یہ عالم شوق کا، دیکھا نہ جائے وہ بت ہے یا خدا، دی…

یہ عالم شوق کا، دیکھا نہ جائے
وہ بت ہے یا خدا، دیکھا نہ جائے!
یہ میرے ساتھ کیسی روشنی ہے
کہ مجھ سے راستہ، دیکھا نہ جائے!
یہ کن نظروں سے تُوں نے آج دیکھا
کہ تیرا دیکھنا، دیکھا نہ جائے!
ہمیشہ کے لیے مجھ سے بچھڑ جا
یہ منظر بارہا، دیکھا نہ جائے!
فراز اپنے سوا ہے کون تیرا؟
تُجھے ۔۔۔ تُجھ سے جُدا، دیکھا نہ جائے!


جواب چھوڑیں