سفید قلعہ نوبل انعام یافتہ ترکش لکھاری اورحان پامک…

سفید قلعہ نوبل انعام یافتہ ترکش لکھاری اورحان پامک کا ناول ہے جو 1985 میں شائع ہوا_اس کا اردو
ترجمہ محمد عمر میمن نے کیا ہے_ناول شروع سے آخر تک شناخت کے گرد ہی گھومتا ہے_ میں جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں؟ ، "وہ" وہ کیوں ہے؟ آقا کون ہے اور غلام کون ہے؟ آزاد کون ہے اور قیدی کون ہے؟

یہ کہانی سترھویں صدی کی ہے جب ایک ترکش بیڑا ، اٹالین بیڑے پر حملہ آور ہوتا ہے اور سبھی سواروں کو قیدی بنا لیتا ہے_ان قیدیوں کو استنبول لایا جاتا ہے جن میں کہانی کا راوی (اٹالین) بھی شامل ہے_وہ خود کو معالج ظاہر کرتا ہے تاکہ اس کے ساتھ نرم برتاو کیا جائے_وہ قید کے دوران کئی قیدیوں کا علاج کرتا ہے اور پاشا(وزیر) بھی اسی کے تجویز کردہ نسخوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی بیماری سے چھٹکارا پاتا ہے_راوی قید خانے میں اپنی ماں اور منگیتر کو یاد کرتا ہے اور آزاد ہونے کے خواب دیکھتا ہے_پاشا اسے کہتا ہے کہ اگر وہ عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لے تو اسے آزاد کر دیا جائے گا_ لیکن راوی انکار کر دیتا ہے_پاشا اسے خوجہ کی غلامی میں دے دیتا ہے_
خوجہ جو اس کا ہم شکل ہے راوی سے مختلف علوم سیکھتا ہے اور خاص آسٹرونومی کے بارے میں جانتا ہے_ خوجہ حاکم کے دربار میں منجم کا عہدہ سنبھالتا ہے اور راوی کی مدد سے مختلف پیشن گوئیاں کرتا ہے جو سچ ثابت ہوتی ہیں_
وہ دونوں کئی سال اکٹھے گزارتے ہیں_خوجہ کے اس معمہ کو حل کرنے کے لیے کہ "وہ کیوں ایسا ہے جیسا وہ ہے؟" اپنی گزشتہ زندگی کے متعلق لکھتا ہے_
کچھ عرصہ بعد سلطان خوجہ کو ہتھیار بنانے کا کام سونپتا ہے جسے پولس کے خلاف جنگ میں استمعال کیا جانا ہے_چھ سال کی محنت کے بعد خوجہ اور وہ ایک ایسا ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن میدان جنگ میں وہ ہتھیار ناکام ثابت ہوتا ہے_اس ناکامی کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے سے اپنی شناخت کا تبادلہ کر لیتے ہیں اور کہانی اپنے اختتام کو پہنچتی ہے_


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2986033618293818

جواب چھوڑیں