جھونپڑی کے عقب میں کوئی چیز سرسرائی۔ پگی ایک لمحہ …

جھونپڑی کے عقب میں کوئی چیز سرسرائی۔ پگی ایک لمحہ ساکت لیٹا رہا لیکن یکایک اس پر دمّے کا دورہ پڑا اور اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ اس کی کمر کمان کی مانند ٹیڑھی ہوئی اور پھر وہ الٹ کر سوکھے پتوں کے ڈھیر پر گرا۔ رالف تیزی سے کروٹ بدل کر اس سے دور ہوا۔ جھونپڑی کے دروازے پر غراہٹ بلند ہوئی اور ساتھ ہی ہاتھا پائی اور دھینگا مشتی ہونے لگی۔ کوئی رالف سے ٹھوکر کھا کر گرا اور پگی کے ارد گرد تیز سانسیں، غراہٹیں پھیل گئیں اور ہاتھ پاؤں چلنے لگے۔ رالف نے تاریکی میں ہاتھ گھمایا۔ جلد ہی وہ اور درجن بھر دیگر مکّے لاتیں چلانے لگے، گتھم گتھا ایک دوسرے کو نوچنے بھنبھوڑنے لگے۔ اسی کھینچا تانی میں اسے اپنے منہ میں کسی کی انگلیوں کا احساس ہوا تو اس نے پوری قوت سے انہیں چبا ڈالا۔ ایک چیخ کے ساتھ اس کے منہ سے ہاتھ نکلا اور مکّے کی صورت میں واپس آیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے جھونپڑی میں یکایک روشنی کے جھماکے ہونے لگے۔ رالف نے پھرتی سے پینترا بدلا اور اپنے نیچے دبے کلبلاتے بل کھاتے جسم کے اوپر چڑھ بیٹھا، اسے اپنے گال پر سانسوں کی حرارت محسوس ہوئی۔ اپنی دونوں مٹھیاں بھینچ کر وہ اپنے نیچے پھنسے چہرے پر گھونسے برسانے لگا۔ جیسے ہی وہ چہرہ رطوبت سے گیلا ہونے لگا تو رالف کے گھونسوں میں دیوانہ وار تیزی اور شدّت آ گئی۔ اس کی ٹانگوں کے درمیان ایک گھٹنا بلند ہوا اور وہ اپنے پہلو پر گر گیا۔ قبر پر پھینکی جانے والی مٹی کی مانند درد اس کے جسم پر پھیلتا چلا گیا۔ اس کے ارد گرد لڑائی جاری تھی۔ پھر اچانک فیصلہ کن انداز میں جھونپڑی کی چھت ان سب پر آن گری۔ تاریک ہیولے نوچتے کھسوٹتے باہر کی جانب نکلنے لگے اور گھاس پھونس، خشک پتوں اور لرزتے جسموں کو پھلانگتے ہوئے باہر اندھیرے میں غائب ہو گئے۔ ایک مرتبہ پھر کم عمر بچوں کی چیخیں اور پگی کی تیز بھاری سانسیں سنائی دینے لگیں۔ رالف کپکپاتی آواز میں بول اٹھا۔
اقتباس :Lord of the Flies – William Golding – زیر تکمیل اردو ترجمہ : شوکت نواز نیازی


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2984412035122643

جواب چھوڑیں