یا رب مجھے ہے داغ تمنا بہت عزیز پہلو سے دل جدا ہ…

یا رب مجھے ہے داغ تمنا بہت عزیز
پہلو سے دل جدا ہو مگر یہ جدا نہ ہو

مولانا_عبدالحلیم_شررؔ صاحب“ کا یومِ ولادت
January 14, 1860

نام عبدالحلیم اور تخلص شررؔ تھا۔ 14؍جنوری 1860ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام تفضّل حسین تھا اور وہ حکیم تھے۔ شررؔ کے نانا واجد علی شاہ کی سرکار میں ملازم تھے اور واجد علی کی معزولی کے بعد ان کے ساتھ مٹیا برج چلے گئےتھے۔ بعد میں انھوں نے شرر کے والد کو بھی کلکتہ بلا لیا۔ شررؔ لکھنؤ میں رہے اور پڑھائی کی طرف متوجہ نہیں ہوئے تو ان کو بھی مٹیا برج بلا لیا گیا جہاں انھوں نے والد اور کچھ دوسرے علماء سے عربی، فارسی اور طب پڑھی۔ شررؔ ذہین اور بیحد تیز طرّار تھے جلد ہی انھوں نے شہزادوں کی محفلوں میں رسائی حاصل کر لی اور ان ہی کے رنگ میں رنگ گئے۔ مٹیا برج کے قیام کے دوران انھوں نے بٹیربازی سے لے کر جتنی ’’بازیاں‘‘ ہوتی ہیں سب کھیل ڈالیں۔ جب معاملہ بدنامی کی حد تک پہنچا تو والد نے ان کو لکھنؤ واپس بھیج دیا۔ لکھنؤ میں انھوں نے اپنی رنگین مزاجیوں کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ ان کا کچھ جھکاؤ اہل حدیث کی طرف تھا۔ لکھنؤ میں اس زمانہ میں مناظروں کا زور تھا۔ ذرا ذرا سی بات پر کوئی ایک فرقہ دوسرے کو مناظرہ کی دعوت دے بیٹھتا تھا۔ شررؔ بھی ان مناظروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے اور ان پر مذہبیت سوار ہونے لگی۔ وہ حدیث کی مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے دہلی جانا چاہتے تھے۔ وہاں میاں نذیر حسین محدث کا بڑا شہرہ تھا۔ گھر والوں نے انھیں روکنے کے لئے 18 سال کی عمر میں ہی ان کی شادی کرا دی لیکن وہ اگلے ہی سال دہلی جا کر نذیر حسین کے حلقۂ درس میں شامل ہو گئے۔ دہلی میں انھوں نے ازخود انگریزی بھی پڑھی۔ 1880ء میں دہلی سے وہ بالکل زاہد خشک بن کر لوٹے۔ لکھنؤ میں وہ منشی نول کشور کے ’’اودھ اخبار‘‘ کے صحافتی عملہ میں شامل ہو گئے۔ 1892ء میں شررؔ نواب وقارالملک کے بیٹے کے اتالیق بن کر انگلستان چلے گئے۔ انگلستان سے واپسی کے بعد انھوں نے حیدرآباد سے ہی ’’دلگداز‘‘ دوبارہ جاری کیا اور یہیں انھوں نے اپنا معرکہ آرا ناول ’’فردوس بریں‘‘ لکھا۔ پھر جب انھوں نے اپنی تاریخی کتاب ’’سکینہ بنت حسین‘‘ لکھی تو حیدرآباد میں ان کی سخت مخالفت ہوئی اور ان کو وہاں سے نکلنا پڑا۔ لکھنؤ واپس آ کر انھوں نے ’’دلگداز‘‘ کے ساتھ ساتھ اک پندرہ روزہ ’’پردۂ عصمت’’ بھی جاری کیا۔ 1901 میں شررؔ کوایک بار پھر حیدرآباد طلب کیا گیا لیکن جب وہ اس بار حیدرآباد پہنچے تو ان سے ستارے اچھے نہیں ھیں۔ ان کے مربّی خاص وقار الملک معتوب ہو کر برطرف کر دئے گئے اور پھر ان کا انتقال ہو گیا۔ 1903 میں شررؔ کو بھی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ اس طرح 1904ء میں ای کبار پھر ’’دلگداز‘‘ لکھنؤ سے جاری ہوا۔ لکھنؤ آ کر وہ پورے انہماک کے ساتھ ناول اور مضامین لکھنے میں مصروف ہو گئے۔ اسی زمانہ میں چکبست کے ساتھ ان کا معرکہ ہوا۔ چکبست نے دیاشنکر نسیمؔ کی مثنوی ’’زہرعشق‘‘ از سر نو مرتب کر کے شائع کرائی تھی اس پر ’’دلگداز‘‘ میں تبصرہ کرتے ہوئے شررؔ نے لکھا کہ اس مثنوی میں جو بھی اچھا ہے اس کا کریڈٹ نسیمؔ کے استاد آتش کو جاتا ہے اور زبان کی جو خرابی اور مثنوی میں جو ابتذال ہے اس کے لئے نسیمؔ ذمہ دار ہیں۔ اس پر دونوں طرف سے گرما گرم بحثیں ہوئیں۔ ’’اودھ پنچ‘‘ میں شررؔ کا مذاق اڑایا گیا۔ لیکن معاملہ انشاء اور مصحفی یا آتش و ناسخ کے معرکوں کی حد تک نہیں پہنچا۔ ’’دلگداز‘‘ میں شررؔ نے پہلی بار آزاد نظم کے نمونے بھی پیش کئے اور اردو داں طبقہ کو انگریزی شعر و ادب کے نئے رجحانات سے متعارف کرایا۔ یکم؍جولائی 1926ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔
#بحوالہ_ریختہ_ڈاٹ_کام
معروف شاعر مولانا عبدالحلیم شررؔ کے یومِ ولادت پر منتخب کلام
حسن شہہ لولاک جو چمکا شب معراج
جلووں سے نبی صبح تجلی شب معراج
کیا خوب جما وصل کا نقشہ شب معراج
مطلوب نیا طالب شیدا شب معراج
پایا نہ تقرب کسی مخلوق نے ایسا
جیسا کہ ملا شاہ کو رتبہ شب معراج
طالب تھا خدا بندۂ محبوب کا اپنے
مہمان خدا نور خدا تھا شب معراج
گنجینۂ رحمت سے حبیب ازلی کو
کیا کیا نہیں ﷲ نے بخشا شب معراج
تا دیر رہی طالب و مطلوب میں قربت
دل بھر کے مزہ وصل کا لوٹا شب معراج
کانوں نے سنا جو کبھی کانوں نہ سنا تھا
آنکھوں نے نہ دیکھا تھا جو دیکھا شب معراج
عالم کو کیا مست مئے حسن ازل نے
بیکار رہا ساغر و مینا شب معراج
نعلین مبارک کا ہوا فخر جو حاصل
بس جھوم گیا عرش معلیٰ شب معراج
ﷲ کا دیدار محمد کی شفاعت
مائلؔ کو ملی حشر کے دن یا شب معراج
———-
کیا سہل سمجھے ہو کہیں دھبا چھٹا نہ ہو
ظالم یہ میرا خون ہے رنگ حنا نہ ہو
یا رب مجھے ہے داغ تمنا بہت عزیز
پہلو سے دل جدا ہو مگر یہ جدا نہ ہو
راہیں نکالتا ہے یہی سوز و ساز کی
پہلو میں دل نہ ہو تو کوئی حوصلہ نہ ہو
تم اور وفا کرو یہ نہ مانوں گا میں کبھی
اس کو فریب دو جو تمہیں جانتا نہ ہو
کیا کیا شررؔ ذلیل ہوئے آبرو گئی
ایسا بھی عاشقی کا کسی کو مزا نہ ہو
———-
معجزہ وہ جو مسیحا کا دکھاتے جاتے
کہہ کے قم قبر سے مردے کو جلاتے جاتے
مرتے دم باغ مدینہ کا نظارا کرتے
دیکھ لیتے چمن خلد کو جاتے جاتے
دیکھ کر نور تجلی کو ترے دیوانے
دھجیاں دامن محشر کی اڑاتے جاتے
بن کے پروانہ مری روح نکلتی تن سے
لو جو اس شمع تجلی سے لگاتے جاتے
اک نظر دیکھتے ہی روئے محمد کی ضیا
غش پہ غش حضرت یوسف کو ہیں آتے جاتے
ہے وہ صحرائے جنوں آپ کے دیوانوں کا
حضرت خضر جہاں ٹھوکریں کھاتے جاتے
ایسا محبوب ہوا کون کہ امت کے لئے
روٹھتے آپ تو اللہ مناتے جاتے
طور پہ حضرت موسیٰ نہ کبھی جل بجھتے
آپ آنکھوں میں جو سرمہ نہ لگاتے جاتے
صف محشر میں الٰہی بہ حضور سرور
نعت پڑھ پڑھ کے یہ شہرت کی مناتے جاتے
———-
تمنا ہے یہ آنکھوں کی ترا دیدار آ دیکھیں
کبھی روضہ ترا یا احمد مختار آ دیکھیں
شفا ہو جائے دم میں کشتۂ ہجر محمد کو
اگر وہ خواب میں بھی حالت بیمار آ دیکھیں
یہ دل تھا ان کا مسکن مت اجاڑ اس کو غم ہجراں
غضب آ جائے گا گر شاہ دیں مسمار آ دیکھیں
نہ کچھ مرنے کا غم ہو اور نہ کچھ شکوہ ہو فرقت کا
اگر حالت مری وہ سید ابرار آ دیکھیں
جو مداح نبی پر طعنہ زن ممتاز ہوتے ہیں
دکھائیں شعر اپنے اور مرے اشعار آ دیکھیں
#بشکریہ_ریختہ_ڈاٹ_کام
💠♦️🔹🎊🔹♦️💠
🌹 مولانا عبدالحلیم شررؔ 🌹
✍️ انتخاب : شمیم ریاض

O God, I have the stains of desire very dear
The heart may be separated from the side but it should not be separated

Birthday of Maulana _ Abdul Haleem _ Sharra Sahib ′′
January 14, 1860

The name was Abdul Haleem and Takhlis Sharra. Born in Lucknow on January 14, 1860 His father's name was Tafzal Hussain and he was Hakeem. Sharra's grandfather was a servant of Wajid Ali Shah and Wajid Ali's government. After Mozoli, he went to Matiya Bridge with him. Later, he called Sharr's father to Calcutta. Sharra lived in Lucknow and did not concentrate on education, so he was also called to Matiya Bridge where he had his father and something else. Studied Arabic, Persian and Medicine from other scholars. They were intelligent and very sharp. Soon they reached the princes s' gathering and colored in their colors. During the establishment of Matiya Bridge, they took quail from quail. Play as much as ′′ shenanigans ′′ as you can. When the matter reached the extent of scandal, father sent him back to Lucknow. He continued his education with his colorful nature in Lucknow. Some of their tilt of Ahle Hadith. It was on the side. In Lucknow, there was a power of debates. On a little bit, some sect used to invite each other for a debate. The Sherra also started participating in these debates and the religion started riding on them. Wanted to go to Delhi to learn more of Hadith. There was a big city of Mian Nazir Hussain Muhadis. The family got him married at the age of 18 to stop him but he will go to Delhi next year. Kar joined Nazir Hussain's constituency. He himself read English in Delhi. In 1880 he returned from Delhi as a Zahid Dry. He was a journalist of Munshi Nol Kishore's ′′ Awadh Newspaper ′′ in Lucknow. Joined the crew. In 1892, Sherra, Nawab Waqar ul Mulk's son went to England after returning from England, he re-released ′′ Dalgadaz ′′ from Hyderabad and here he made his battle of ara novel. Wrote ′′ Firdous Brien Then when she wrote her historical book ′′ Sakina Bint Hussain She was strongly opposed in Hyderabad and had to leave there. Returning to Lucknow, she said ′′ Disgusting Along with that, a fifteen-day ′′ Parda Asmat ′′ was also released. In 1901, Sharra was once again called Hyderabad, but when he reached Hyderabad this time, the stars are not better than him. His special guide Waqar ul Mulk Maatub He was fired and then died. In 1903, Sherra was also fired. Similarly in 1904, E-Kabar was again released from Lucknow. Lucknow A He got busy writing novels and articles with the whole world. In the same time, he had a battle with Chakbast. Chakbast had published Dyashkar Naseem's Masnavi on it ′′ Zahr Ishq ′′ While commenting in Dalgdaz, Sharra wrote that whatever is good in this masnavi, the credit goes to Naseem's teacher Aatsh and Naseem is responsible for the language error and the beginning of Masnavi. Both on this There were hot arguments from the side. In ′′ Awadh Punch Sherra was mocked. But the matter did not reach the extent of the battle of Insha and Mushafi or fireworks. In ′′ Dalgdaz ′′, Sharra gave an independent poem for the first time. He also presented the samples and introduced the Urdu class to the new trends of English poetry and literature. He died on 1926st / July 1926
#بحوالہ_ریختہ_ڈاٹ_کام
Selected words on the birthday of famous poet Maulana Abdul Haleem Sharra
The beauty of the city that shines in the night of ascension
The Prophet with light in the morning, the night of ascension
What a beautiful map of a steady meeting Shab-e-Meraj
Wanted new student Shida Shab-e-Meraj
No creature found such a nearness
As Mullah Shah has the status of Shab-e-Meraj
I wanted God's servant of my beloved.
The guest of God was the light of God. Night of Ascension
With the blessings of God to Habib Azli
What didn't you do? Allah has blessed the night of Ascension.
The closeness in the desire and desire remained long.
The fun of meeting with full of heart, the night of Ascension
Ears heard which never heard
Eyes did not see what they saw night of ascension
The world is not happy with the beauty of eternity.
Saghar and Meena remained useless.
The pride of the shoes of Mubarak which is achieved
The sky is just pleasant, the night of ascension is just pleasant.
The sight of Allah, the intercession of Muhammad
Did Mile get it on the Day of Resurrection or the night of Ascension
———-
How easy do you think that there is no sixth spot
Cruel, this is my blood, not the color of Hannah
O God, I have the stains of desire very dear
The heart may be separated from the side but it should not be separated
This is the way of inhuman and instrument.
If you don't have a heart on your side, then there should be
You be more loyal, I will never accept this.
Deceive the one who doesn't know you
What a shame, he got humiliated, he got honor.
No one should enjoy such love
———-
The miracle that the Messiah was shown
Burning the dead from the grave by saying Qom
While visiting the garden of Madina while dying
I would have seen going to the garden of Khld.
Seeing the light of light, your lover
While blowing up the doomsday
My soul comes out of my body after becoming a promise.
Look who used to light this candle
Muhammad's Zia cried as soon as he saw a glance
Hazrat Yusuf is sad while coming.
This is the desert of jinn for your lovers.
Hazrat Khizar Jahan while stumbling
Who has become such a beloved for the Ummah
If you were angry, you would have been celebrating Allah
Hazrat Musa would never have been burnt on the Toor.
If you wouldn't have put a kohl in your eyes
In the day of Judgment, Allah is the Holy Prophet.
Celebrating fame after reading Naat.
———-
I wish to see you in my eyes.
Come and see the shrine of Tara or Ahmed Mukhtar
May the boat of separation of Muhammad be healed
If he comes sick even in dream
This was his heart, don't destroy his house, the grief of separation
You will be angry if the king is destroyed, come and see
There should be no sorrow of death, nor any complaints of love.
If my condition is dead, come and see Syed Abrar
The fans who taunt the Prophet are distinguished
Show your poetry and my poems, come and see
#بشکریہ_ریختہ_ڈاٹ_کام
💠♦️🔹➖➖🎊➖➖🔹♦️💠
🌹 Maulana Abdul Haleem Sharra 🌹
✍️ Selection: Shamim Riaz

Translated


جواب چھوڑیں