ڈاکٹر مبارک علی اور حسن نثار میں مماثلت – حسن غزالی

ڈاکٹر مبارک علی اور حسن نثار معنوی اعتبار سے جڑواں بھائی ہیں۔ جس طرح حسن نثار کو پاکستانی قوم ذلیل نظر آتی ہے اسی طرح ڈاکٹر مبارک علی کو مسلمانوں کی تاریخ قابلِ مذمّت نظر آتی ہے۔ جس طرح حسن نثار کو اپنی قوم میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی اسی طرح ڈاکٹر مبارک علی کو مسلمانوں کی تاریخ میں کوئی خیر اور خوشی کی بات نہیں ملتی۔ ان کی ایک اہم کتاب کا نام ہی “المیہ تاریخ” ہے۔

ڈاکٹر صاحب اپنا مؤقف ثابت کرنے کے لیے کچھ تکنیکیں استعمال کرتے ہیں اور اپنی مذکورہ تحریر میں بھی انہوں نے یہی تکنیکیں استعمال کی ہیں۔ انکی تفصیل درج ذیل ہے:

 تکنیک 1 : خامی کو خوبی سے مشابہ دکھا کر خامی کو بھی خوبی کے طور پر پیش کرنا

ڈاکٹر صاحب کی تحریروں میں مضامین کی تکرار کے دفاع میں یہ کہا گیا ہے کہ اقبال کی شاعری میں بھی تو فلسفہء خودی کی بہت زیادہ تکرار ملتی ہے۔

اقبال کی فلسفہء خودی کی تکرار اور ڈاکٹر صاحب کی تکرارِ مضامین میں جوہری فرق ہے۔

میرانیس کہتے ہیں اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں۔

شاعری میں ایک ہی بات کو طرح طرح سے بیان کرنا بڑا کمال سمجھا جاتا ہے۔ میر انیس کی ساری شاعری کربلا پر ہے اور پھر ایک ایک شخصیت پر دو چار نہیں بلکہ دس، پندرہ، بیس یا اس سے بھی زیادہ مرثیے ہیں۔ ساری دنیا میں شاید ایک بھی شخص ایسا نہیں ملے گا جو اس تکرار کی وجہ سے میرانیس کی شاعری کو رد کردے۔

اس اعتبار سے فلسفہء خودی کو طرح طرح سے بیان کرنا اقبال کا عظیم شعری کارنامہ تھا۔

دوسری بات یہ ہے کہ فلسفہء خودی اقبال کا اپنی قوم کے نام ایک پیغام تھا، جسے بار بار دیا جانا ضروری تھا۔ ایک بانگِ درا تھی جو مسلسل دی جانی چاہیے تھی تاکہ ہر مسافر بیدار ہوجائے اور سفر کی تیاری کرے۔

اس تکرار کو ڈاکٹر مبارک علی کی کتابوں میں مضامین کی تکرار سے قطعاً کوئی مناسبت نہیں ہے۔ اسی تکرارِ مضامین کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کی چند کتابیں پڑھنے کے بعد بیزاری ہونے لگتی ہے۔

تکنیک 2 : حقارت سے پیش آنا

ڈاکٹر صاحب کی تکرارِ مضامین کے دفاع میں ایک جملہ یہ بھی ہے، “کیا آپ اقبال کو فکری اعتبار سے کم تر کہیں گے جس کے ہاں فلسفہء خودی کو جگہ جگہ رگیدا گیا ہے۔”

اس فقرے میں “جگہ جگہ رگیدا گیا ہے” سے اقبال کے فلسفہء خودی کی تکرار کو بڑی حقارت سے بیان کیا گیا ہے، جس سے دل میں ایک دم اقبال کے حق میں ایک لہر اٹھتی ہے جس کا فائدہ ڈاکٹر صاحب کی تکرارِ مضامین کو ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کا طریقِ استدلال

ایک لطیفہ پیش کر رہا ہوں جو ان کی طرزِ استدلال کو بہ خوبی واضح کرتا ہے۔
ایک مرتبہ ایک ہندو اور مسلمان میں اس پر بحث ہوگئی کہ دونوں میں کون زیادہ صاف ستھرا رہتا ہے۔
ایک شخص کو انھوں جج مقرر کیا۔ اس نے پوچھا کہ تم کتنی مرتبہ نہاتے ہو؟
ہندو نے بڑے ٹھنڈے لہجے اور سادہ الفاظ میں کہا، “میں روزانہ صبح نہاتا ہوں۔”
مسلمان سے جب یہ سوال کیا گیا تو اس نے تیزی سے اور تکرار سے کہا، “جمعے کے جمعے، جمعے کے جمعے__ ارے، میں تو جمعے کے جمعے نہاتا ہوں۔”
مسلمان بحث جیت گیا۔
مسلمان نے جمعے کی تکرار ایسے زور و شور سے کی جیسے جمعہ ہر گھنٹے بعد آرہا ہے۔

جس طرح مسلمان نے ہندو کے روزانہ نہانے کی طرف سے آنکھیں بند کرکے اپنے ہفت روزہ غسل کی تکرار کی اسی طرح ڈاکٹر صاحب کرتے ہیں۔ یہ پہاڑ جیسی حقیقت سے بھی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ ان کے اس تجاہلِ دانشورانہ سے کراہت ہوتی ہے اور جی متلانے لگتا ہے۔

مثال کے طور پر، ان کی کتاب “المیہ تاریخ” میں اقبال پر مضمون پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو پتا ہی نہیں تھا کہ اقبال نے مسلمانانِ ہند کو جگایا ہے اور انھیں ایک مقصد دیا ہے۔ یہ مضمون عبیداللہ سندھی کے ایک طویل اقتباس پر ختم ہوتا ہے جس کے آخری پیراگراف میں یہ جملہ ہے، “اقبال کی شاعری کوئی مثبت پیغام دینے میں ناکام رہی۔ ”

ڈاکٹر صاحب کی کتابوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ فکری اعتبار سے بڑی حد تک یہ ایک سطحی شخص ہیں۔ انھیں باقاعدہ کتابیں لکھنے کی توفیق کم ہی ملی ہے؛ ان کی زیادہ تر کتابیں ان کے مضامین یا کالمز کا مجموعہ ہیں۔ مضامین کو کتابی شکل دینے میں کوئی ہرج نہیں ہے، بہت سے علمی لوگ یہ کرتے ہیں، اور ان کی علمی خدمات میں باقاعدہ ایک بھی کتاب نہیں ہوتی، لیکن یہ مان لینا چاہیے کہ یہ سطحی پن یا نااہلیت نہیں تو فکری تساہل ضرور ہے۔

دانشوری اور خاص طور پر ڈاکٹر مبارک علی کے موضوع کا تقاضا یہ تھا کہ یہ باقاعدہ کتابیں لکھتے۔ ایک کتاب لکھنے میں اور بیٹھے بیٹھے قلم گھسیٹ کر ایک کالم یا مضمون لکھنے میں ہزاروں میل کا فاصلہ ہے۔ ایک فکری کتاب خونِ جگر سے لکھی جاتی ہے۔

نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر

ڈاکٹر مبارک علی نے اچھا کیا کہ مضامین اور کالمز پر ہی گزارہ کیا۔ اگر یہ باقاعدہ فکری کتابیں لکھنے کی کوشش کرتے تو خون تھوک تھوک کر مر جاتے۔

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و سازِ رومی، کبھی پیچ و تابِ رازی

یہ شعر اس لیے لکھا گیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو کم از کم پتا تو چل جائے کہ مقدّس فکری کتاب کے لیے سوز و سازِ رومی چاہیے اور عظیم فکری کتاب کے لیے پیچ و تابِ رازی چاہیے۔

ڈاکٹر مبارک علی کا پاکستانی قوم کی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ اس قوم میں اچھائی نہیں تھی بلکہ اس قوم کے خمیر میں ہی ذلّت تھی۔ پاکستانی قوم تو کیا یہ قائدِاعظم کو بھی عزّت نہیں دیتے۔ قائداعظم پر انھوں نے “قائداعظم کیا تھے اور کیا نہیں تھے” کے نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے۔ اس میں ان کے اور چند دوسرے قلم کاروں کے کالم ہیں۔

اس کتاب کے نام سے ذہن میں یہ خیال چھلانگ لگا کر آتا ہے کہ اس میں بڑے انکشافات ہوں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کو طبلے کی تھاپ اور گھنگروؤں کی جھنکار بھی سنائی دینے لگی ہو، مگر کتاب بڑی ہی پھیکی ہے__اس میں دو تین تولہ دہی سے پوری قوم کے لیے لسّی بنائی گئی ہے۔ اس میں قائدِاعظم کا ایک مبیّنہ بیان “پاکستان میں نے اور میرے ٹائپ رائٹر نے بنایا ہے” اور دو تین دور دراز کے نکات پر جنگ لڑی گئی ہے۔ اس کتاب کے موضوع سے ڈاکٹر صاحب کی فکری غربت نظر آتی ہے اور قاری دیکھتا ہے کہ ان کا فکری لباس جگہ جگہ سے پھٹا ہوا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے قائداعظم کو قائداعظم بھی لکھا ہے لیکن زیادہ تر جناح صاحب لکھا ہے۔ انھیں قائداعظم کی شخصیت، اصول اور افکار میں ایسا کچھ بھی نظر نہیں آتا جس کی پاکستانی قوم کو موجودہ دور میں ضرورت ہو۔ ان کے نزدیک، قائداعظم اب بس ایک تاریخی شخصیت ہیں اور پاکستانی قوم کو انھیں چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہیے۔

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے کسی کو عزّت دینا بہت مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہوتا ہے_ یہ فرشتوں میں بھی خامی نکال سکتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے کافی لوگ ہیں، لیکن اس فن کی انتہائی بلندیوں تک صرف دو افراد ہی پہنچے ہیں: ڈاکٹر مبارک علی اور حسن نثار۔ 22 کروڑ پاکستانیوں میں صرف یہ ڈاکٹر مبارک علی اور حسن نثار ہی ہیں جنھوں نے مسلسل اپنی قوم کو ذلیل کیا ہے۔ ان دونوں کی راتیں اس کشمکش میں گزرتی ہیں کہ کس طرح پاکستانی قوم کو دنیا کی بدترین قوم ثابت کیا جائے۔ (ان دونوں کو سزا دینا، نہ ہی پاکستانی قوم کے بس میں ہے اور نہ ہی پاکستانی حکومت کے لیے ممکن ہے___اللہ ہی انھیں سزا دے گا۔)

اسی کتاب میں حسن نثار کا بھی ایک کالم ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے:
“عہدِ جدید میں ہم نے صرف۔۔۔۔۔ صرف اور صرف ایک مورخ کو جنم دیا ہے جس کا نام مبارک علی ہے۔۔۔۔۔ باقی سب مداری ہیں۔”

اسی کتاب میں ڈاکٹر مبارک علی اپنے کالم “قائداعظم کے بارے میں چند اور وضاحتیں” کی ابتدا اس طرح کرتے ہیں، “مورخوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں: ایک وہ جو کہ تاریخ سے سچائی کو چھپاتے ہیں، اور دوسرے وہ جو سچائی کو ظاہر کرتے ہیں۔”

ڈاکٹر صاحب کا شمار سچائی ظاہر کرنے والے مورخوں میں ہوتا ہے یا یہ ایک سچائی چھپانے والے مورخ ہیں__ان کی کتابیں یہ حقیقت چیخ چیخ کر بتاتی ہیں۔ دو اقتباسات دیکھیے:

1 “سیاست کے تقاضوں کے تحت انھوں نے مذہب کو استعمال کیا، اور اپنی تقریروں میں اس کا ذکر کیا۔ لیکن ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ پاکستان کو ایک مذہب ریاست کے طور پر قائم کریں۔”
قایدا عظم کیا تھے اور کیا نہیں تھے : ڈاکٹر صفدر محمود اور تاریخ نویسی

اس اقتباس سے ڈاکٹر مبارک علی کی تاریخ نگاری کی اہلیت واضح ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک قائداعظم نے تحریکِ پاکستان جھوٹ اور منافقت پر چلائی۔

2 “پاکستان میں تقسیمِ ہند کی تاریخ کو اب تک فرقہ ورانہ نقطہء نظر سے لکھا جارہا ہے جو تاریخ کو منفی انداز میں پیش کرتا ہے اور تاریخی عمل کو تعصب کی روشنی میں دیکھتے ہوئے غلط نتائج نکالتا ہے۔”
قائداعظم کیا تھے اور کیا نہیں تھے: ڈاکٹر صفدر محمود اور تاریخ نویسی

دیانت داری کا تقاضا یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب فرقہ وارانہ نقطہء نظر کی بجائے نظریاتی نقطہء نظر کا لفظ استعمال کرتے۔ فرقہ وارانہ کا لفظ استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ دل میں نفرت، حقارت اور زیادتی کے احساسات دل میں بیدار کرتا ہے اور قاری کو گمراہ کرتا ہے۔

نظریے کو نکال کر پاکستان کی تاریخ لکھی ہی نہیں جاسکتی۔ قائداعظم نے کئی سال کوششیں کیں کہ کسی طرح ہندو مسلمانوں کو ہندوستان میں عزت سے رہنے کا حق دے دیں۔ قائداعظم کو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر بھی کہا گیا۔ ہر ممکن کوشش کرنے کے بعد، بالآخر، قائداعظم کو یقین ہوگیا کہ ہندو مسلمانوں کو ان کے حقوق نہیں دیں گے۔

قائداعظم کی ہندوؤں کو راضی کرنے کی جان توڑ کوششیں تاریخ کا حصّہ ہیں۔

کیا یہ پہاڑ جیسی حقیقت ڈاکٹر صاحب کو نظر آتی ہے؟
نہیں، نہیں نظر آتی!
علّامہ اقبال نے گیت گایا
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

اقبال کی ابتدائی شاعری بتاتی ہے کہ انھیں ہندوستاں اور اس کے باسیوں سے بہت زیادہ محبت تھی، وہ ساتھ مل کر جینا چاہتے تھے، محبت کے گیت گانا چاہتے تھے، مگر ہندوؤں کے رویے نے ان پر واضح کردیا کہ عزت سے سے ساتھ رہنا ممکن نہیں ہے، اور پھر انھوں نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کی تجویز پیش کی۔

کیا یہ پہاڑ جیسی حقیقت ڈاکٹر صاحب کو نظر آتی ہے؟
نہیں، نہیں نظر آتی!

1937 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد، کانگریس کی صوبائی حکومتوں نے مسلمانوں کو معاشی اور تعلیمی طور پر کچلنے کی پوری پوری کوشش کی۔ ان کا اسلام سے بغض بھی کھل کر سامنے آیا__ان حکومتوں نے اسلام دشمن اقدامات کیے اور قوانین بنائے۔

کیا ڈاکٹر صاحب ان کانگریسی حکومتوں کی مسلم دشمنی اور اسلام دشمنی دیانت داری سے بیان کرسکتے ہیں،
نہیں، یہ ممکن نہیں ہے!

ڈاکٹر صاحب نے اپنی داستانِ حیات “در در ٹھوکر کھائے” کے نام سے لکھی ہے۔ انھوں نے حقیقی اور مبیّنہ جو ٹھوکریں کھائی ہیں شاید اسی کی سزا انھوں نے پاکستانی قوم اور اس کی تاریخ کو دی ہے۔

انھوں نے زندگی بھر پاکستانی قوم اور اس کی تاریخ کو ٹھوکریں ماری ہیں۔

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے

(ڈاکٹر مبارک علی پر یہ تحریر پندرہ بیس برس پہلے لکھی گئی تھی)

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں