پاپولر و جارحانہ فیمنزم : عورتوں کی خوشیوں کا قاتل ۔۔۔۔ وحید مراد

٭کیا مرد و زن کی مکمل مساوات کےحصول کیلئے خاندان کی تباہی ضروری ہے؟

مونا چارین پارکر Mona Charen Parker امریکہ کی ایک مشہور کالم نویس، صحافی، اور سیاسی مبصر ہیں۔ وہ خارجہ پالیسی، دہشت گردی، سیاست، غربت، خاندانی ڈھانچے، عوامی اخلاقیات اور ثقافتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ وہ اپنی مشہور کتاب Sex Matters: How Modern Feminism Lost Touch with Science, Love, and Common Sense  میں فیمنزم کو ‘خاندانی اقدار’ میں کمی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ترقی کے لبرل مفروضوں کو اپناتے ہوئے ماڈرن فیمنزم  نے کئی ایسے غلط رخ اختیار کر لئے ہیں جنکی وجہ سے خواتین نے اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی اور خاندانی زندگی میں چھوٹی بڑی بے شمار خوشیوں کواپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر دیا ہے۔ 1972 کے بعد کے تمام سرویز کے مطابق امریکہ میں عورتوں کی خوشیاں مسلسل زوال کا شکار ہیں۔ بالغ افراد کی خوشیوں کا اسکیل دس میں سے صرف ایک سے تین کے پیمانے پر ہے اس  لئے اب انسانوں کی خوشیوں کی خاطر  ‘جنسی جنگ بندی’ کا اعلان کیا جانا چاہیے۔

موناچرین ،مرد و زن کی کامیابیوں اور خوشیوں کو مجروح کرنے والے جارحانہ فیمنزم کے ایجنڈے  کا تجزیہ کرتے ہوئے گھر،خاندان ،کام کی جگہ اور ذاتی رشتوں میں اسکے ناکام ہوتے ہوئے  نظام اور طریقہ کار کو بے نقاب کرتی ہیں۔وہ فیمنزم کے ایجنڈے اور لبرل ازم کے روائیتی مفروضات پرسوالات اٹھاتے ہوئے کہتی  ہیں کہ  کیا خواتین کو مکمل مساوات کےحصول کیلئے خاندان کو مکمل طور پر تباہ کرنا ضروری ہے؟

کیا اس مساوات کیلئے ایسے جنسی انقلاب اور ہک اپ کلچر کی ضرورت ہے جو شائستگی،صحبت اور جنسوں کے مابین  پیار محبت کے مخلصانہ تعلقات  کی صدیوں سے قائم روایات کو تباہ و برباد کردے؟

کیا  فیمنزم ،کالج اور یونیورسٹی کیمپسز میں ڈیٹنگ کلچر اور عصمت دری کے بحران کا سبب نہیں بنا؟

کیا فیمنزم کو جنسوں کے مابین وہ جنگ شروع کرنے کی ضرورت تھی جس کے تحت عورتیں ،مردوں کو اپنا دشمن تصور کرتی ہیں؟

کیا فیمنزم کی ترقی نے خواتین کو اپنے گھر اور کام کی زندگی میں خوشیاں دی ہیں یا انکی پہلے سے موجود خوشیاں چھین لی ہیں؟

وہ ان تین طریقوں کی نشاندہی کرتی ہیں جن میں حقوق نسوان کی تحریک نے غلطیاں کیں: جنسی انقلاب کی حمایت، خاندانی زندگی کی تردید اور اس بات کی پرزور  مخالفت  کہ مرد اور عورت کے مابین جسمانی،حیاتیاتی ،نفسیاتی اور جذباتی فرق نہیں ہے۔انکا کہنا ہے کہ  اس عمل کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عورتوں کیلئے عدم تحفظ اور خطرات بہت بڑھ گئے ہیں۔آج کی عورتیں محفوظ نہیں ،اور یہی وجہ ہے کہ وہ خوش بھی نہیں ہیں۔ اور یہ بات صرف خواتین تک ہی محدود نہیں بلکہ اس عمل سے  مردوں کی خوشیاں بھی غارت ہو چکی ہیں۔کیونکہ بہت سے مردوں نے عورتوں کے غیر فطری رویوں سے تنگ آکر  خود کشیاں کر لیں،کچھ اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر الگ ہوگئے۔

اب مردوں کی عدم موجودگی میں جو بچے پرورش پا رہے ہیں انکے سامنے باپ کا کوئی رول ماڈل نہیں۔ انکی بچپن کی زندگی میں باپ کی شخصیت کا فقدان انہیں بڑے ہو کر خاندان کیلئے ذمہ دارفرد اور ایک محافظ اور ستون بننے کے راستے میں حائل ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ اب عورت اور مرد کے درمیان پائے والے فطری میلان اور محبت کا خاتمہ  ہو چکا ہے کیونکہ اس فطری تعلق کی جگہ اب ڈیٹنگ ایپس لے چکی ہیں اور ہر فرد  ہر وقت ادھر ادھر منہ مار رہا ہے۔ محبت اور تعلق کے اس جدید انداز نے عورت کو عزت اور وقار سے محروم کر دیا ہے۔ Casual Sex اور Hookup Culture نے پرانے دور کے  رومانس اور فطری تعلق کو غارت کر دیا ہے۔

جنسوں کے درمیان  پائے جانے والے  امتیازات کی تردید کرنے اور جنسوں کے درمیان جنگ کرانے کی جو بھاری قیمت ادا کی گئی ہے وہ خاندان کی ٹوٹ پھوٹ، بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح،اسقاط حمل خواتین کی خوشیوں میں کمی، مردوں کی بے مقصدیت اوربڑھتی ہوئی عدم مساوات کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں آنے والے جنسی انقلاب کی وجہ سے شادی اورزچگی کو خواتین کیلئے جیل تصور کیا جاتا ہے۔ انکا استدلال ہے کہ  ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ،تجربہ کار  اور ذمہ دار عورت کا مطلب بچوں کی پرورش میں دلچسپی رکھنے والی ماں ہوتا ہے اور ہمارے معاشرے میں زچگی کو ایک بیماری کے طور پر تصور کیا جا رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اصناف کے درمیان پائے جانے والے امتیازات حقیقی ہیں اور ایک خوش  اور مثالی معاشرہ وہی ہوتا ہے جس میں  ہم فطرت کو قبول کرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں اور اس میں ہمیں زیادہ خوشیاں حاصل ہوتی ہیں۔ وہ  کہتی ہیں کہ آیا مساوات کا مطالبہ، مرد و زن کا ہر چیز میں یکساں ہونے کا مطالبہ ہے؟یا اسکا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ مرد و زن کے درمیان پائے جانے فطری فرق کا احترام کیا جائے۔خواتین کی دلچسپیاں کیا ہیں اور کون سی چیزیں خواتین کو خوش و خرم  رکھتے ہوئے انکی  ذات کو  مکمل کرتی ہیں؟ ان سوالوں کے جوابات میں وہ  Mary Wollstonecraft،  Hohn Sturat Mill، Germaine Greer اور Betty Friedan جیسے مصنفین کے خیالات کی جانچ پڑتال کرتی ہیں اور ان معاصرین کے مطالعات اور اعدادو شمار کی روشنی میں اپنے نتائج پر نگاہ  ڈالتے ہوئے بتاتی ہیں کہ یہ مفکریں کہاں کہاں غلطی پر تھے۔

چارن  ایک ماں،بیوی اور پروفیشل خاتون ہونے کی حیثیت سے اپنے تجربات  بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ چلیں میں یہ بات مان لیتی ہوں کہ صنفی کرداروں کا فرق،  سماج اورثقافت کا تخلیق کردہ ہے لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ  مرد اور عورت کے درمیان  حیاتیاتی اور کئی دیگر بنیادی امتیازات  پائے جاتے ہیں۔ان اختلافات کو تسلیم کرنا اور انکا احترام کیا جانا چاہیے۔ہمیں کسی طرح زیب نہیں دیتا کہ ہم مردوں کیلئے ‘زہریلی مردانگی ‘ جیسی غیر موزوں اصطلاحات کا استعمال کریں کیونکہ یہ چیز اصناف کے درمیان شدید غلط فہمیوں، غصے اور ناراضگی کا سبب بن رہی ہے۔فیمنزم  کی آئیڈیالوجی تمام  مرووں سے نفرت کا اظہار کرکے انکی عزت نفس  پر حملہ آور ہے۔ آپ کسی بھی کالج یا یونیورسٹی چلے جائیں آپ کو ہر عورت  اپنی  زبان سے ‘زہریلی مردانگی’ کےجملے  ادا کرتے ہوئے ملے گی۔

اگر فرض کریں مردوں کی فطرت میں جنسی عجلت جیسی کوئی چیز پائی بھی جاتی ہے جسے آپ جارحیت سمجھتی ہیں تو کیا  مرد کوگالی دینے سے اسکی یہ فطرت  تبدیل ہوجائے گی؟ یہ گالی اس سے زیادہ زہریلی چیز ہے جس فطرت کی طرف  یہ اشارہ کرتی ہے۔اسکی  بجائے یہ بھی تو کہا جا سکتا ہے ‘مردوں میں سے بیشتر عظیم لوگ ہوتے ہیں’ لیکن کچھ لوگ عجلت اور جلد بازی میں عورت کی عزت اور توقیر سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں انہیں اپنے  اس برےرویے پر غور کرنا چاہیے۔

فیمنزم  کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔اسے اپنی توانائی، خاندانی زندگی کو دوبارہ بحال کرنے اور جنسوں کے مابین تعلقات کو مضبوط بنانے کی طرف موڑنا ہوگا۔ یہ خیال کہ مردوں نے ہمیشہ خواتین پر ظلم کیا ہے اور فیمنزم کا مقصد عورتوں کی آزادی اور خودمختاری ہے۔۔۔یہ کہنے میں تو بہت آسان لیکن کرنے میں ناممکن ہے۔ہمارے لئے بہترین بات یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں کیونکہ یہ خاندان کی  بقا  اور یکجہتی کا پہلا قدم ہے اورخاندان تمام انسانی  اداروں میں سے بہترین نیٹ ورک ہے۔ اسکی طاقت کو برقرار رکھنا اس وقت کا حقیقی چیلنج ہے۔ مونا چارین کہتی ہیں کہ ‘اگر میری یہ بات فیمنسٹ ماہرین کی سمجھ میں آجائے تو میں خوشی کے مارے  اپنے آپ کو فون کرکے یہ  پیغام باربار دہرائوں گی’۔

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں