( غیر مطبوعہ ) اپنا کردار نبھاتے ہوئے دشواری میں …

( غیر مطبوعہ )

اپنا کردار نبھاتے ہوئے دشواری میں
مَر بھی سکتا ہوں میں جینے کی اداکاری میں

سر بہ سر تارِ تخیل سے اُلجھتا ہے دماغ
دخل دیتا ہے خیالوں کی عمل داری میں

کوئی تعبیر کی تدبیر بھی ہو سکتی ہے
وقت برباد نہ کر خواب کی مسماری میں

جب بھی میں دل سے گزرتا ہوں محبت کے لیے
مجھ کو ملتا ہے وہ رہ گیر اِسی رہ داری میں

میں اُسی چشمِ فسوں کار کی تمثیل بنا
جس نے آسان کیا تھا مجھے دشواری میں

اُس کو جنگل کا نگہ بان بنایا گیا ہے
جو ملوث تھا پرندوں کی گرفتاری میں

شعر اچانک کبھی سر زد نہیں ہوتا مجھ سے
وقت لگتا ہے خیالوں کی نموداری میں

میں نے جلتے ہوئے کاغذ پہ اسے لکھا تھا
نظم کی راکھ پڑی ہے مری الماری میں

خواب دیکھوں گا کُھلی آنکھ سے آزر !کہ مجھے
نیند آتی ہے اِسی عالمِ بے داری میں

( دلاورعلی آزرؔ )

— with Dilawar Ali Aazar.

جواب چھوڑیں