( غیر مطبوعہ ) راستے میں ہر جگــہ یوں بیٹھتے&#039…

( غیر مطبوعہ )

راستے میں ہر جگــہ یوں بیٹھتے' دیکھا کریں
سانپ ہوتے ہیں درختوں کے تلے' دیکھا کریں

شہ سواروں کے حسیں بھی راستے دیکھا کریں
گیسوؤں میں خاک ڈالے قافلے' دیکھا کریں

زرد چہروں کے لہو سے یہ شفق صورت بنے
غاصبوں سے تم یہ کہہ دو ' آئنے دیکھا کریں

اپنی قسمت پر اسے تو رشک کرنا چاہیے
جس طرف ہم اشتیاقِ دید سے دیکھا کریں

پتّھروں' اینٹوں پہ چڑھ کر آسماں کا قرب ہے
میرے اُن کے درمیاں یہ رابطے دیکھا کریں

اُن کے تکنے کے لیے اوروں کو دیکھوں ہوں امانؔ!
کاش وہ میری نظر کے زاویے دیکھا کریں

( امان اللہ جدون امان ؔ )

— with Amanullah Jadoon.

جواب چھوڑیں