معصومیت میوزیسی۔۔۔!! Masumiyet muzesi۔۔ اُسے یہی …

معصومیت میوزیسی۔۔۔!! Masumiyet muzesi۔۔

اُسے یہی ہونا چاہیے تھا۔۔۔

چکور جمعہ کے محلے میں، اپنے غفوانِ شباب میں اورحان پامک رات گئے تقسیم میں آوارہ گردی کرنے بعد، جہانگیر اور بے اوغلو کے درمیان، اُسی طرح کی تنگ گلیوں میں سے گشت کرتا ہوا لوٹا کرتا تھا۔۔ یہ متوسط طبقے کے لوگوں کا علاقہ ہے جہاں اُن دنوں سستے شراب خانے اور نہ جانے کتنی بے کشش اور نیم پرکشش جسم فروش لڑکیوں اور عورتوں کے ٹھکانے ہوا کرتے تھے۔۔ اس خُزن کی جو اورحان نے استنبول میں محسوس کیا تھا۔۔ تہہ یہاں ضرور بہت دبیز رہی ہوگئی اور جسے، اُنہی گلیوں سے گزر کر کسی آدھی رات کو پامک نے فیصلہ کیا کہ وہ تصاویر کے بجائے الفاظ میں محفوظ کریں گا۔۔

معصومیت کا یہ میوزیم ایک تین منزلہ گھر میں ہے جو انیسویں صدی کے اواخر میں بنا تھا اور جن کی دیواریں
" خونِ کبوتر " کی رنگ کی ہیں۔۔ یہی فسون رہتی تھی۔۔

ناول کے مطابق 19 مئی 1996 کو شام کے وقت کمال باسماجی چکور جمعہ میں فسون کے اس نئے گھر میں گیا تھا۔۔

فسون کی موت کے بعد کمال نے اورحان کے ساتھ کئی نشستیں کی تھیں اور اس سے اپنی زندگی پر ایک ناول لکھنے کا خواستگار ہوا تھا۔۔ اورحان کو ناول کے ابتدائی جملے کا خیال 15 مارچ 2003 کو نیویارک کی 42 ویں اسٹریٹ کی ایک مشہور لائبریری میں آیا، جس کے بعد اس نے باب در باب، ہر نمائشی ویٹرین، اور ان اشیاء کے جو ان میں موجود ہوں گئی، خاکے بنانے شروع کئے۔۔ میوزیم کے بالائی دو منزلوں پر اسی طرح باب در باب ویٹرینوں میں وہ اشیاء مادی شکل میں موجود ہیں۔۔ فسون کی ایک ایرِرنگ، جو پہلے باب " میری زندگی کا سب سے پرمسرت لمحہ " میں کھو جاتا ہے، سے طرح طرح کی ہئیر پینیں، بروچ، چھوٹی بڑی گھڑیاں، فسون کی سنگر مشین، لال ربن، سے بندھی ایک چھوٹی سی قینچی، حساب کرنے کی مشین 989 کے ہندسے کے ساتھ، اپنی نمائش کر رہی ہے۔۔

اورحان اس میوزیم کو استنبول کی نصف صدی کی عام زندگی کا یادوں کا ذخیرہ سمجھتا ہے۔۔ انہیں شیشوں کے پیچھے، ٹینس شوز، بچوں کے کھلونے، ٹائپ رائٹر، مہر لگے ہوئے پوسٹ کارڈ، فوٹگراف، پرفیوم کی بوتلیں، راکی کا گلاس، استنبول کی تصاویر، اخباری تراشے، فلم کا پوسٹر، پرسرار نمکدان اور ان کے ساتھ ساتھ کمال اور فسون کی ملاقات کا سبب جینی کولوں کا جعلی ہینڈ بیگ اور اس گاڑی کا اسپیڈ میٹر جسے ڈوراتے ہوئے فسون حادثے کا شکار ہوئی، بھی ناول کے اوراق سے نکل کر چھپ گئے ہیں۔۔

ناول کی طرح، اورحان کے خود اپنے الفاظ کے مطابق، میوزیم بھی استنبول خزن کی تشریح کرنے کی ایک کوشش ہے۔۔ ایٹک سے زیادہ دل شکستگی اور کہاں نظر آسکتی ہے۔۔ کمال یہاں 2000 سے 2007 تک رہا۔۔ اس کے استعمال میں آنے والے والی معمولی سی آہنی مسہری، جس کے پاس میز پر ایک لیمپ، تنگ بینچ اور مختلف درازیں پڑی ہے اور بچوں کی تین پہیوں والا سائیکل بھی جسے لوٹانے کے بہانے وہ پہلی بار فسون کے اس گھر میں آیا تھا۔۔

معصومیت کا میوزیمش بناکر اورحان اپنے کردار کمال میں ضم ہوگیا ہے۔۔ فسون کو جس امانت کو کمال نے اس کی سپرد کیا تھا، اورحان نے اس کا بار اپنے ناول اور اپنے میوزیم دونوں میں خوش سلیقگی سے اٹھایا ہے۔۔

کمال باسماجی، فسون کیسکن سے عشق میں فنا ہوگیا تھا۔۔ بجا طور پر پامک نے اس معصومیت کی میوزیم کی کسی ویٹرین میں کمال سے کوئی ذاتی یادگار نہیں رکھی۔۔

سب سے زیادہ دلسوز دو اشیاء نمائش ہیں، زینی منزل پر دیوار تا دیوار سلیپ پر بظاہر پیکانی حروف میں کوئی عبارت ہے۔۔ قریبی مشاہرے سے پتا چلتا ہے کہ سگریٹوں کے بچے ہوئے ٹکڑوں کو آڑے، ترچھے افقی اور عمودی انداز میں چپکا کر حروف کی سی شباہت دی گئی ہے۔۔ فسون کی چھوڑے ہوئے سگریٹوں کے ٹکڑے جن پر اس کی لیپ اسٹیک کے نیشان ہے۔۔ پلیکسی شیشوں کی اس ویٹرین میں ہر عمودی سطر کے اوپر سنہ اور سگریٹوں کے قریب باریک حروف میں فسون کا کہا ہوا کوئی فقرہ لکھا ہے۔۔

تیسری منزل پر ایک ویٹرین میں وتری طور پر آویزاں ایک فراک ہے، گلابی رنگ کی ساٹن کی، جس پر چھوٹے چھوٹے سفید پھول اور ہلکے رنگ کی پتیوں کا ڈیزائن ہے۔۔ کسی حد تک کشادہ گلے، بہت تنگ آستینوں والی اور کالر لگی یہ فراک استنبول کے اہم ترین فیشن ڈیزائنز سے بنوائی گئی ہے۔۔

میوزیم میں، فسون، کمال یا کسی بھی کردار کی تصویر نہیں ہے مگر فراک فسون کو نگاہوں کے سامنے لے آتی ہے۔۔ یہ فراک ان تمام محبت کرنے والوں کے لیے جن کے محبوب ان سے بچھڑے گئے ہیں، قمیضِ یوسف ہے۔۔

ایٹک ہی میں ناول کے مسودے کے چند اوراق اور ویٹرینوں کے خاکے رکھے گئے ہیں۔۔ مسودہ سرخ روشنائی سے بے طرح مجروح ہے۔۔!!

••••
تحریر : سید افضال احمد
حوالہ : آج رسالہ
انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2981315598765620

جواب چھوڑیں