شب یلداشاعر : محمد منوّر مسعودی (کشمیر)فارسی سے ا…

شب یلدا

شاعر : محمد منوّر مسعودی (کشمیر)
فارسی سے اردو ترجمہ : نیلوفر ناز نحوی(بھارت)
***
سال کی سب سے لمبی رات
میں نے یوں ہر شب یلدا کا گیت خود اپنے لئے گایا
آج کی رات،اس شب یلدا میں
تو میرے گیتوں کا آغاز بن
آج کی رات میرا دل اک راز کہتا ہے تم سے
چلی آ میری ہستی کا آغاز و انجام بن
بے سحر رات نہ ہوگی کوئی،اس رات کے بعد،اس سال میں
آ،آج کی ایک رات خوش رہ،
میری شریک تار و پود بن
ہر رات کی طرح یہ رات بھی ڈھل جائے گی
آمیری جان شیرین آ،
آ میرے شیشے کا جام بن
آج کی رات اشعار سے میں تم کو خوشامد کہتا ہوں اے دوست
آ میرے تازہ ترین شعر
تو میرا چین بن،تو میرا عود بن
آج کی رات تمہیں بڑی نازوں سے رکھوں گا
الگ اک شوق پالا ہے
آ،آج کی سحر گاہ میں
تو میرے صبر کا پتھر بن
آج کی رات کس قدر غمگین ہے میرا دل
آج کی رات کی کوئی سحر نہیں
اس غم کو میرے دل سے رفع کردے
تو میرا صبح سپید بن
اور میں ہر شب یلدا میں
حافظ شیراز کی یاد میں
دل کی ہر بات کو گاتا تھا
مگر اب
آج کی رات تمہاری مست نرگسی آنکھوں کی یاد میں،فال دیکھا
تو میرے فال کی شاہد بن
تو شام و سحر کو چھوڑ کر صبح امید دیکھ
یہاں آکر تو میرے حال کا تماشا دیکھ
کیونکہ یہ فال کچھ کہتا ہے
کس قدر سہانا کہتا ہے مگر تیرے بغیر
ہر بات گلے میں رندھ گئی
میں نے یہ گیت کیسے گایا
لیکن ایک بات کہوں
اگر آئی میرے سرہانے صفائی سے بات کہتا ہوں
نہ آئی گر میرے نزدیک جفا سے کام لے لوں گا
آمیری زندگی
جفاؤں کو خود سے دور کردے
آؤ میری جان
تو میری سادگی بن
تو ہمیشہ کے لئے میری بن،میرے لئے بن۔
٭٭٭

— with Neelofar Naaz Nahvi.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2980304525533394

جواب چھوڑیں