عرب سپرنگ : سیکولرز و لبرلز نے تبدیلی کا راستہ کیسے روکا؟ – جوزف مسعد – ترجمہ: وحید مراد

عرب ممالک کے آمروں، انکے مغربی کفیلوں کے علاوہ سیکولر و لبرلز، گذشتہ تین عشروں سے عرب سیاست میں عوامی جمہوری قوتوں کے بڑے مخالف ہیں۔
مصر میں استبدادی حکمرانوں کے اتحاد ی سیکولرولبرلز نے کہا تھا کہ اگر وہ جمہوری مقابلے میں اسلامی قوتوں کے ہاتھوں ناکام ہوگئے تو وہ آمریت کی بحالی میں مدد، حمایت اور تعاون کریں گے۔


عرب ممالک میں آمریت اور امریکہ و یورپ کے پروردہ نولبرل آرڈر کے خلاف عوامی بغاوتوں کو ایک عشرہ بیت چکا۔ شام اور یمن میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکت کے باجود عرب حکمران برسوں سے اپنے شہریوں کے معاشی وسیاسی حقوق دبا کر سرمایہ دارانہ مفادات کی خدمت کر رہے ہیں۔ عوامی بغاوتوں کے نتیجے میں تیونس کے زین العابدین، مصر کے حسنی مبارک اور یمن کے علی عبداللہ صالح کو اقتدار چھوڑنا پڑا حالانکہ انکو مغرب کی حمایت حاصل تھی لیکن یہ عوامی بغاوتیں بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، مراکش اور عمان کے آمروں کا اب تک کچھ نہیں بگاڑ سکیں۔

ان عوامی بغاوتوں کا تذکرہ مغربی میڈیا میں عام طور پر کم ہی ملتا ہے کیونکہ مغرب اپنے عرب خادموں کو ہر حوالے سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ امریکہ اور اسکے یورپی اتحادی شام اور لیبیا کے آمروں کوعرب حکمرانوں کی طرح پسند نہیں کرتے حالانکہ تمام عرب آمر اپنی عوام کیلئے ایک ہی جیسے ظالم حکمران ہیں۔ امریکہ نے انہیں معزول کروانے کی ہر ممکن کوشش کی کیونکہ وہ اسکی ڈکٹیشنز کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب وہ بھی بہت تیزی سے اسی راستے پر آرہے ہیں جس پر عرب کے خلیجی حکمران پہلے سے گامزن ہیں۔ شام میں امریکی مداخلت کے نتیجے میں اوبامہ انتظامیہ کے ذریعے کم از کم ایک بلین ڈالر کے ہتھیار پھیلائے گئے تھے جن میں سے زیادہ تر القائدہ سے وابستہ باغیوں کے ہاتھوں استعمال ہوئے لیکن بشارالاسد حکومت کو ختم نہیں کیا جا سکا۔

قتل عام، ہلاکتیں، تباہی اور تخت چھن جانے کا خوف:

مغربی طاقتیں بالآخر لیبیا کے معمر قذافی کو اتارنے، تیل کی دولت لوٹنے اور اس ملک پر ایک نہ ختم ہونے والی جنگ مسلط کرنے میں کامیاب ہو ئیں۔ قذافی کی طرح وہ شام کے بشارالاسد کو معزول کرنے میں ناکام رہے لیکن انہوں نے لاکھوں افراد کی ہلاکت کے ساتھ شام کو برباد کرنے اور اسے قتل و غارت کے سمندر میں ڈبونے میں کامیابی ضرور حاصل کی۔ مغرب کی ہشت پہلوی عفریت کے سونڈ اور آنکڑے ہر عرب ملک میں اسی طرح محو حرکت ہیں جس طرح دنیا کے دیگر ممالک میں ہیں۔ عرب ممالک کی بغاوتوں کے آغاز اور ابتداء میں بھی انکا اہم کردار رہا لیکن یہ کردار فیصلہ کن نہیں تھا۔ عرب بغاوتوں کے نتائج کا سوال شاید ان لوگوں سے دریافت کیا جانا چاہیے جنہوں نے ان مظاہروں کیلئے عوام کو بڑے پیمانے پرجمع کرکے انکی کی قیادت کی۔

مصر کے لبرل اور سیکولر طبقات دو گروپوں میں تقسیم ہیں۔ ایک میں متوسط طبقے کے نیو لبرل دانشور، سیاسی کارکنان اور کچھ تاجر وغیرہ شامل ہیں اور دوسرے میں درمیانے طبقے کے پڑھے لکھے، پروفیشنلز اورکاروباری لوگ ہیں اور اپنا جھکائو اسلام کی طرف بھی ظاہر کرتے ہیں۔ دونوں لبرل طبقے بظاہر ایک دوسرے کے حریف ہیں لیکن دونوں انسانی اور سیاسی حقوق کی مغربی زبان بولتے ہیں۔ یہ دونوں طبقے عوام کے بنیادی معاشی حقوق اور مسائل کی بات نہیں کرتے سوائے اسکے کہ نولبرل اکانومی کے وہ نعرے جن کے تحت غربت کے انتہائی اثرات کو ختم کرنے کیلئے ہلکے پھلکے علاج معالجے پر زور دیا جاتا ہے۔ ان طبقات نے زمین کی از سر نو منصفانہ تقسیم کے بارے میں کبھی بات نہیں کی حالانکہ مصر میں 1950 کے عشرے میں کچھ زرعی اصلاحات کی گئی تھیں لیکن اسکے بعد دوبارہ تمام زمینیں بڑے بڑے امیر لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئیں۔ ایک زمانے میں بینکوں، بڑی صنعتوں کو قومیایا ضرور گیا اور امیروں پر ٹیکس بھی لگائے گئے اور کسی حد تک ریاستی سماجی خدمات میں بھی توسیع کی گئی لیکن ہمیشہ یہی سوچ غالب رہی کہ کم از کم اجرت طے کرنا سوشلست انتہا پسندی کے زمرے میں آتا ہے۔ غریب لوگوں کیلئےکچھ خیراتی ادارے، اسکول اور ہسپتال موجود ہیں تاہم انکےپس پردہ بھی غیر ملکی ڈونرز کے مقاصد کارفرما ہیں۔

سیکولرلبرلز نے عوامی بغاوتوں کے آغاز کے وقت دعویٰ کیا تھا کہ یہ بغاوتیں خود ہی اٹھی ہیں اور ان کے پیچھے اسلام پسند حلقے کارفرماہیں۔ یہ پروپیگنڈا نہ صرف مغربی میڈیا اور این جی اوز کے ذریعے کرایا گیا بلکہ امریکی لیڈران نے بھی یہی کچھ بتایا تھا۔ سابق سیکرٹری آف اسٹیٹ ہیلری کلنٹن نے لیبیا کی تباہی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے معمر قذافی کے بارے میں کہا تھا کہ We came, we saw, he died۔

اسلام پسندوں کو بنیادی طور پر قطر کی حمایت حاصل تھی جس نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ خلیجی خطے سے باہر موجود آمریتوں کا سب سے بڑا محافظ اخوان المسلمون کا گروپ ہوگا۔ قطر اور اخوان المسلمون کا یہ اندازہ تھا کہ نولبرل سرمایہ دارانہ آرڈر پر سمجھوتہ کیے بغیر، مظاہرین کو مذہبی و سیاسی بیان بازی سے خاموش کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت احتجاجی تحریک کو سامراجی معاشی و سیاسی پالیسیوں کی مخالف سمت میں جانے سے روکا گیا اور مقامی آمریتوں میں حمایتی تلاش کرنے کی کوشش کی گئی مگر کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

جب عرب آمروں کو اینٹی انقلاب طاقتوں کے ذریعے ہدف بنایا گیاتو اسکا زیادہ اثر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر پڑا۔ انہوں نے قطر کے ساتھ اپنے تخت کو لاحق خطرات اور تشویش شئیر کی لیکن قطر کے برخلاف انہوں نے کسی انقلابی کوشش پر اعتماد نہیں کیا۔ سعودی اور عرب امارات نے ہر قیمت پر مقامی ڈکٹیٹر شپ کو تحفظ فراہم کرنے پر اصرار کیا کیونکہ انہیں یہ خوف تھا کہ بصورت دیگر انکی اپنی حکمرانی ختم ہو جائے گی۔

امریکہ اور یورپی ممالک کی دلچسپی صرف اپنی معاشی اور سیاسی سرمایہ کاری میں ہوتی ہے اس لئے وہ زیادہ عرصہ تک عدم استحکام کو برداشت نہیں کر سکتے۔ جب کوئی کٹھ پتلی ڈکٹیٹر کسی ملک کو غیر مستحکم کردیتا ہے تو یہ سامراجی طاقتیں استحکام پیدا کرنے کے نئے دعویدار کی حمایت کرنے لگ جاتی ہیں بشرطیکہ وہ اس قابل نظر آئے بصورت دیگر وہ آمریت کی طرف پلٹنے پر اصرار کرتے ہیں۔ اور اگر رد انقلاب ناکام ہو جائے تو پھر یہ طاقتیں اس ملک کو یمن کی طرح افراتفری میں ڈال دیتی ہیں۔

آمریت کا اتحاد:

مصر میں اس وقت جن آمریت پسندانہ قوتوں میں اتحاد ہے ان میں سیکولر لبرل بھی شامل ہیں جو اس بات پر مصر ہیں کہ اگر وہ جمہوری مسابقت میں اسلام پسندوں سے شکست کھا جاتے ہیں تو وہ آمریت کی بحالی میں تعاون اور حمایت کریں گے۔ اخوان المسلمون کی 2012 کی انتخابی فتح کے بعد نئی حکومت کو مقامی اور غیر ملکی قوتوں کا مقابلہ کرنا پڑا نتیجتاً یہ حکومت ملک میں امن اور استحکام لانے میں کامیا نہ ہو سکی اور اس طرح امریکہ اور یورپ کو اس بات کا موقع ملا کہ وہ اسکی حمایت ترک کرکے آمریت کی بحالی کی حمایت کریں۔ تیونس میں بھی سیکولرو لبرلز دیگر گروہوں کی طرح کم بے اصولے نہیں ہیں لیکن وہاں کی حکمران جماعت حركة النهضة Ennahda Party نے مصر کے حالات سے سبق سیکھا اور ہر قیمت پر تیونس کا استحکام کسی نہ کسی حد تک برقرار رکھا جس کی وجہ سے اب تک آمریت کی بحالی کیلئے مغربی حمایت کھل کر سامنے نہیں آئی۔

لیبیا اور شام میں، مغربی سامراجی طاقتوں نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ موجودہ حکومتوں کا ایسا متبادل جو مستحکم بھی ہو اسکا حصول ناممکن ہے اس لئے انہوں نے دونوں ممالک کو خون کے سمندر میں نہلانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح لیبیا کے تیل کی چوری کی ضمانت بھی مل گئی اور خطے میں شامی حکومت اور اسکے ان اتحادیوں کوبھی کمزور کر دیا گیا جو امریکہ کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے۔ لیبیا میں تو امریکہ کو اس حکمت عملی کے واضح نتائج حاصل ہو چکے ہیں لیکن شام میں ابھی تک ملے جلے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ یمن میں امریکہ نے مبینہ طورپر القاعدہ کے خلاف ایک جنگ کا آغاز کیا لیکن بعد ازاں اس جنگ کو سعودی عرب اور امارات کے ساتھ منسلک کر دیا جنہوں نے یمنی عوام کی بڑے پیمانے پر تباہی کی۔ یہ ایک ایسا غیر متوقع خطرہ تھا جس سے نبٹنے کی کوششیں ابھی تک جاری ہیں۔

عربوں کے کثیر طبقاتی اتحاد بذات خود بغاوت کی علامت ہیں۔ ان میں غریب کسان اور بیروز گاری شہریوں کی کثیر تعداد موجود ہے جو معاشی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر جن عناصر نے اس جدوجہد کے بےنتیجہ اور بے سود راستے پر لگایا وہ لبرل اور سیکولر لیڈرز ہیں۔ ان کے ساتھ مڈل کلاس اسلام پسند طبقات کی قیادت بھی صرف سیاسی اور سول حقوق کے مطالبات پر زور دیتی ہے لیکن معاشی حقوق کی بات کوئی نہیں کرتا۔

طویل اور مشکل جدوجہد:

کچھ عرصہ قبل الجیریا، عراق، سوڈان اور لبنان میں ایسی بغاوتیں پھوٹی ہیں جو ایک ہی طرح کے معاشی حالات کا نتیجہ ہیں۔ ان ممالک کے خودساختہ لبرل ترجمانوں نے پچھلے دس سالوں کی ناکامیوں سے کچھ نہیں سیکھا اور یہ موقع بھی ہاتھ سے گنوا دیا۔ سوڈان اور الجیریا کی کاسمیٹک سیاسی تبدیلیوں نے زمینی معاشی حقائق میں کسی قسم کی تبدیلی کے بغیر کامیابیوں کے بلند و بانگ دعوے کئے۔ مغرب اس مسئلے کو ”عرب سپرنگ The Arab Spring’ کا نام دیتا ہے، یہ اصطلاح دراصل 1848 کے ‘یورپی سپرنگ آف نیشنز’ سے لی گئی ہے اور اسے 1968 کے ‘پراگ سپرنگ’ سے جوڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے جسکا واضح مطلب ‘فسادی بغاوت’ ہے اور اس کا مقصد مغرب نواز حکومتیں لانے کا راستہ ہموار کرنا ہے۔

اس ‘عرب سپرنگ’ کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ سیکولر لبرلز سے وابستہ فاشسٹوں کا کئی عرب ممالک میں آمریت اور سامراجی قوتوں کے ساتھ اشتراک عمل اہم اور فیصلہ کن تھا اسکے باجود مغربی نولبرل سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی آواز ‘دی اکانومنسٹ’ سیکولر لبرلز کے علاوہ سب کو مورد الزام ٹھہراتی ہے۔ دی اکانومسٹ کے ایک حالیہ اداریے میں کہا گیا ہے کہ ‘اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ عرب ممالک میں اٹھنے والی تحریک ‘عرب سپرنگ ‘ کے پس پردہ دیگر ممالک کے کردار اور تخمینے کیوں درست ثابت نہیں ہوئے ؟’ ایران اور روس سے لیکر مغربی ممالک تک سب کو کسی نہ کسی حد تک مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن اسکے اصل ذمہ دار اسلام پسند گروہ ہیں جو اقتدار کیلئے اکثر مذموم ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ آزادی کے بعد عرب ریاستوں پر کثیر عرصے سے حکمرانی کرنے والے یہ اسلام پسند لوگ ہی اصل ذمہ دار ہیں اور انہی کو زیادہ الزام دینا چاہیے۔

اس مصنف کی یہ تحریر بھی پڑھیں:
استشراق نو کی خواہش: عالمی ہم جنس پرست اور عرب دنیا — Joseph Massad

مختصر یہ کہ ‘دی اکانومسٹ’ کا کہنا ہے کہ سیکولر عرب لبرلز کے علاوہ ہر ایک کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن لبرلز دودھ کے دھلے ہوئے ہیں حالانکہ تمام خرابیوں کا اصل ذمہ دار یہی طبقہ ہے۔ پچھلے تین عشروں میں آمروں اور شاہی کفیلوں کے علاوہ لبرلز وہ طبقہ ہیں جنہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ عرب سیاست میں سب سے زیادہ رجعت پسند اور جمہوریت مخالف ہیں۔

تاہم عرب کی عوامی قوتوں نے پچھلے کئی عشروں کی جدوجہد سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور وہ اب بھی مغربی این جی اوز کے حمایت یافتہ مقامی سیکولر و لبرلز کے ساتھ مل کر جدوجہد کر رہے ہیں جنہوں نے اس سے قبل کئی بار مغرب کی ایماء پرجمہوری جدوجہد اور تبدیلی کی کوششوں کو کو ہائی جیک کیا۔ سیاسی اور معاشی تبدیلی کے حصول کا بہتر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ عرب عوام مقامی سطح پر اپنی سرگرمیوں کو منظم کرنے کی غرض سے تنظیم سازی کریں اور خود کو انسانی حقوق کی محض بیان بازی کرنے والے سامراجی پٹھووں اور مفاہمت پرستوں سے الگ کریں۔ کچھ اسلام پسند گروہوں میں یہ صلاحیت موجود ہے لیکن تیونس سے باہر تمام اسلام پسندوں نے وسیع پیمانے پر ڈھائے جانے والے مظالم سے تنگ آکر ایک بڑی سیاسی قوت بننے کا راستہ ترک کر دیا ہے۔

عرب عوام کو اپنے اندر مقامی سطح سے لیکر اوپر تک نئی قیادت کو نکالنا ہوگا اور اسے ایک ایسی سیاسی زبان سے مسلح کرنا ہوگا جو نااہل سیاسی اور معاشی آمریت کے خاتمے پر اصرار کرے۔ یہ ایک طویل اور مشکل جدوجہد تو ہوگی لیکن اگر اس جدوجہد نے کسی بھی قسم کے لبرلز کو اپنی صفوں کے اندر گھسنے کی اجازت نہ دی تو وہ کامیاب ہو سکتے ہیں ورنہ لبرل ہر ایسی کوشش کو اسی طرح تباہ و برباد کر دیں گے جس طرح وہ ماضی میں کرتے آئے ہیں۔


(جوزف مسعاد Joseph Massad نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں جدید عرب سیاسیات اور فکری تاریخ کے پروفیسر ہیں۔ وہ متعدد کتب اور تحقیقاتی مضامین کے مصنف ہیں جن میں ‘اردن کی قومی شناخت، عربوں کی خواہشات، فلسطین اور صیہونیت پر مضامین، اسلام اور لبرل ازم وغیرہ شامل ہیں)۔

مذکورہ تحریر کا انگریز لنک:
https://www.middleeasteye.net/opinion/secular-liberals-destroyed-arab-uprisings-dont-let-it-happen-again

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں