اس نے مونٹیگ کے بازو کے نیچے چھپی ہوئی کتاب دیکھی …

اس نے مونٹیگ کے بازو کے نیچے چھپی ہوئی کتاب دیکھی اور بولے بغیر رہ نہ پایا۔ " تو یہ سب سچ تھا۔"

مونٹیگ اندر آ گیا۔ دروازہ بند ہو گیا۔

" بیٹھ جاؤ۔" فیبر نے اشارہ کیا، جیسےکہ اسے اس بات کا ڈر ہو کہ کتاب اس کی آنکھوں کے سامنے سے غائب ہو جائے گی۔اس کے پیچھے ، ایک خواب گاہ کا دروازہ کھلا تھا، اور اس کمرے میں ایک ڈیسک کے اوپر مشینری اور سٹیل کے آلات کا ایک ڈھیر لگا ہوا تھا۔
مونٹیگ اس کمرے کی بس ایک ہی جھلک دیکھ پایا اور فیبر مونٹیگ کی توجہ اس طرف مبذول ہوتے دیکھ کر،تیزی سے مڑا اور خواب گاہ کر دروازہ بند کر دیا اور دروازے کی ناب کو اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے کھڑا رہا۔ اس کی نظر پھر تی پھراتی پھر سے مونٹیگ کی طرف لوٹ آئی جو کہ اب بیٹھ چکا تھا اور کتاب اس کی گود میں پڑی ہوئی تھی۔ " یہ کتاب – کہاں سے تم –؟"
"چرائی ہے میں نے۔"
فیبر نے ، پہلی مرتبہ ، اپنی آنکھیں اٹھا کر، مونٹیگ کے چہر ے کی طرف براہ راست دیکھا۔" تم بہادر ہو۔"

فارن ہائیٹ 451

رے بریڈبرے

He looked at the book under Montag’s arm and could not stop. “So it’s true.”

Montag stepped inside. The door shut.

“Sit down.” Faber backed up, as if he feared the book might vanish if he took his eyes from it. Behind him, the door to a bedroom stood open, and in that room a litter of machinery and steel tools were strewn upon a desktop. Montag had only a glimpse, before Faber, seeing Montag’s attention diverted, turned quickly and shut the bedroom door and stood holding the knob with a trembling hand. His gaze returned unsteadily to Montag, who was now seated with the book in his lap. “The book—where did you—?”

“I stole it.”

Faber, for the first time, raised his eyes and looked directly into Montag’s face. “You’re brave.”

Fahrenheit 451

Ray Bradbury


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2980730092157504

جواب چھوڑیں