ایک ناصحانہ غزل دور رہ کر وطن کی فضا سے جب بھی اح…

ایک ناصحانہ غزل

دور رہ کر وطن کی فضا سے جب بھی احباب کی یاد آئی
ہجر میں رہ گیا دل تڑپ کر آنکھ فرطِ الم سے بھر آئی

گلشنِ حسرت و آرزو کی جب کلی کوئی کِھلنے پہ آئی
بادِ صرصر نے مارے طمانچے اس خطا پر کہ کیوں مسکرائی

اہلِ زر سے یہ اُنس و محبت بے زروں سے یہ اندازِ نفرت
کُھل گیا آپ کا زُہد و تقوٰی دیکھ لی آپ کی پارسائی

وہ تصنع ہے اخلاق کیا ہے وہ نمائش ہے اخلاص کب ہے…

More

جواب چھوڑیں