مغربی ذرائع ابلاغ : اسلامی اصطلاحات کی متعصبانہ کوریج ۔۔۔۔ وحید مراد

جدید دور کے پاور اسٹرکچر میں عسکری، معاشی اور علمی طاقت کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی طاقت کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ روائیتی جنگیں مخصوص اوقات اور مقامات پر لڑی جاتی تھیں لیکن آج کے دور کی جنگیں ہر وقت اور ہر مقام پر لڑی جا رہی ہیں۔ ان جنگوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کے علاوہ میڈیا بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ عسکری طاقت جہاں انسانوں کا وجود مٹانے کیلئے استعمال ہورہی ہے وہاں میڈیا کی طاقت کو انسانوں کے اذہان اور اعتقاد کو تبدیل کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ لوگوں کے نظریات اور خیالات تبدیل کرنے کیلئے میڈیا ایک ایسی جنگ مسلط کرتا ہے جسکی حقیقت کو جاننا بہت مشکل ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں مغربی میڈیا نے شناخت کے خلاف ایک ایسی جنگ چھیڑی ہے جس کے متاثرین میں صرف دین اسلام کے پیروکار ہیں۔ اسلام دشمنی میں بڑے پیمانے پر ہیجان اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کیلئے، میڈیا ایک ذریعہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ میڈیا پر جرائم اور دہشت گردی کی رپورٹنگ کرتے وقت اسلامی اصطلاحات کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ اسلام کے بارے میں ایک منفی تاثر پیدا ہو۔ ان اصطلاحات کو دینی و مذہبی سیاق و سباق سے ہٹا کر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ انکے اصل معنی و مفہوم پس منظر میں چلے جائیں اور میڈیا کے ذریعے تخلیق کردہ نئے معنی مقبول ہو جائیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے خلاف خوف پھیلانے کیلئے، میڈیا پر جو گمراہ کن بیان بازی اور غلط بیانی کی جاتی ہے اسے عرف عام میں اسلاموفوبیا کہتے ہیں۔

میڈیا ہائوسز کے ذریعے پھیلائے جانے والے ‘عمومی تصور اسلام’ میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اسلام کے تمام ماننے والے ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔ اس عمل کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسکا اصل مقصد مغرب میں مسلمانوں کو معاشرے سے کاٹ کر الگ کرنا، دیوار سے لگانا اوردنیا بھر کے مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔ اسلام کا یہ عمومی تصور مغرب کے اورینٹل ازم کی تخلیق ہے جو ‘غیر مغرب ثقافتوں’ کو مغرب سے متضاد اور متصادم دکھاتا ہے۔ اس اورینٹل ازم پر عمل کرتے ہوئےغیر ملکیوں کو اجنبی، عجیب، پسماندہ اورغیر معقول گروہان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا مشاہدہ کسی مسلمان شخص کے جرم یا دہشت گردی وغیرہ میں ملوث پائے جانے پر کیا جاسکتا ہے جب مسلمانوں کی اکثریت اسکے جرائم سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہو لیکن پھر بھی پوری امت مسلمہ کو زبردستی اس دہشت گردی کے جرم سے جوڑا جائے۔

اسلام کے ماننے والوں میں کئی مکاتب فکر، متنوع آبادیاں اور بیشمار ثقافتوں کے حامل افراد و گروہ موجود ہیں جنہیں بنیادی عقائد اور ایمان کے حوالے سے تو ایک امت مسلمہ کہا جا سکتا ہے لیکن ہر حوالے سے ایک عمومی شناخت کے اندر نہیں لایا جا سکتا۔ دنیا کے کسی اصول کے تحت بھی کسی ایک فرد، افراد یا گروہ کے اعمال کے ذمہ دار دیگر افراد اور گروہ نہیں ہو سکتے۔ اسلام کے تمام پیروکاروں کو ایک عمومی شناخت دیتے ہوئے، میڈیا جب کسی فرد یا چند افراد کے اعمال کا ذمہ دار پوری امت کو ٹھہراتا ہے تو یہ تمام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ جرم کرنے والے شخص کی مذہبی شناخت پر بھی ایک حملہ ہوتاہے۔ مثال کے طور پر نیویارک میں نائن الیون حملے کے چھ ماہ کے اند مغربی میڈیا میں شائع ہونے والے تمام مضامین اورخبروں میں حملہ آوروں کی شناخت مسلم کے طور پر بتائی گئی۔ اس عمل سے میڈیا نےاپنے وسائل اور اثر ورسوخ کی وسعت کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے تنوع اور امتیازات کو نظر انداز کرکے چند افراد کے جرم کو پوری امت مسلمہ کے سر پر ڈال دیا گیا۔ اس جنرلائزیشن سے متعدد منفی نتائج پیدا کئے گئے لیکن ان میں سے سب سے اہم منفی نتیجہ ‘اسلاموفوبیا’ ہے۔

مغرب کے تخلیق کردہ ‘عمومی تصور اسلام’ کی بنیاد مسلم اکثریتی علاقوں کی ان ثقافتی علامات پر ہے جن کا دین، شریعت اور اسلامی اصولوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مغربی ممالک کی تاریخ اور پس منظر میں بھی یہی ثقافتی علامات پائی جاتی ہیں لیکن آج کے مغرب کی نظر میں یہ ناپسندیدہ ہیں۔ مغربی میڈیا عموماً مشرق وسطیٰ و سعودی عرب یا دیگر مسلم اکثریتی ممالک مثلاً ایران، افغانستان، افریقی و ایشیائی مسلم ممالک کی قومی ثقافت، ملکی قوانین اور رسوم و رواج میں سے کچھ انتہائی قسم کے عناصر کو جوڑ جاڑ کر ایک عمومی مذہب تخلیق کرتا ہے اور پھر دنیا بھر کو باور کراتا ہے یہی اسلام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر مسلم قومی ریاست کا اپنا ایک پس منظر اور کلچر ہے اوربہت سی مسلم ریاستوں میں بیشمار ثقافتوں کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ان ثقافتی علامات میں موجود اختلافات کا انکار کرتے ہوئے ان میں سے کچھ ناپسندیدہ علامات کو اسلام کی نمائندہ علامات کے طور پر پیش کرنا انتہائی درجے کی بددیانتی ہے۔

پروفیسر رضا اصلان نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ‘جب آپ لوگ ڈیڑھ ارب سے زیادہ افراد کے مذہب کی بات کرتےہیں تو ان مسلمانوں کو ایک ہی برش سے رنگتے ہیں جو بہت آسان کام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مذہب نہ پرامن ہوتا ہے اور نہ پر تشدد یہ سب تو کسی فرد یا چند افراد کا ذاتی فعل اور رویہ ہوتا ہے جو کسی بھی مذہب کو قبول کر سکتے ہیں‘۔ جس طرح کسی عیسائی، یہودی، ہندو یا بدھ مذہب کے ماننے والوں کے کسی فعل کا ذمہ دار انکا مذہب نہیں، اسی طرح کسی مسلمان کے فعل کا ذمہ دار بھی اسکا مذہب نہیں ہو سکتا۔ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہر نظریہ اور عقیدہ کے ماننے والے کرتے ہیں تاہم میڈیا مذہبی پس منظر صرف اس وقت بیان کرتا ہے جب کوئی ملزم یا مجرم مسلمان ہوتا ہے۔ اگر یہی شخص کسی دوسرے مذہب کا ماننے والا ہو تو اسکی مذہبی شناخت نہیں بتائی جاتی اور نہ ہی اس پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ مثلاً دسمبر 2014 میں امریکہ کے سینڈی ہوک ایلیمنٹری اسکول، نیو ٹائون میں حملہ آور سفید فام کیتھولک عیسائی تھا اور اس نے بیس بچوں کو قتل کیا لیکن میڈیا نے اسکی مذہبی شناخت اور پس منظر پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔

مغربی میڈیا کے ایک اور تعصب کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اس غلط فہمی کو تو پھیلا تا ہے کہ مسلمان حملہ آور ہیں جنکا شکار دیگر لوگ ہیں لیکن کبھی یہ نہیں بتاتا کہ کسی حملے کے نتیجے میں متاثر ہونے والوں میں بھی مسلمان شامل ہیں۔ مثلاً جس روزپیرس میں داعش نے حملہ کیا اسی روز بیروت میں بھی ایک بم دھماکے میں تینتالیس افراد جاں بحق ہوئے جو مسلمان تھے۔ بیروت کے واقعہ کا تذکرہ تو میڈیا میں کیا گیا لیکن اسکی تشہیر کی وہ سطح نہیں تھی جو پیرس میں ہونے والے حملوں کی تھی اور دسری بات یہ کہ پیرس کے حملوں میں بار بار یہ بتایا جا رہا تھا کہ حملہ آور مذہب اسلام کے پیروکار تھے لیکن بیروت کے مرنے والوں کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ بھی اسلام کے ماننے والے تھے۔ میڈیا رپورٹس میں غیر مسلموں کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کے احترام کو نہیں اس لئے یہ غلط فہمیاں اسلاموفوبیا کے پھیلائو میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

نائن الیون کے بعد فورٹ ہڈ شوٹنگ، متعدد ائیرپورٹس پر دھماکے اور بوسٹن میراتھون بمبنگ، فرانس کے چارلی ہیبڈو حملے وغیرہ جیسے واقعات کو ذرائع ابلاغ میں بہت زیادہ توجہ ملی۔ ان سب میں مشتبہ افراد کی شناخت مسلمان کے طور پر بتائی گئی حالانکہ ملزمان کی مذہبی شناخت اور پس منظر کو اجاگر کرنا خبر کا تقاضا نہیں تھا۔ اگر مذہبی شناخت کو بیان کرنا خبر کیلئے ضروری ہوتا تو دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی طرف سے کی جانے والی دہشت گرد ی میں بھی انکی مذہبی شناخت بتائی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص جان دے کر دہشت گردی کی کاروائی کو روکنے کی کوشش کرے تو اسکی شناخت بھی نہیں بتائی جاتی مثلاً 6 جنوری 2014 کو پاکستان کے قبائلی علاقے میں ابراہیم زئی اسکول میں جب ایک خودکش بمبار نے اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ایک طالب علم اعتزاز حسن بنگش نے دیکھتے ہی اس پر چھلانگ لگا دی۔ اعتزاز حسن کی جان کی قربانی سے سینکڑوں طالب علموں کی جانیں محفوظ رہیں۔ میڈیا کو چاہیے تھا کہ اعتزاز احسن کا مذہبی پس منظر بیان کرتا اور بتاتا کہ اسلام کے ایک پیروکار نے جان دے کر خود کش بمبار کے دھماکے کی وسیع تباہی کو کیسے ناکام بنایا۔ لیکن مغربی میڈیا نے اسکی مذہبی شناخت کا اظہار تو درکنار اسکی قربانی کا اعتراف کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اس سے میڈیا کا تعصب واضح ہوتا ہے کہ وہ صرف ان واقعات کو ہی اجاگر کرتا ہے جو اسکے پروپیگنڈے کی حمایت اور اسلاموفوبیا کیلئے دلیل کے طورپر پیش ہو سکتے ہیں۔

اسلام سے وابستہ امور کی میڈیا کوریج، اس صدی کے آغاز سے ہی مقدارو معیار کےلحاظ سے، ڈرامائی انداز میں تبدیل ہو چکی ہے۔ امریکہ کے زیر قیادت وار آن ٹیرر کےدوران پوری دنیا میں سب سے زیادہ پھیلایاجانے والا گمراہ کن تصور یہ ہے کہ امت مسلمہ ایک باغی جماعت ہے۔ مسلمان ہونے کا لازمی مطلب عسکریت پسند یا دہشت گرد ہونا ہے کیونکہ مذہب اسلام دہشت گردی کی نمائندگی کرتا ہے۔ مثلاً کنیڈا، ٹورنٹو دہشت گردی کیس میں اٹھارہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور اس دوران میڈیا رپورٹس میں یہ بتایا جاتا رہا کہ ‘دہشت گردی ایک حقیقی خطرہ ہے، کنیڈا کے نوجوانوں کو مساجد اور انٹرنیٹ کے ذریعے اسلامی بنیاد پرست بنایا جا رہا ہے اور کنیڈین پولیس بمشکل انکے ایک حملے کو ہی ناکام بنا سکی ہے’۔

مغرب کے ماس میڈیا ڈسکورس میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے عوام کی ایک خاص طرح کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ امت مسلمہ کو دہشت گرد جماعت ثابت کرنے کیلئے اسلامی اصطلاحات کی من مانی تعبیر و تشریح کرتے ہوئے انہیں توڑ موڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ میڈیا ہائوسز، زیادہ تراسلامی پس منظر رکھنے والی تحریکوں کے بارے میں رپورٹنگ کرتے وقت ان اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں اور ان سے قارئین و ناظرین کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اسلام ‘دہشت گردی’ کی حمایت کرنے والا مذہب ہے۔ مغرب سمیت دنیا بھر میں اس موضوع پر ہونے والی تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اسلام سے متعلق خبروں کی کوریج کے دوران استعمال کی جانے والی اسلامی اصطلاحات کی ‘میڈیا تعبیر’ سے محققین، اسکالرزاور مذہبی ماہرین تفاق نہیں کرتے۔ یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان اصطلاحات کو انکے اصل مفہوم کی پرواہ کئے بغیر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس صوررتحال میں یہ اصطلاحات اپنے اصل معنی کھو کر میڈیا کی تعبیر اپنا لیتی ہیں اور لوگ اصل مفہوم پر غور کئے بغیر میڈیا کے تخلیق کردہ مطالب کو درست مان لیتے ہیں۔

ان اصطلاحات کے مطالعہ کی غرض سے کی جانے والی ایک تحقیق میں ملائیشین محقیقین زین بانی یونس و اسحاق حسن نے عرب میڈیا سے ‘اردن ٹائمز’ اور ‘الجزیرہ’ اور مغربی میڈیا سے ‘بی بی سی’ اور ‘دی گارڈین’ کا انتخاب کیا۔ ان اداروں کے 2018 سے لیکر 2019 تک کے 368 مضامین جمع کئے گئے جن میں یہ اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ اس تحقیق میں مشرقی و مغربی میڈیا ڈسکورس میں استعمال ہونے والی اسلامی اصطلاحات کا تقابلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس مطالعہ کی خاص توجہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں رہی ہے کہ مشرقی و مغربی ذرائع ابلاغ دہشت گردی وغیرہ کو اسلام کے ساتھ منسلک کرنے کیلئے، اصل سیاق و سباق کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلامی اصطلاحات کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ مشرقی میڈیا کی نسبت مغربی میڈیا میں ‘اسلام پسندی’ اور ‘جہاد’ کی اصطلاحات کو منفی سیاق و سباق میں زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔

ان محققین نے استدلال کیا کہ اسلام سے متعلق اصطلاحات کو منفی معنوں میں بیان کرنے سے مسلمانوں کے بارے میں ایک تعصب، دقیانوسی خیالات اور نفرت ابھارنے کا عمل تقویت پاتا ہے۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد میڈیا نے اسلام سے متعلق خبروں پر جن مختلف اصطلاحات کوتخلیق کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ توجہ دی ہے ان میں اسلامی دہشت گردی، اسلامی جنونیت، مسلم انتہا پسندی وغیرہ شامل ہیں۔ اسلام کو بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے کے رجحان کے ساتھ جب کسی خبر کی اسٹوری میں اس قسم کی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں تو وہ میڈیا کے متن کا ایک حصہ بن جاتی ہیں۔ اور انکی غلط تعبیر پیش کرنے کے نتیجے میں میڈیا اسلام کے بارے میں دقیانوسی تصورات اور ایک منفی منظر کشی کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

بہت سی تحقیقات میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں دی جانے والی خبروں میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ زیادہ تر مسخ شدہ ہوتی ہے۔ یہ تحقیقات زیادہ تر امریکہ، برطانیہ اور یورپی میڈیا کے بارے میں کی گئی ہیں۔ ایک محقق سلطان(2016) نے اپنی تحقیق میں یہ بات نوٹ کی ہے کہ مغرب میں پایا جانے والا ایسا بے شمار مواد دستیاب ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حقائق کو مسخ شدہ انداز سے پیش کرکے اسلام کی منفی تصویر کشی کی گئی ہے۔ میڈیا نے جو نظریات اور خیالات اسلام سے منسوب کئے ہیں انکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کاحصہ معلوم ہوتے ہیں۔

محققین سمیع اور مالمیر(2017) نے ایک تحقیق میں یہ مطالعہ کیا کہ امریکی میڈیا میں 2001 سے لیکر 2015 تک جو نیوز اسٹوریز شائع ہوئیں ان میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں لکھے گئے 670000 الفاظ میں اسلام اور مسلمانوں کو بنیاد پرست اور عسکریت پسند پیش کرتے ہوئے ان نتائج کی طرف اشارہ کیا گیا کہ اسلام اور مسلمان پرتشدد ہوتے ہیں۔

بیکر، گیبریلاٹوس اور میکنیری (2013) نے برطانیہ میں 1998 سے لیکر 2009 تک شائع ہونے والے 143 ملین الفاظ پر مشتمل مختلف مضامیں کا تجزیہ کیا جن میں قومی و نسلی شناخت، مختف ثقافتی و مذہبی امور، کمیونٹیز، گروہوں اور تنازعات کے بارے میں متضاد خیالات وتصورات پر مبنی حوالہ جات تھے۔ مسلم ورلڈ ومسلم کمیونیٹیز اور مغرب کے درمیان پائے جانے والے امتیازات و اختلافات کو اسلام اور مغرب کے تصادم کے طورپر پیش کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے بارے میں یہ تصور پیش کیا گیا کہ یہ ‘ذرا ذرا سی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں اور بڑے تصادم کیلئے تیار ہو جاتے ہیں’۔ مسلمانوں کی جو شکل پیش کی گئی اس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ مسلمان دہشت گردوں کیلئے ہمدردری اور نرم گوشہ رکھتے ہیں کیونکہ یہ معاشی طورپر پسماندہ اور قدامت پسند ہیں۔ ان مضامین میں مسلمانوں کو جس طرح پیش کیا گیا اسے پڑھنے کے بعد مسلم سوسائٹی میں یقینی طورپر جذباتی تنائو پیدا ہو سکتا ہے۔

سعید(2007) نے ایک تحقیق میں استدلال کیا کہ برطانوی میڈیا میں مسلمان شہریوں کو غیر ملکی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ میڈیا کی اس غلط بیانی کا تعلق ‘اسلاموفوبیا’ سے ہے جسکی جڑیں ثقافتی اختلافات میں ہیں۔ اس تحقیق نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مغرب میں اگر کوئی غیر مسلم تشدد کرتا ہوئے نظر آئے تو اسے گھریلو تشدد قرار دے کر انفرای مسائل اور پریشانی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے جبکہ یہی تشدد اگر کسی مسلمان کے ہاتھ سے وقوع پذیر ہو تو اسے اسلامی اور عالمی دہشت گردی کے گروپوں سے جوڑا جاتا ہے۔ اس طرح کی متعصابانہ رپورٹنگ سے میڈیا ویورز کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور اسلام کے بارے میں گمراہ کن خیالات کی اشاعت کو فروغ ملتا ہے۔

اسلام سے متعلق سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اصطلاحات ‘اسلام پسند، انتہا پسندی، دہشت گردی، تشدد اورعسکریت پسندی ہیں۔ ان میں ‘اسلام پسند’ کی اصطلاح ‘دہشت گردی’ کے مترادف ہے اور دہشت گردی کے تناظر میں لکھے گئے مضامین میں اسکو اسی مفہوم میں پیش کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جون 2018 کو بی بی سی کی ایک رپورٹ میں اصل خبر کا یہ نتیجہ اخذ کرکے بتایا گیا کہ ” سیکورٹی اداروں کی توقع ہے کہ اسلام پسند دہشت گردی کا خطرہ اب بھی برقرار ہے اور کم از کم دو مزید سالوں تک اسکی شدت کی سطح برقرار رہے گی’ (دہشت گردی کی حکمت عملی، 2018 صفحہ 3) اسی طرح دی گارڈین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ “ایک عالمی انتہا پسند تحریک جو اب بھی جاری ہے تاکہ دنیا کو خطرات لاحق رہیں” (برک 2019 صفحہ 1)۔ ان رپورٹوں کے متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ میں ‘اسلام پسند’ کا لفظ ‘دہشت گرد’ کے طورپر استعمال ہوتا ہے۔ 3 جون 2018 کو دی گارڈین نے ایک خبر دی کہ ‘برطانیہ کو اسلام پسندوں کی اسلامی دہشت گردی سے سخت خطرے کا سامنا ہے’ (پریس ایسوسی ایشن 2018 صفحہ 1) اس خبر سے یہ تاثر دیا گیا کہ اسلام امن کیلئے خطرہ ہے۔

ایک اور مسئلہ ‘اللہ اکبر’ کی اصطلاح کے نامناسب استعمال کا بھی ہے۔ مسلمانوں کے ہاں یہ مقدس الفاظ ہیں جبکہ مغربی میڈیا اس اصطلاح کو ایک ایسے نعرے کے طورپر پیش کرتا ہے جسے دہشت گردی کی کاروائی کرنے والے لوگ وکٹم سے نفرت کے اظہار کےطورپر لگاتے ہیں۔ مقدس الفاظ کو نفرت کے اظہار کے طورپر پیش کرنا ایک شدید غلط فہمی اور گمراہی کا نتیجہ ہے۔ مثلاً الجزیرہ نے ایک چینی سیاسی ڈکلیریشن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ۔ ‘ انہوں نے جہادمیں شہادت اور جنت کے حصول کے وقت نفرت انگیز الفاظ اونچی زبان میں دہرائے’۔ (China Says, 2019, p.3)

جیکبسن(2012) نے ایک تحقیق میں استدلال کیا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے صرف باہر سے حملے نہیں کئے جا تے بلکہ مسلمانوں کے اندر سے بھی حملے کرائے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کی غرض سے مسلمانوں میں سے ہی کچھ ایسےلوگ تیار کئے گئے ہیں جو مغرب کی ایماء پر اپنے آپ کو اعتدال پسند، جدید یا لبرل مسلمان کہتے ہیں۔ ان اصطلاحات کے استعمال کا مقصد بالواسطہ طور پر عوام کو یہ باور کرانا ہوتاہے کہ اسلام کا ایک ورژن جدید اور اعتدال پسند ہے اور اسکے علاوہ پورااسلام نتہاپسند اور دہشت گرد ہے۔ ان اصلاحات سے دنیا بھر کی غیر مسلم عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اعتدال پسند مسلمان اچھے، مغرب نواز اور جنگ میں مغرب کا ساتھ دینے والے ہیں جبکہ دیگر سب مسلمان ہمارے دشمن ہیں اوران سے جنگ کرکے انہیں ختم کرنا جائز ہے۔

اسلام کو پسماندہ اور جدید و قدیم تصورات میں منقسم مذہب ثابت کرنے کیلئے مغربی میڈیا مسلم خواتین کو دو باہم متقابل اور متحارب گروہوں میں پیش کرتا ہے۔ مسلم خواتین کے ایک گروہ کوانتہائی پسماندہ، مردوں کے ظلم و ستم کا شکار اور دوسرے گروہ کو انتہائی مضبوط، مردوں کی برابری اور مقابلہ کرنے والی فیمنسٹ وومنز کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ اس طرح مغربی میڈیا اسلامی عقائد اور تعلیمات کو تنقید کا نشانہ بنانے کیلئے مسلم عورت کی مظلومیت کا رونا روتا ہے اور انہیں بغاوت پر اکساتے ہوئے اپنی حمایت اورمدد کا یقین دلاتا ہے۔ مغرب مسلم خواتین کی سماجی آزادی و خود مختاری کو’ مذہب سے آزادی’ کے متبادل کے طور پر پیش کرتے ہوئےاس مقصد کے حصول کیلئے جدید، لبرل مسلم مرد صحافیوں، دانشوروں اور سیاستدانوں کو بھی استعمال کرتا ہے۔ اسلامی اقدار پر عمل کرنے والی خواتین کی کردارکشی اور ان سے امتیازی سلوک کرنے کی غرض سے مغربی میڈیا انکے لئے جو اصطلاحات استعمال کرتا ہے ان میں ‘مرد عورت الگ الگ، مردوں سےپٹنے والیاں، گالیاں کھانے والیاں، پردے والیاں، نفرت کا شکار عورتیں، آزادی سے بے پرواہ عورتیں، حقوق سے نابلد خواتین اور انتہا پسند خواتین وغیرہ شامل ہیں۔

محمد جنید غوری (2019) نے ایک تحقیق میں آسٹریلیا کے اخبارات کے ایک سال (2016-2017) کے اداریوں کے نمونے جمع کئے۔ اس مطالعےکے بعد محقق نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آسٹریلیا کے صرف ایک مشہور اخبار ‘دی ایج’ کے اداریوں میں مسلمانوں کے خلاف سال بھر میں جس نفرت کا اظہار کیا گیا اتنی نفرت کا اظہارشاید کسی میڈیا نے نہیں کیا ہوگا۔ اس اخبار کے اداریے ‘ اسلامی ریاست پر ہتھوڑا چلایا جائے’ اور دیگر اداریوں میں مسلمانوں اور اسلام سے نفرت کے اظہار کیلئے جو اصطلاحات استعمال کیں وہ درج ذیل ہیں:

اسلامی شیطانی ریاست Islamic Satanic State، نام نہاد خلافت So-called Kalifate،
جہادی جعلی دعوے Jihadi Fake Claims،
اسلامی ریاست کے جنگجو Islamic State Warriors، جہادی بھرتی Jihadi Recruitment،
مذہبی غلامی Religious Slavery، نام نہاد مذہبی آدرش So Called Religious Ideals،
اسلامی خوفIslamic Fear، عالمی اسلامی غم و غصہ Global Islamic Anger،
غیر منصفانہ متحرک لوگ Unjust Activists،
مشتبہ اسلامی برادری Suspected Islamic Community،
خونخوار اسلامی لاشیں Bloody Islamic Bodies،
نفرت انگیز اسلامی مبلغین Hateful Islamic preachers،
اسلامی جہادی امیگرنٹ Islamic Jihadi Immigrants،
ہولناک اسلای تبلیغی نفرت Horrible Islamic Preaching hatred،
انسانی حقوق کے دشمن Enemies of Human Rights،
عالمی اسلامی بحران Global Islamic Crisis،
خود ساختہ مسلم ائمہ Self-made Muslim Imams،
جہادی ملاوں کا ٹولہ Gang of Jihadi Mulas،
بنیاد پرست پیغام رساں Fundamentalist messengers،
مذہبی دعووں کے برے اعمال Evil deeds of Religious Claims،
مجرمانہ اسلامی عقیدے Criminal Islamic Beliefs، ہجوم مسلم Mob of Muslims،
فریب خوردہ مسلم Deceived Muslims،
جنونی بوڑھے مسلمان Fanatical Old Muslims،
قرون وسطیٰ کے باسیMedieval inhabitants،
بدنظمی کے اسلامی مراکز(مساجد) Islamic Centers of Disorder،
موت کے اسلامی گلے Islamic embrace of death،
بھڑک اٹھنے والے مسلم جہادی Flaming Muslim Jihadists،
اسلامی بھرتی زون Islamic Recruitment Zones،
اسلامی شورش پسند Islamic Insurgents،
جنونی بندوق بردار Fantical Islamic Gunmen،  اور
اسلامی جہادی لعنت Islamic Jihadist Curse وغیرہ۔

سان اور سبلی (2018) نے اس بات پر تحقیق کی کہ مذہبی تعلیمات کو فلموں میں کس طرح پیش کیا جاتا ہے۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ کچھ فلموں میں مذہبی تعلیمات، عبادات، اخلاقی اقدار، بزرگوں اور والدین کے ساتھ احسن سلوک وغیرہ کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا تاکہ سوسائٹی کی ان مثبت خطوط پر تربیت کی جا سکے۔ اسکے ساتھ ساتھ اسی تحقیق میں برطانیہ، امریکہ، کنیڈا اور آسٹریلیا میں 1996 سے 2006 تک شائع ہونے والے 800000 مضامین کا مطالعہ بھی کیا گیا جن میں مذہبی تعلیمات کو معاشرے کے مفاد میں مثبت انداز سے پیش کیا گیا تھا۔ اس تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ اگر میڈیا چاہے تو دیگر مذاہب کی طرح اسلام اور مسلمانوں کی متوازن تصویر پیش کرکے اسلامی تعلیمات کو بھی سوسائٹی کے مفاد میں استعمال کر سکتا ہے لیکن اسلاموفوبیا سے متاثر میڈیا ہائوسز کی اکثریت ایسا نہیں کرتی۔

کچھ تحقیقات میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ بہت سے میڈیا ہائوسز کسی خبر کے سورس یا پولیس وغیرہ کا حوالہ دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس خبر کی رپورٹنگ نیوٹرل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس وغیرہ سے ایسی باتیں منسوب کرکے خبر کےمتن میں شامل کر دی جاتی ہیں جو پولیس نے رپورٹ میں نہیں لکھی ہوتیں اور ویورز کو یہ باور کرا کر گمراہ کیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا تعلق مذہب اسلام سے ہے۔ مثلاً 27 اپریل 2019 کو الجزیرہ میں ایک خبر شائع ہوئی جس کا متن اس طرح پیش کیا گیا کہ ‘ پولیس نے کچھ ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جو محمد ہاشم، محمد زہران سے وابستہ ہیں اور انکا نام ایسٹر سنڈے بم دھماکوں کے سرغنہ کے طور پر لیا جاتا ہے’ (Relatives of Suicide, 2019, p.2) اسی اخبار نے ایک اور خبر میں لکھا کہ ‘ پولیس کے مطابق ایک شخص ہجوم میں مارا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ دولت اسلامیہ اور لیونٹ گروپ سے متاثر تھا (Australia police 2018, p.1) ان خبروں میں ‘پولیس کے مطابق’ اور ‘کہا جاتا ہے’ جیسے الفاظ استعمال کرکے ساری ذمہ داری پولیس پر ڈال دی گئی اور اپنے آپ کو غیر جانبدار بتاتے ہوئے جانبداری کا عمل برتا گیا۔

اسلام سے متعلق اصطلاحات کو غلط رنگ اور منفی معنوں میں پیش کرنے کی ذمہ داری صحافیوں پر عائد ہوتی ہے پولیس یا کسی اور ادارے پر پر عائد نہیں ہوتی کیونکہ خبر کا متن نیوز روم میں تیار ہوتا ہے اور اسکی زبان اور بیان کے ذمہ دار صحافی اور میڈیا ہاوس ہوتے ہیں۔ ان اصطلاحات کو غلط رنگ دینے کا فیصلہ صحافیوں، ایڈیٹر اور میڈیا مالکان کا ہوتا ہے۔ خبر کی اشاعت سے قبل کے پراسس میں کئی ذیلی اعمال شامل ہوتے ہیں۔ خبروں اور مضامین کے متن لکھے جاتے ہیں، پھر پروف ریڈنگ ہوتی ہے، ان میں اضافہ اور ترامیم ہوتی ہیں اور پھر ایڈیٹر کی منظوری کے بعدانکی اشاعت ہوتی ہے۔ اگر وزارت اطلاعات و نشریات اور میڈیا ہائوسز مذاہب سے متعلق رپورٹنگ کیلئے رہنما اصول وضع کرکے، صحافیوں، اینکرزاور ایڈیٹرز کو ان پر سختی سے عمل درآمد کا پابند کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان پر عمل نہ ہو۔

اس سلسلے میں صحافیوں اور مدیران کی رہنمائی کیلئے تربیتی کورس بھی کرائے جا سکتے ہیں تاکہ وہ ان اصطلاحات کے درست معنی ،خود سمجھیں اور صحیح طورپر پیش بھی کریں۔ لیکن اگر حکومتی اور ادارتی سطح پر متعصبانہ ہیراپھیری اور جانبدارانہ رپورٹنگ کو پالیسی اور ایجنڈے کے طور پر اپنایا گیا ہو تو پھر کسی قسم کی بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ کئی دہائیوں سے اسلام کے بارے میں ایک عمومیت پھیلانے اور خبروں کی سرخیوں میں اسلام کیلئے انتہاپسند اور ریڈیکل مذہب جیسے الفاظ استعمال کرنے سے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ مغرب کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ اگر یہ سوچاسمجھا منصوبہ نہ ہوتا تو دہشت گردی اور انتہاپسندی کی قانونی تعریفات میں اسلام کا کوئی لفظ موجود نہیں لیکن میڈیا ان اصطلاحات کو پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھ اضافی طور پر اسلام کا اسم صفت لگا کر کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟

میڈیا لٹریچر پر کام کرنے والے بہت سے غیر جانبدار محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خبریں محض کسی عنوان پر حقائق پھیلانے کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ عوام کو آگاہ رکھنے کی ایک ایسی خدمت ہے جس سے عوام کو اچھائی کی طرف راغب کرنے کی تربیت بھی دی جا سکتی ہے۔ میڈیا ویورز کو چاہیے کہ وہ ایسے ذرائع ابلاغ استعمال کریں جو کم متعصب ہوں اور کسی نہ کسی حد تک مثبت تربیت کا سامان رکھتے ہوں۔ معاشرے کی مجموعی ذمہ داری ہے کہ تعصب کو رد کرتے ہوئےسچائی کی تلاش پر زور دے اور عوام الناس کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اس طوق سے آزاد کریں جو میڈیا نے انفارمیشن کے نام پر ہمارے گلے میں ڈال رکھاہے۔ جو لوگ معلومات اور تعلیم و تربیت کیلئے صرف میڈیا پر انحصار کرتے ہیں ان کوآج کے ماحول میں گمراہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

حوالہ جات:

  1. Jacobbsen, S. J (2012) “Analysis of Danish media setting and framing of Muslims, Islam and racism” http://www.ces.uc.pt/projectos/tolerace/media/Working%20paper%205/Analysis%20of%20Danish%20Me dia%20stting%20and%20framing%20of%20Muslims%20Islam%20and%20racism.pdf
  1. Conete, D. (2009) “Women: Strained Stereotypes” http://www.resetdoc.org/story/00000001456.
  2. Hussain, Tooba “The Media’s Portrayal of Islam, An Analysis of Methods and Implications”
    https://scarletreview.camden.rutgers.edu/archive/2016edition/Articles/mediaportrayal.html
  1. Younes, Zein, Bani (2020) “A pragmatic analysis of Islam-related Terminologies in selected Eastern and Western Mass Media” : https://dx.doi.org/10.24093/awej/vol11no2.6
  2. Baker, P., Gabrielatos (2013) “Sketching Muslims: A corpus driven analysis of representations around the world”
  3. Saeed, A. (2007) “Media, racism and Islamophobia: The representation of Islam and Muslims in the media”
  4. Sultan, K. (2016) “Linking Islam with terrorism: A review of the media framing since 9/11” Global Media Journal
  5. Hassan, F. & Sabli (2018) “Islam as a way of life: the representation of Islamic teaching in non-Islamic film”. http://conference.kuis.edu.my/pasak3/images/eprosiding1/PASAK3_2124.pdf

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں