میں رام سب سے بڑا ہوں اور اس زمانے میں بڑوں کو لو…

میں رام سب سے بڑا ہوں اور اس زمانے میں
بڑوں کو لوگ گھروں سے نکال دیتے ہیں ۔۔ !
..
رام ریاض کا یومِ پیدائش
January 13, 1932

رام ریاض کا اصل نام ریاض احمد ھے ۔ آپ 13 جنوری 1932 ء کو پانی پت ھریانہ مین پیدا ھوئے ۔ آپ کے والد کا نام شیخ نیاز احمد ھے ۔ آپ نے 1945ء میں پرائمری کا امتحان محلہ انصاریاں پانی پت کے مدرسہ شاخِ انصاریاں سے پاس کیا ۔ پھر ابھی مڈل کی تعلیم مکمل نہیں ھوئی تھی کہ ازادی کی صبح درخشاں طلوع ھوئی ۔ اس گل رنگ سویرے میں رام ریاض محلہ گلاب والا ، وارڈ نمبر 5 جھنگ شہر مین پہنچے ۔ مڈل کا امتحان 1950 ء میں حالی مسلم ھائی سکول جھنگ سے پاس کیا ۔ میٹرک کا امتحان ایم بی ھائی سکول جھنگ سے بطور ریگولر اسٹوڈنٹ 1953ء میں پاس کیا – رام ریاض کی شاعری کا آغاز ھائی سکول دور سے ھو چکا تھا ۔ 1965ء مین گورنمنٹ کالج جھنگ سے گریجویشن کا امتحان پاس کیا اس وقت تک آپ ریاض احمد شگفتہ کے نام سے معروف تھے ۔ آپ کی ڈگری پر بھی یہی نام درج ھے ۔ کچھ عرصہ بعد آپ نے اپنا قلمی نام رام ریاض اختیار کر لیا ۔
1973ء میں محکمہ خاندانی منصوبہ بندی میں بحیثیت پبلسٹی آفیسر کے طور پر انہین جاب مل گئی یہ سلسلہ تقریبا 4 برس تک جاری رھا اور بالآخر یہ ملازمت بھی تخفیف کی زد میں آ گئی ۔ اس کے ساتھ ھی رام ریاض کی بیروزگاری ، اور اعصابی شکست و ریخت کا ایک ایسا لرزہ خیز دور شروع ھوا جو ان کی معذوری اور بالآخر ان کی المناک اور حسرت ناک موت پر منتج ھوا ۔
1986ء مین ان کا پہلا مجموعہ کلام پیڑ اور پتے شائع ھوا ۔ 10 جون 1986ء کو فالج کے شدید حملے نے اس توانا شاعر کو مستقل طور پر اپاھج بنا کر رکھ دیا ۔ زندگی کے آخری ایام میں رام ریاض انتہائی کسمپرسی کی حالت میں تھا بیماری ، لاچاری اور بیروزگاری کا زھر اس کی نس نس میں اتر چکا تھا گزراوقات کا واحد ذریعہ اکادمی ادبیات کا 500 روپے ماھانہ وظیفہ تھا ۔ اپنی ضعیف ماں کے ساتھ جس طرح اس نے سانسیں گن گن کر اپنی زندگی کے دن پورے کئے وہ ھمارے لئے لمحہ فکریہ ھیں ۔ لیکن رام ریاض کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لایا ۔ وھی سدا بہار مسکراھٹ اس کے لبوں پر رھتی اور اپنے داخلی کرب کا اظہار اپنے شعرون کے ذریعے کرتا ۔
میں گر پڑا کہ مرے بازؤوں میں جان نہ تھی
وگرنہ میرا نشیمن تو یہ چٹان نہ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے ستوں مکانوں سے پیڑ رام اچھے ھین
گود بھی کشادہ ھے ، چھاؤں بھی زیادہ ھے
اور پھر بالآخر یہ شاعر ایک دن تھک کے گر پڑا ۔ 07 ستمبر 1990ء کو ایک مخلص دوست ، اچھا انسان ، بےباک شاعر زندگی کی بازی ھار گیا ۔ اب یہ خوبصورت لب و لہجے کا شاعر جھنگ کے نواحی قبرستان میں آسودۃ خاک ھے۔ لیکن اس کے اشعار ھمین ھمیشہ جھنجوڑتے رھیں گے ۔
اب تو ناراض نہ ھو گے ھم سے
کر لیا ھم نے کنارہ لوگو ۔۔۔۔۔۔ !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چین ایا ھے تو اب نیند بھی آ جائے گی
اور دھرتی ھمیں آرام سے کھا جائے گی


جواب چھوڑیں