لبنان کے مشہور شاعرخلیل جبران کی نظم ’’قابل رحم…

لبنان کے مشہور شاعرخلیل جبران کی نظم
’’قابل رحم ہے وہ قوم‘‘
اردو ترجمہ کا منظوم روپ : اسنٰی بدر
_____________________

قابل رحم ہے وہ قوم کہ ایمان سے دور
اپنے کمزور عقیدوں کے نشے میں مسرور

قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو پہنے ہے لباس
مانگ کر غیر کے دہقان کے ہاتھوں کا کپاس
قوم جو لفظوں کے ہالے میں نظر کھوتی ہے
وہ جو تلوار کے سائے میں پڑی سوتی ہے

رنج اس قوم پہ خوابوں میں کرے جو تقریر
ہاں مگر عالمِ بیداری میں خواہش کی اسیر

جس کی آواز پہ چلتے ہیں جنازے کے جلوس
اور حق کہنے سے گھٹ جاتی ہے جس کی ناموس

جس کو ماضی سے محبت کا ہے سامان بہت
فخر کرنے کے لئے یادوں کا احسان بہت

صورت حال پہ کرتی نہیں آواز بلند
اپنی گردن ہے سلامت تو زباں رکھتی ہے بند

جس کے رہبر اسے بھٹکائے ہوئے چلتے ہیں
جس کے عالم اسے بہکائے ہوئے چلتے ہیں
مسخ چہروں کی کراہت کو نہیں جانتی جو
اس تماشے کی سیاست کو نہیں جانتی جو

مرحبا کہتی ہے جو قوم نئے حاکم کو
اور دشنام سناتی ہے گئے حاکم کو

گونگے بہرے ہوئے جس قوم کے دانش منداں
وقت کی رو پہ گرے جاتے ہیں بوسیدہ مکاں

آہ ! وہ لوگ جو طبقوں میں بٹے جاتے ہیں
اور خود آپ کواک قوم کہے جاتے ہیں

— with Asna Badr.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2445540472343138

جواب چھوڑیں