( غیر مطبوعہ ) وفور درد سے حاصل عجب شکیب ہوا تر…

( غیر مطبوعہ )

وفور درد سے حاصل عجب شکیب ہوا
تری جدائی کا منظر بھی دل فریب ہوا

سکھایا دل کو مَحبت میں فرش رہ ہونا
فراز بخت بنا جس قدر نشیب ہوا

ہمارا حال کہاں دیکھنے کے قابل تھا
تری نظر نے چھوا ہے تو دیدہ زیب ہوا

بنام وصل کسی کی چھلک پڑی آنکھیں
کسی کا عارض سیمی برنگ سیب ہوا

وہ تنگ دستی کے نِشتر سے تار تار رہا
جو کوئی تھان کا ٹکڑا ہماری جیب ہوا

کِیا جو شوق نے مائل بہ جستجو' ذی شانؔ !
غبار و گرد میں ملبوس جامہ زیب ہوا

( ذی شــان الہٰی )

— with Zeeshan Ilahi.

جواب چھوڑیں