لانڈھی کے ایک رکن اسمبلی اور دیگر جوشیلے کارکن بھرے ہوئے تھے جو ساری رات نعرے لگاتے رہے دوسری بوگیوں میں بھی ایسی ہی صورت حال تھی۔

ضیاالحق کے مارے جانے کے بعد بھٹو کی بیٹی قیدو بند اور طویل جلا وطنی کے بعد لوٹی تھی اور سارا ملک شدید سیاسی ہسٹریا کا شکار تھا۔ کچھ عرصہ قبل انتخابات جیت کر بے نظیر نے وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیا تھا اور عوام کو اس یقین میں مبتلا کر دیا گیا تھا کہ اب بھٹو کا دور ثانی شروع ہوگا۔ نتیجہ یہ کہ جاوید جبار مجھ سے اسٹدی سرکل بحال کرنے سے دیگر اکیڈیمک پروگرام شروع کرنے تک کے معاملات پر بات کرتے رہے اور مخدوم صاحب بھی انتظامی امور پر بریفنگ میں مصروف رہے ٹرین کی چھت پر کارکن سخت سردی میں ناچ رہے تھے اور دروازوں میں لٹکے ہوئے تھے۔ لاڑکانہ جاتے ہوئے ٹرین جہاں رکی گرم چائے پلانے والوں نے میزبانی کا حق ادا کیا اور اسٹیشن پر کارکنوں کے دیوانہ وار رقص نے سماں باندھ دیا۔ صبح چھ بجتےٹرین لاڑکانہ پہنچی ہم کو کاروں میں بھٹو کی خاندانی رہائش کے قریب ایک ہوٹل پہنچایا گیا۔ ایک کمرے میں ہم جیسے دو وی آئی پی مہمانوں کو جگہ دی گئی تھی۔ ہاتھ منہ دھوکر ناشتا کرنے ہال میں گئے تو آتھ بج چکے تھے۔ میں اور نصیراللہ بابر المرتضےٰ تک پیدل ہی گئے۔ یہ پیلے رنگ کی خاصی پرانی کوٹھی تھی جس کی آٹھ فٹ اونچی چار دیواری پر چھ سات فٹ کے فاصلے سے دودھیا رنگ کے گلوب لگے ہوئے تھے۔ دروازے پر لگی پیتل کی تختی پر انگریزی میں ’’شاہنواز بھٹو‘‘ لکھا ہوا تھا۔ یہ بعد میں معلوم ہوا کہ بھٹو نے سارے پاکستان میں کہیں ایک بھی پراپرٹی نہیں بنای تھی کراچی میں ۷۰۔ ۷۱ کلفٹن پر بھی شاہنواز بھٹو ہی کا نام لکھا ہوا ہے۔ المرتضے کے اندر وسیع لان میں دائیں جانب شامیانہ کے نیچے کرسیاں لگی ہوئی تھیں میں ایک کرسی پر بیٹھا تو دیکھا کہ ساتھ والی کرسی پر کوئی سیکرٹری قسم کے بابو فائلوں کو دستخط کرکے نیچے ڈالتے جارہے ہیں۔ بے خیالی میں میرا پیر ایک فایل پر پڑ گیا تو وہ انگریزی میں گرم ہوگئے کہ تمیز نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ فائلوں کو اس طرح زمین پر کون جاہل پھینکتا ہے۔ یہ تمہارا دفتر نہیں ہے۔ میرے لہجے سے وہ سنھبل گئے۔

گیٹ سے وہی گاڑیاں اندر آرہی تھیں جن کے ونڈ اسکرین پر پاس لگے ہوئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ کہ تینوں افواج کے اعلا عہدیداروں کی کیپ پچھلی سیٹ پر رکھی ہے اور وہ خود پیدل آکے اندر جا رہے ہیں، گاڑی کہیں پیچھے چلی جاتی تھی۔ ساڑھے دس بجے کے قریب مجھے ایک گاڑی میں بٹھا دیا گیا جس کو بے نظیر کے رشتے کے کویؑی کزن حفیظ چلا رہے تھے، میرے ساتھ لانڈھی کراچی کے رکن امیر حیدر کاظمی تھے اور تین دوسرے لوگ۔ گڑھی خدا بخش تک حفیظ نے ہمیں بتایا کہ دونو طرف کی زمین پیر پگاڑا کی ہے۔ جو زندگی میں پہلی بار مریدوں سے ووٹ مانگنے نکلے تو مریدوں نے قدموں میں سر رکھ کے کہا کہ یہ جان آپ کی ہے ابھی لے لو مگر ووٹ تو بھٹو کا ہی ہے۔ گڑھی خدا بخش میں گیارہ سال بعد بھی کویؑ مزار یا مقبرہ نہیں تھا، جس ہجوم میں سے ہم دھکے کھاتے گزرے وہ سب دیوانے تھے۔ مزار تک پہنچتے ہوئے امیر حیدر کاظمی کا چشمہ ٹوٹا۔ جاوید جبار کے کپڑے پھٹے اور میرا ایک جوتا نکل گیا، میں جھک کر اسے نہ اٹھا سکا اور ایک ہی جوتے کے ساتھ آگے بڑھتا بالاخر بھٹو کی قبر تک پہنچا۔ اس خاندانی قبرستان میں ان کے دونو بیٹے بھی دفن تھے۔ لوگ پھول پھینک رہےتھے اور دیونہ وار چیخ رہے تھے میں نے بہاو کے مخالف سفر کیا تو دھکوں میں خود کو گرنے سے بچانے کی کوشش میں چشمہ کو ٹوٹنے سے نہ بچا سکا لیکن میں متبادل انتظام رکھتا ہوں۔ مہمانوں کو واپس لے جانے والی کاریں ایک قطار میں کھڑی تھیں ایک کار میں سینڈوچ ہوکے میں ایک پاگل ڈرائیور کی بکواس سنتا رہا جو ہر نام کی قسم کھاکے کہہ رہا تھا کہ مرنے سے پہلے وہ بھٹو کے کسی قاتل کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔ میرے ساتھ ایک فوٹوگرافر ہوگیا جس کا اب مجھے نام بھی یاد نہیں۔ ہوٹل میں پہنچ کے میں نے بڑی عجلت میں جوتا اور لباس بدلا دوسرا چشمہ لگایا اور کھانے کیلےؑ ہال میں گیا تو ایک افراتفری تھی۔ میں نے جو ملا کھایا فوٹوگرافر بدستور میرے ساتھ رہا وہ ایک غیر معروف سا نوجوان تھا جو پریس فوٹو گرافر بننا چاہتا تھا۔ معلوم ہوا کہ بیگم اشرف عباسی کو مزار کمیٹی کی صدارت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

المرتضے کے اندر کیک کاٹنے کی تقریب جس ہال میں تھی وہ بہت چھوٹا تھا لیکن میں کسی صورت اندر پنہچ گیا۔ ہر شخص کی کوشش تھی کہ بے نظیر اور نصرت بھٹو کے ساتھ نظر آئے۔ میں ایک گوشے میں دبکا ہوا تھا پھر بھی کراچی میں میری بیٹی داماد نے مجھے دیکھا اور میری بیگم کی تسلی ہویؑ کہ میں یاروں کے ساتھ آوارہ گردی نہیں کر رہا۔ وہاں سے بھاگم بھاگ میں جلسہ گاہ پہنچا جس کا وقت چار بجے رکھا گیا تھا ایک مختصر سی کمانڈو کہلانے والی جیکب آباد کی خاتون رکن اسمبلی نے ہاتھ پکڑ کے کھینچا تو میں اسٹیج پر پہنچا۔ اس وقت نصرت آگےتھیں اور ان کے پیچھے قالین پر پارٹی راہنما۔ پی ایم کیلےؑ درمیان میں راستہ چھوڑا گیا تھا اسٹیج کی پندرہ فٹ بلندی سے میں نے پہلی اور شاید آخری بار کسی عوامی مجمع کا نظارہ کیا۔ نظامت کرنے والا کوئی مقامی وکیل تھا۔ مخدوم امین فہیم نے بیگم نصرت سے کچھ کہا اور انہوں نے پلٹ کر مجھے اشارہ کیا تو مایؑک مجھے دے دیا گیا، میرے ہاتھ پاوں پھول گئے۔ میں نے اپنے سامنے انسانوں کا سمندر دیکھا جس میں واقعی موج اٹھتی تھی۔ پیچھے والے زور لگاتے تھے تو آگے والے نیم رکوع کی حالت میں جھک جاتے تھے تو لگتا تھا لہر آگے تک آتی تھی۔ پھر آگے والے پیچھے دباو ڈالتے تو لہر پلٹ جاتی تھی۔ نصرت اور بے نظیر کی تقریر سے پہلے نظامت این ڈی خان نے سنبھالی۔ اسٹیج پر کھڑے رہنے کی جگہ بھی نہ تھی۔ ایک دھکا لگا تو میں نیچے جاگرا۔ پھراوپر جانا محال تھا میں باہر نکل گیا تقریریں سننے کا مجھے کویؑ شوق نہ تھا دیکھا تو فوٹوگرافر میرے ساتھ تھا ہم لاڑکانہ کے بازاروں میں پھرتے رہے اور مقامی لوگوں کی محبت اور میزبانی کے خلوص والی چاےئے پیتے رہے۔ سات بجے میں واپس المرتضےٰ میں تھا۔ ابھی جلسہ گاہ والے واپس نہیں آےؑ تھے۔ اس بن بلائے فوٹوگرافر کو میرے کہنے پر اندر جانے دیا گیا۔ وہ بہت خوش تھا کہ اب وہ عشائیہ میں شریک ہوگا۔

نو بجے کے بعد جب عشائیہ چل رہا تھا ہلکی ہلکی پھوار پڑنے لگی، اس سے باہر چار دیواری پر لگے روشنی کے گلوب دھماکے سےپھٹنے لگے۔ نصرت بھٹو نے مجھے اشارا کیا کہ پتا کرو یہ کیا ہورہا ہے۔ ۔ میں باہر گیا تو بند دروازے پر ایک نعرے لگاتا ہجوم تھا جس کو پولیس نے روک رکھا تھا۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے مجھے بلانے لگے۔ میں نے قریب جا کے دیکھا تو وہ سب نوجوان چانڈکا میڈیکل کالج سے آئے تھے انہوں نے رنگین شیشے کے ٹکڑوں سے بھٹو کی بہت بڑی تصویر بنائی تھی جو وہ نصرت بھٹو کو خود پیش کرکے گروپ فوٹو بنوانا چاہتے تھے۔ عشائیہ چھوڑ کے نصرت کا آنا مشکل کام تھا لیکن میں نے کہا کہ ٹھہرو، میں کوشش کرتا ہوں اندر بڑی مشکل سے میں نے نصرت بھٹو کے قریب جاکے بات کی انہوں ے کہا اچھا اور پھر باتوں میں لگ گییں میں پیچھے رہا اور چند منٹ بعد پھر کہا۔ ۔ انہوں نے پھراچھا کہا اور کسی کی طرف متوجہ ہوگئیں تیسری بار ی یاد دلایا تو انہوں نے کچھ جھنجلا کے کہا اچھا بھیؑ چلو۔  وہ میرت اساتھ باہر آئیں تو گیٹ پر موجود لڑکوں نے نعرے لگائے اور تصویر ان کو پیش کی جو واقعی آرٹ کا شہکار تھی۔ لڑکوں کے ساتھ تصویر اتروانے میں مشکل سے پانچ منٹ لگے ہوں گے مگر وہ میرے اتنے احسان مند ہوےؑ کہ صبح ساتھ لے جانے کا کہہ گئے۔ صبح نو بجے وہ مجھے ہوٹل سے لے گئے اور پھر چانڈکا میڈیکل کالج میں سچ مچ مجھے کندھوں پر اٹھا کے میرا جلوس نکال دیا۔ پی آیؑ بی کا فوٹوگرافر میرے ساتھ ساتھ اور بہت خوش۔ دوپہر کی دعوت خاص تھی، ، میں نے پہلی اور آخری بار مور کے کباب۔ تیتر۔ ہرن کا قورمہ اور خرگوش کے تکے کھائے۔ شام تک ہوٹل پہنچا تو سب واپس جاچکے تھے باقی جارہے تھے۔

جو بات اہم ہے کہ اس روز تمام پرانے جانثاروں اور پارٹی ورکرز کو اچھی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کا دور ثانی ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ بھٹو مر گیا مگر بھٹو زندہ ہے کا نعرہ آیندہ کا سیاسی برانڈ ہے۔ جب بیگم اشرف عباسی کو مزار کمیٹی کی صدارت سے نکالا گیا تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اعتراض کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ سب پرانے بانی ارکان آئے ہی نہیں تھے کیونکہ بلائے نہیں گئے تھے۔ سب انکل سازشی قرار دے کر رفتہ رفتہ کھڈے لاین لگا دئے گئے یا وہ خود ہوا کا رخ دیکھ کر الگ ہوگئے اور عزت بچایؑی۔ سب نے جان لیا تھا کہ بے نظیر نے ہار مان لی ہے۔ وہ ایک ڈیل کے تحت آٰیؑ ہے اور اب بھٹو کی لاش پر سیاست کرے گی۔

اس دورے کی تمام تصاویر مجھے اس فوٹو گرافر نے ایک البم میں لگا کے دی تھیں۔ چند انلارج کی ہوئی تھیں۔ شامت اعمال کہ ایم کیو ایم کے دور دہشت و وحشت میں میری گاڑی ایک جگہ روک لی گئی۔ جئے مہاجر کا نعرہ مجھے تین بار لگانا پڑا۔ قہقہے مارتے نوجوان چندہ جمع کر رہے تھے پرس میں سے پانچ سو روپے لے کر انہوں نے پٹرول مانگا کیونکہ پمپ بند تھے۔ ایک لمبی ربر کی نالی ٹینک میں ڈال کے انہوں نے دس لیٹر کھینچ لیا اور ایک ڈرم میں ڈال دیا۔ حالات کے پیش نظر گاڑی کا ٹینک فل تھا مگر اسوقت مجھے یوں لگا جیسے میرے جسم سے خون نکال لیا گیا اس پر بس ہو جاتی تو بھی غنیمت تھا۔ ایک شیطان کی نظر سیٹ پر رکھی البم پر گیؑ۔ گاڑی پر پریس نہ لکھا ہوتا تو شاید اسے آگ لگا دی جاتی۔ البم نے مجھے جیالا (یہ لفظ تب نہیں تھا) ثابت کر دیا تھا۔ ۔ میرے سامنے بڑی منت سماجت کے باوجود البم کو پھاڑ کے وہیں آگ لگادی گئی۔

کیسے ثابت کرتا کہ میں بھٹو کا پرستار تھا لیکن پیپلز پارٹی سے اب میرا کویؑی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ذوالفقار علی بھٹو: مسلم دنیا کا نپولین بوناپارٹ؟ --------- ڈاکٹر غلام شبیر

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں