وزیر اعظم کے نام ایک خط: جناح کے مزار پر – غریبوں کی غلامی، ظلم اور استحصال – نعیم صادق

جناب عمران خان
وزیر اعظم پاکستان

محترم وزیر اعظم،

بصد احترام اور بہت سی مبارک باد

میں ایک ہنگامی صورت حال کی جانب آپ کی توجہ دلاناچاہتا ہوں۔ اس کا تعلق اس غیر انسانی، غیرقانونی اور ظلم و ستم سے ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے کنٹریکٹ ملازمین کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی طرح اس سلوک سے مختلف نہیں ہے، جوتین سو سال قبل چائے کے باغات میں غلاموں کے ساتھ روا رکھا جاتا تھا۔

براہ کرم مجھےاس بہیمانہ سلوک کے حقائق کی وضاحت کرنے کی اجازت دیں، جو ایک نامور سرکاری تنظیم کی جانب سے روا رکھا گیا ہے، جس کا نام قائد اعظم مزار، منیجمنٹ بورڈ (کیو ایم ایم بی) ہے۔ اس صورتحال کو سمجھنے کے لئے، براہ مہربانی مزار کے ایک سیکیورٹی گارڈ کا یہ خط پڑھیں جس میں جناح کے مقبرے پر کام کرنے والے گارڈ، صفائی کے عملہ اور مالیوں کے اذیت اور مصائب کی داستان کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔

“محترم جناب جناح،

میں آپ کی آرام گاہ پرمتعین ایک سیکیورٹی گارڈ ہوں – تاکہ آپ کی اس آرام گاہ کا ماحول پر سکون رہے۔ اور آپ کے آرام میں خلل نہ پڑے۔ لیکن یہ سکون ایک یک طرفہ راستہ نہیں ہے۔ آپ بھلا کیسے سکون پاسکتے جب کہ ہم میں سے سینکڑوں لوگ صرف 10 ہزار روپے ماہانہ پر روزانہ 12 گھنٹے تک جہنم کے بھڑکتی آگ میں زندگی گزارتے ہیں۔ سینیٹری کے عملہ کو 12 گھنٹے روزانہ کی شفٹ کے عوض 14 ہزار روپے ماہانہ، اور مالیوں کو صبح کی شفٹ میں کام کرنے پر 9 ہزار روپے ماہانہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔

جناب جناح، براہ مہربانی، کیا آپ اپنی قبر سے اٹھ کرآ سکتے ہیں، چاہے یہ صرف ایک دن ہی کے لیے ہو اوراس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ آپ کے مزار کے صحن میں خدمت بجا لانے والے ہر دربان، ہر مالی اور ہر گارڈ کو کم از کم درست قانونی اجرت دی جائے۔ ہوسکتا ہے کہ غلامی اور استحصال کی ان زنجیروں کو توڑنے کے لیے ہمارا یہ واحد موقع ہو۔ جس میں امیروں اور حکمرانوں نے ہمیں جکڑا ہوا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ آپ وی ائی پی مہمانوں کے بجائے سادگی سے ٹہلتے ہوئے، جینوٹریل ملازمین، مالیوں اور گارڈ کے پاس تشریف لائیں، ان سے مصافحہ کریں، انھیں تھپکی دیں اور اپنی ابدی ارام گاہ کو لوٹ جائیں

 

بصد احترام، ایک گارڈ۔ ”


جناح کا وزیر اعظم کے نام خط

محترم وزیر اعظم،

مجھے 14 اگست 1947 کو اپنا کام مکمل کرنے کے فورا بعد ہی رخصت ہونا پڑا- اس امید کے ساتھ کہ سکون سے آرام کروں گا۔ میں توایک معمولی سی قبر سے خوش ہوتا۔ جیسا کہ کرسٹینا روزسیٹی نے کہاہے کہ، ، میں ایک معمولی قبر سے خوش ہوں۔ میرے سرہانے کوئی گلاب نہیں، اور نہ ہی صنوبر کے سایہ دار درخت ہیں۔ میرے اوپر صرف بارش اور شبنم سےدھلی گیلی سبز گھاس ہے۔ ” مجھے اس بات سے بے چینی ہوئی کہ میرے آخری آرام گاہ شاندار پرشکوہ سنگ مرمرسے سجی ہوئی ہے، جو اس ملک کے خزانے پر پر یقینا ایک بہت بھاری بوجھ رہا ہوگا۔ جہاں 80 ملین افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

میں یہ خط میرے پرستار متعدد سینیٹری ورکرز، باغبانوں اور محافظوں کےساتھ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے، آپ کو لکھ رہا ہوں، جوہمہ وقت میری قبر کے چاروں طرف عمارت اور باغات، صحن کی صفائی، ہریالی اور پھولوں کی نگہداشت میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ بہت عمدہ کام کرتے ہیں اور میری خواہش ہے کہ وہ یہ بات جان لیں کہ میں ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دینے کی ان کی اس لگن پر کتنا فخر محسوس کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے باقی ماندہ عوام بھی اس عظیم ملک کی تعمیر کے لئے کسی بھی مفاد سے بالاتر ہوکراسی جذبے کے ساتھ مصروف عمل ہوں گے۔

تاہم جب سے مجھے ایک سیکیورٹی گارڈ کا خط موصول ہوا جو شاید داخلی دروازوں میں سے کسی ایک پر تعینات ہے، میں انتہائی تکلیف اور اذیت کی حالت میں ہوں۔ اس خط میں لکھا گیا ہے کہ، “محترم جناب جناح، میری عمر 70 سال ہے اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں آپ کے آرام گاہ پر ایک سیکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں۔ ہم اس شاندار مادر وطن کا تحفہ دینے پر آپ کاحقیقی طور پر شکریہ ادا نہیں کرسکتے ہیں۔ میری دعا کہ آپ ہمیشہ ابدی سکون سے ہمکنار رہیں۔ لیکن مجھے حیرت ہی ہوگی کہ اپنے مزار پر کام کرنے والوں کو ہرگھڑی ہونے والی اذیت اور تکلیف کو جانتےہوئے بھی آپ کو کبھی سکون مل سکتا ہے۔ میں نجی سیکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے دس ہزار روپے مابانہ پرروزانہ 12 گھنٹے کام کرتا ہوں – سینیٹری عملہ کو 12 گھنٹے کی شفٹ کے لئے 14000 روپے ملتے ہیں اور باغبان صبح کی شفٹ میں کام کرنے پر 9000 روپے ماہانہ وصول کرتے ہیں۔ براہ کرم جناب جناح، کیا آپ اپنی قبر سےایک دن کے لیے اٹھ کر آ سکتے ہیں؟ صرف ہماری حکومت کو یہ بتانے کے لئے کہ آپ کے مزار پر کام کرنے والے ہر دربان، ہر ‘مالی’ اور ہر گارڈ کو کم سے کم قانونی اجرت دی جائے۔ جناب جناح، وی آئی پی مہمانوں کے برعکس اس دن آپ باغبانوں، دربانوں اور آپ کے کمپاؤنڈ کے محافظوں تک ٹہلتے ہوئے آئیں اور اپنی دائمی آرام گاہ پر واپس آنے سے پہلے ہاتھ ہلا کر انھیں تھپتھپائیں اور شاباشی دیں ؟ بصداحترام، ایک گارڈ

محترم وزیر اعظم، میرے دکھ اور تکلیف سے کہیں زیادہ میرے لیے یہ بات اذیت ناک ہے کہ میرے قریب کام کرنے والے سو سے زیادہ جینوٹوریل ملازمین، محافظ اور مالی قابل رحم حالات میں کام کرتے ہیں۔ وہ دکھ اور اذیت کی زندگی گذارتے ہیں، (اگر اسے زندگی کہا جاسکتا ہے تو)۔ آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ ریاست کا یہ فریضہ ہے کہ وہ کم سے کم اجرت کے قوانین کی پابندی کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی شہری سے ذات اور رنگ ونسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ ٹھیکیداری کے تحت کام کرنے والے 51 صفائی کرنے والے ملازمین میں سے 47 غیر مسلم ہیں۔ کیا مسلمان اب کسی صفائی کے کام کے لئے درخواست نہیں دیتے ہیں؟

کیا میں تجویز کرسکتا ہوں کہ آپ کے اگلے خط سے پہلے، آپ ایک حکم جاری کریں جس میں معاہدہ کےتحت کام کرنے والے تمام ملازمین ( مزار پر کام کرنے والے، جینوٹوریل اسٹاف، محافظ اور مالی) کی کم سے کم اجرت 8 گھنٹے کی شفٹ کے لیے سات ہزار پانچ سو روپے اور جو 12 گھنٹے کی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں ان کی اجرت 35 ہزار روپے مقرر کی جائے۔ ان احکامات میں یہ بھی لازمی شامل ہو کہ ان ملازمین میں سے ہر ایک کو ای او بی آئی کے ساتھ رجسٹرڈ اور میڈیکل انشورنس بھی دیا جائے۔

محترم وزیر اعظم، کوئی بھی قوم اس بات سے پہچانی جاتی ہے کہ وہ اپنے عام شہریوں خاص طور پر کمزور اورغیر محفوظ لوگوں کے ساتھ کس طرح سلوک کرتی ہے۔ پاکستان کبھی ترقی نہیں کرسکتا جب تک خود کو مالا مال کرنے والی متکبر اشرافیہ اور پارلیمنٹیرین غربت میں پسے ہوئے غریبوں کو کم سے کم قانونی اجرت بھی دینے کے لئے تیار نہ ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ مزار کے چمکتے ہوئے سنگ مرمر اور اس کے نگراں افراد کی اداس زندگی کے بیچ اس بھاری خلیج کو پاٹنےکے لئے فوری اقدامات کریں گے۔

پاکستان پائیندہ باد

مخلص،
ایم اے جناح


مسٹر جناح کے مقبرے کا خوبصورت کمپلیکس ہر پاکستانی شہری کے لئے فخر، احترام اور پیار کی علامت ہے۔ لیکن حکومت پاکستان کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ در حقیقت یہ ایک ٹارچر سیل بن چکاہے۔ جو اپنے سیکڑوں کنٹریکٹ ملازمین کواستحصال، تکلیف اور غلامی میں جکڑے ہوئے ہے۔ اس بدقسمتی کی صورتحال کو سمجھنے کے لئے براہ کرم مندرجہ ذیل حقائق پر نظر ڈالیں۔ قائد اعظم مزار ایک ٹھیکیدار کے توسط سے 51 کے قریب جینوٹرویل ملازمین کو ملازمت دیتا ہے۔ وہ صبح 8 بجے سے شام 8 بجے تک 12 گھنٹے کی شفٹ پر کام کرتے ہیں۔ انہیں روزانہ 12 گھنٹے کی ڈیوٹی کے لئے 14000 روپئے دیئے جاتے ہیں، جبکہ انہیں کم سے کم اجرت کے قانون کے مطابق 35 ہزارروپے اداکیے جانے چاہییں۔ (روزانہ 8 گھنٹے کی شفٹ کے لیے 17500 روپے اور اضافی 4 گھنٹے روزانہ کا اوور ٹائم 17500 روپے) انھیں میڈیکل یا ای او بی آئی کی بھی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے،

قائد اعظم مزار پر ایک ٹھیکیدار کے ذریعہ تقریبا 53 باغبان ملازم ہیں۔ انہیں صبح 7 بجے سے دوپہر 1 بجے تک مارننگ شفٹ ڈیوٹی کے لئے ہر ماہ 9 ہزار روپے ملتے ہیں۔ انھیں بھی میڈیکل اور ای او بی آئی کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ انہیں17500 روپے ماہانہ ملنے چاہیئں

قائد اعظم مزار کے مختلف دروازوں اور مقامات پر نجی سکیورٹی کمپنی کے ذریعہ نجی سکیورٹی گارڈز کو ملازمت دی گئی ہے۔ انہیں 12 گھنٹے کی شفٹ کے لئے 10، ہزار روپے دیئے جاتے ہیں (صبح 8 بجے سے شام 8 بجے تک) کوئی ای او بی آئی یا میڈیکل انشورنس یا میڈیکل رخصت نہیں دی جاتی ہے۔

مجھے یہ کہتے ہوئےاتہائی تکلیف ہو رہی ہے کہ یہ انتہائی ظلم اور لاقانونیت حکومت پاکستان کے ایک بہت ہی معزز ادارے یعنی کیو ایم ایم بیانجام دے رہا ہے۔ جناب، آپ سے ایک گزارش ہے کہ براہ کرم اس ریاست میں پائے جانے والی اس لاقانونیت کا فوری خاتمہ کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ مندرجہ ذیل اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

تمام معاہدہ ملازمین (جینوٹوریل اسٹاف، محافظ، مالی) کی کم سے کم تنخواہ 8 گھنٹے کی شفٹ کے لئے17 ہزار 5 سو روپے اور 12 گھنٹے کی شفٹ چلانے والوں کے لئے 35000 روپے مقرر کی جائے۔

اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ قوائد اور قانون کے مطابق تمام معاہدہ شدہ ملازمین کو ای او بی آئی کے ساتھ رجسٹرڈ کرایا جائے اور ان کا میڈیکل انشورنس بھی کیا جائے۔

ان ملازمین کو ادا کی جانے والی رقم کوجانچنے کے لیے یہ یقینی بنایا جائے کہ تمام ملازمین کو بینک چیک کے ذریعہ ادائیگی کی گئی ہے۔ تاکہ ادا کی جانے والی اصل رقم کا تعین کیا جاسکے۔

مخلص
نعیم صادق

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں