برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا ہر شا…

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا
۔۔۔۔۔۔۔
شوقؔ بہرائچی کا یومِ وفات
January 13, 1964

شوق بہرائچی جنکا پورا نام سید ریاست حسین رضوی تھا کی پیدائش اجودھیاضلع فیض آباد کے محلہ سیدواڑا میں ایک زمیندار طبقہ سے تعلق رکھنے والے سید سلامت علی رضوی کے گھر میں 06 جون 1884ء کو ہوئی تھی۔شوق صاحب تلاش معاش میں بہرائچ آئے اور پھر یہیں کے ہوکے رہ گئے۔
علمی لیاقت کے اعتبار سے وہ صفر تھے لیکن یہ وہی صفر تھا جسے کسی گنتی کے داہینی طرف لگا دیا جائے تو اس کی قیمت دس گنا بڑھ جاتی ہے شوقؔ کا حال کچھ ایسا ہی تھا اردو ہندی انگریزی اور فارسی زبان کے الفاظ پر بڑی قدرت رکھتے تھے۔شروع میں غزلیں کہتے تھے پر انکی چلبلی طبیعت نے کروٹ بدلی اور غزل سے قطع تعلق کر کے وہ طنز و مزاح کی دنیا میں آگئے ۔شوق کی زندگی کے آخری دور میں یہ چہ میگوئیاں ہوتی رہتی تھی کہ شوق ؔ نے غزلیں لکھنا بند نہیں کیا بلکہ اجرت لیکر دوسرے شاعروں کے لیے لکھا کرتے تھے۔ شاعر و ادیب شارق ربانی کا کہنا ہے کہ طنز و مزاح کے شاعر وں میں شوقؔ بہرائچی کا شمار اکبر الہ آبادی کے بعد ہوتا ہے ۔شوق ؔ طنز و مزاح کے نامور شاعر تھے۔
عمر کے آخری ایام میں بوڑھے شوق کے لاغر جسم کو دمہ کے پرانے مرض نے بد حال کر رکھ دیا تھا ۔بیماری اور بے روزگاری نے زندگی کو بہت دشوار بنا دیا تھا ۔شوق کو حکومت کی طرف سے ایک مختصر سی رقم بطور وظیفہ ملتی تھی لیکن یہ سلسلہ صرف ایک سال کے لئے تھا۔اس وقت کے وزیر انصاف سید علی ظہیر صاحب کسی سلسلہ میں بہرائچ آئے تھے اور شوق کی عیادت کے لئے بھی شوق کے گھر گئے تھے۔شوق کی کسمپرسی اور علالت سے وزیر صاحب بہت متاثر ہوئے اور سرکاری مدد اور پنشن دلانے کا وعدہ کر لیا لیکن لیڈران کے وعدے کبھی پورے نہیں ہوتے ۔چنانچہ بستر مرگ پر پڑے ہوئے آدمی سے کیا گیا وعدہ بھی اور وعدوں کی طرح وفا نہیں ہو سکا اور شوقؔ بہرائچی مدد کے انتظار میں راہی ملک عدم ہو گئے ،اسی سلسلہ میں شوقؔ نے ایک قطعہ لکھا تھا
” سانس پھولے گی ،کھانسی سواآئے گی
لب پہ جان حزیں بار ہا آئے گی
دار فانی سے جب شوقؔ اٹھ جائے گا
تب مسیحا کے گھر سے دوا آئے گی

شوقؔ بہرائچی کی وفات 13 جنوری1964ء بہرائچ میں ہوئی
بشکریہ: وکی پیڈیا

Only one shout was enough to destroy the garden.
There is an owl sitting on every branch, what will be the end of the garden
۔۔۔۔۔۔۔
Death anniversary of Shawq Bahraichi
January 13, 1964

Shawk Bahraichi, whose full name was Syed Rizvi Rizvi, was born in the house of Syed Salamat Ali Rizvi, a landlord of Syedwara, in the neighborhood of Faizabad, on 06 June 1884 Shaq Sahib in search of livelihood. Bahraich came and then left here.
According to Ilmi Liaqat, he was zero, but this was the same zero which is put on the right side of a count, the price increases ten times. The condition of the interest was something like this. Urdu Hindi has great power over English and Persian language words. In the beginning, he used to say ghazals, but his chulbuli nature changed his turn and he came to the world of taunt and humor. In the last period of his life, it used to be magazine that the hobby stopped writing poetry. No, but he used to write for other poets after taking wages. Poet and Adeeb Sharq Rabbani says that the poets of sarcasm and humor are counted after Akbar Allahabadi. He was a famous poet of sarcasm and humor. ۔
In the last days of age, the helpless body of old interest was made bad by the old asthma disease. Disease and unemployment had made life very difficult. The interest was given a short amount as a wazifa from the government. But this series was only for one year. At that time, Justice Minister Syed Ali Zaheer had come to Bahraich in a series and also went to the house of Shawk to visit the passion. The Minister was very impressed with the complication and illness of interest. Promised to provide government help and pension but the promises of the leaders are never fulfilled. So, the promise made to the man lying on the bed of death could not be as faithful as the promises and Rahi Malik went away waiting for help. In this series, Shawq wrote a piece.
Breath will flourish, cough will come
My life will come on my lips again and again
When the passion will rise from the dead.
Then the medicine will come from the house of Messiah

Shawk-e-Bahraichi died on January 13, 1964 in Bahraich
Courtesy: Wikipedia

Translated


جواب چھوڑیں