اولڈ ہوم

محمد علی جناح نے زمین کا ٹکڑا اس لیے حاصل کیا تھا تاکہ مسلمان اسلامی تہذیب وتمدن کے مطابق زندگیاں بسر کر سکیں ۔انھیں مذہبی آزادی میسر ہو اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ماؤں نے بیٹوں کو قربان کیا، بہنوں نے بھائی کھوئے اور بیویوں نے اپنے سہاگ قربان کئے تاکہ مسلمان معاشرہ آزادی کی سانسیں لے سکے مگر افسوس ہم نے جسمانی آزادی تو حاصل کر لی مگر ہمارا ذہن آج بھی مغرب کا غلام ہے۔ہم ذہنی غلامی سے نجات پانا بھول گئے نتیجتاً معاشرہ منافقت کا پتلا بن کر چکی کے دو پاٹوں میں پس رہا ہے اور آدھے تیتر اور آدھے بٹیر حضرات کی پیداوار وجود میں آئی۔حالات کا رونا ہر کوئی رو لیتا ہے مگر عملاً کچھ کرنا ہو تو ہم سے بڑا منافق کوئی نہیں، کوئی ہمیں نصیحت کرے تو ہمارا جواب کچھ یوں ہوتا ہے ارے جاؤ بھائی اپنا کام کرو ہم بے وقوف ہیں کیا؟ ہم نے سارے جہان کی اصلاح کا ٹھیکا لے رکھا ہے کیا؟ ہمارے اسی دو رنگی رویے نے ہمیں تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے نتیجے میں ہم اسلامی تعلیمات کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ بے حیائی اور برائی اپنے عروج پر ہیں،جنسی بے راہ روی فروغ پا رہی ہے، ہمارے رشتے ناطے کچے دھاگے بن چکے ہیں، خاندانی نظام تباہ وبرباد ہو چکا ہے، اولڈ ہوم (Old Home) وجود میں آ چکے ہیں،والدین اور اساتذہ کی قدر و قیمت کھو چکی ہے جس کا جب جی چاہے اپنی جنت اٹھا کر اولڈ ہوم (Old Home) کی نظر کر دے، قوم کی ہر بیٹی پریشان ہے ۔بیٹیاں گھر سے نکلنے سے خوف زدہ ہیں کہ کہیں کچھ ایسا نہ ہو جو انہیں اور ان کے والدین کو معاشرے میں سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑے، چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں ہوس زدگی کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں، ظالم کا ظلم انتہا پر ہے،مظلوم بے بس اور لاچار ہے ۔لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان سب کی وجوہات کیا ہیں؟ ہم کیوں مغرب کی چکاچوند میں گم ہو کر اندھا دھند تقلید میں مبتلا ہیں؟ ہم میں مادیت پرستی کیوں سرایت کر رہی ہے؟ لوگوں کے باغیچہ دل سے احساس کے پودے کیوں مر تے جا رہے ہیں؟ لوگ مساوات کو کیونکر بھول گئے ؟ ہم بھائی چارے سے نا آشنا کیونکر ہیں؟ سنت رسول ﷺ کیا ہے ہم کیونکر ناآشنا ہیں؟ہماری اخلاقی قدریں کہاں کھو رہی ہیں؟ ہماری بیٹیاں خوفزدہ اور بے امان کیونکر ہیں؟ افغانستان ، عراق،شام اور برما میں اپنے بھائیوںکے قتل عام پر ہم نے بے حسی کی چادرکیوں اوڑھ رکھی ہے؟ ہم ان کی تکالیف سے بے خبر کیونکر بن رہے ہیں؟ ان سب سوالوں کا ایک آسان سا جواب ہے قوم کے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت میں کمی ہے۔ آخر اس کمی کی وجہ کیا ہے؟ اسکی وجہ آزادی نسواں کا وہ نعرہ ہے جس کی آڑ میں عورت کا استحصال کر کے اسے اسکے گھر اور گھرداری سے دور کیا جا رہا ہے اس کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ اولاد کی تعلیم و تربیت میں صرف کر کے ان کی کجیوں کو دور کر سکے ۔نپولین بونا کا قول ہے ’’تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں ایک اچھی قوم دوں گا‘‘۔ایک وقت تھا جب عورت کی زندگی کا محور اسکا گھر اور بچے شمار ہوتے تھے مگر بیڑا غرق ہو اس نام نہاد آزادی نسواں کا جس کے نعرے نے ماؤں کو انکی اولاد سے دور کر دیا۔ بچے آیا کی گود میں پرورش پاتے ہیں ،مائیں لاپروا اور بے فکر ہیں، ایسے میں بچے کی تعلیم وتربیت کون کرے؟ گھر میں بزرگوں کے ساتھ رہنا ناگوار گزرتا ہے تو آیا کو کیا ضرورت ہے آپ کے بچے کو اسباق پڑھائے۔ ماں باپ کی عدم توجہ بچوں کو سرکش کر کے انہیں ایسا بنا دیتی ہے کہ وہ بچے جو قوم کے معمار ہیں قوم کا مستقبل ہیں وہی قوم کے لیے ناسور بن رہے ہیں، قرانی تعلیم سے نابلد ، اخلاقی اقدار سے نا آشنا بچے ہی معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں ۔قوم کی ماؤں اور بہنوں ابھی بھی کچھ زیادہ نہیں بگڑا، مہلت سے فائدہ اٹھایا جائے اپنی اولاد کو توجہ اور شفقت کے پانی سے سیراب کریں۔ انہیں اچھائی اور برائی میں تمیز کرنا سکھائیں کیونکہ برائی اپنے جتنے بھی پنکھ پھیلا لے ایک دن کچلی جاتی ہے اور اچھائی غالب آ کر رہتی ہے اور وہ دن دور نہیں جب اچھائی کا غلبہ ہو گا۔

فاطمہ عبدالخالق ،فیصل آباد

جواب چھوڑیں