وہ آئیں گے تو کھلیں گے نشاطِ وصل کے پھول شبِ فراق…

وہ آئیں گے تو کھلیں گے نشاطِ وصل کے پھول
شبِ فراق میں ان کی سخاوتوں کو نہ بھول

یہی ہے کیا تری تقسیمِ گلستاں کا اصول
کسی کو پھول ملیں اور کسی کو خار ببول

زمیں کا رنگ تو ہم رنگِ دام ہوتا ہے
بھٹک نہ جائیں کہیں میری چاہتوں کے رسول

تمہارے پاس تو سِم سِم کا اسمِ اعظم ہے
یہ کیا کہ بند ہے اپنے لیے ہی بابِ قبول

کسی کا دیدۂ خونیں بھی رنگ لا نہ سکا
کسی کے شعلۂ تن سے پگھل گئے ہیں اصول

بجھائیں پیار محبت کے شبنمستاں سے
نہ بیٹھ جائے گلِ جاں پہ نفرتوں کی یہ دُھول

بھری بہار میں جیسے پُھوار پڑتی ہے
کچھ اس طرح مرے دل پر ہے شاعری کا نزول

الجھ گئے کبھی سنگیں حقیقتوں سے جمیل
کبھی کسی کے تصور سے ہو گئے ہیں ملُول

(جمیل ملک)

المرسل : ابوالحسن علی (ندوی)

When he comes, the flowers of Nishat-e-Wisal will bloom.
Do not forget their generosity in the night of separation

Is this the principle of your distribution of garden
Someone gets flowers and someone gets thorns.

The color of the earth is the color of the price.
May the messenger of my love go astray

You have the Prime Minister of Sim Sim
What is this that it is closed for itself, I accept it.

Even the blood of someone could not bring color.
The rules have melted from someone's flame.

Extinguish love with the dew of love
May this dust of hatred not sit on the garden of life

Like a bloom in a full spring
The revelation of poetry is on my heart like this

Have you ever been confused with the truth?
Have you ever been confused by someone's imagination

(Jameel Malik)

Marsal: Abul Hasan Ali (Nadvi)

Translated

جواب چھوڑیں