"ہم دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ شاید زندگی کا معنی …

"ہم دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ شاید زندگی کا معنی یہی ہے۔ لیکن ہم زبان رکھتے ہیں؛ بولتے ہیں، لکھتے ہیں۔ بس اسی میں ہماری زندگیوں کی قدرو قیمت اور معنی ہیں۔۔۔ جن چیزوں کے نام نہیں ہیں، وہ سہم پیدا کرتی ہیں، صرف زبان ہی ہمیں اس سہم سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ (نام دے کر ہم انھیں پہچان لیتے ہیں۔ پہچان خوف کا خاتمہ کرتی ہے۔ خوف سے آزاد شخص ہی چیزوں کے ساتھ اپنا حقیقی تعلق دریافت یا قائم کرسکتا ہے۔) زبان اور صرف زبان مراقبہ ہے (ہر اس شے کو انسانی شعور کی گرفت میں لانے کا جس کا کچھ بھی تعلق ہم فانی انسانوں سے ہے)۔"
یہ عکس/اقتباس ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے تارہ افسانوں کے مجموعے "ایک زمانہ ختم ہوا ہے" سے لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں کُل بارہ افسانے ہیں اور یہ ڈاکٹر صاحب کے افسانوں کی چوتھی کتاب ہے۔ اور سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور نے شایع کیا ہے۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2981295112101002

جواب چھوڑیں