( غیر مطبوعہ ) نوالہ ہو کے سیاست کا آہ مارے گئے …

( غیر مطبوعہ )

نوالہ ہو کے سیاست کا آہ مارے گئے
ہزاروں لوگ یہاں بے گناہ مارے گئے

جنونِ نسل کُشی کے شکنجے میں آ کر
جہاں بھی مارے گئے بے پناہ مارے گئے

رنگے ہُوئے ہیں لہو سے دکھائی دیتے نہیں
وہ ہاتھ جن سے سفید و سیاہ مارے گئے

کہاں تھے پھول سے بچّے حصارِجنگ کے بیچ
کسے خبر کہ کہاں مہر و ماہ مارے گئے

نہ جانےکون سے پہیّوں کےبیچ آ کر ہم
بلا جواز و بلا انتباہ مارے گئے

تضادِ داخلی لایا گیا بروئے کار
سو دونوں طرفوں پہ فائز سپاہ مارے گئے

ہوا میں زہر تھا یا تابکاری یا کچھ اور
وہ اہلِ دل تھے کہ اہلِ نگاہ مارے گئے

جنہیں نہیں تھا سروکار تختِ شاہی سے
وہ اِس بلا کدے میں خواہمخواہ مارے گئے

کہاں کی جھولیاں بھرنی تھیں اہلِ زر نے جو لوگ
حصولِ زر کے لئے مثلِ کاہ مارے گئے

کِیا جنہوں نے چراغِ صدا ذرا بھی بلند
رہینِ جبر ہوئے گاہ گاہ مارے گئے

وہیں کے مارنے والے بھی مرنے والے بھی
تو کس کی راہ میں ہم راہ راہ مارے گئے

کہ کچھ تو لانے گئے رزق بچّوں کی خاطر
کچھ اور لوگ سرِ بارگاہ مارے گئے

نہ جانے کب سے مَیں چیخوں کو سُن لرزتا ہُوں
کہاں پہ پیارے مرے راہ راہ مارے گئے

دلوں کو چھید رہی ہے وہ کسماپرسی کہ بس
جو خواہ بچ رہے یاں اور جو خواہ مارے گئے

یہ کھیل اور مفادات کا ہے کھیل مگر
ہم آ کے بیچ برائے رفاہ مارے گئے

ہم اپنے وقت پہ آئے نہ خاکساری کی سمت
بلند رکھنے میں اوجِ کلاہ مارے گئے

غذاے خاک ہوئے پاسبانِ جاہ و حشَم نوید !
جادہ کشِ عزّ و جاہ مارے گئے

( افضال نوید )

— with Afzaal Naveed.

جواب چھوڑیں