بادشاہت ، جائز و ناجائز تعلقات اور آہنی مکھوٹا ( …

بادشاہت ، جائز و ناجائز تعلقات اور آہنی مکھوٹا
( 17ویں صدی ؛ تاریخ و فنون لطیفہ سے جٹرے ، فرانس کے ایک اہم’ اسرار‘ پر نوٹ )
قیصر نذیر خاورؔ

اس کرہ ِ ارض پربادشاہتوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ مصرِ قدیم میں چھٹی پیڑھی کے فرعون پیپی دوم نے لگ بھگ 94 سال حکومت کی تھی ۔ یورپی تاریخ کی طرف آئیں تو فرانس کا ’ لوئی چہار دہم ‘ وہ بادشاہ ہے جس نے 72 سال اور 110 دن تک سر پر تاج سجائے رکھا یوں وہ تاحال کسی بھی یورپی سلطنت کا سب سے زیادہ دیر حکومت کرنے والا ’ بادشاہ ‘ ٹہرتا ہے ۔ ’ لوئی چہار دہم‘ جسے ’ لوئی دی گریٹ ‘ یا ’ le Roi-Soleil ‘ یعنی ’ سورج بادشاہ ‘ بھی کہا جاتا ہے کا زمانہ سترویں صدی کے یورپ سے جڑا ہوا ہے ۔ وہ 5 ستمبر 1638ء کو ’ بوربون خاندان ‘ میں پیدا ہوا تھا اور 14 مئی 1643ء کو اس کی بادشاہت کا اعلان کر دیا گیا تھا ۔ ستمبر ، یکم 1715ء کو اس کی وفات کے ساتھ ہی اس کی بادشاہت ’ لوئی پانزدہم‘ کے ہاتھوں میں چلی گئی تھی ۔ بوربون خاندان کی بادشاہی ’ قدیم اقتدار‘ ( Ancien Régime ) کا حصہ بھی کہلاتی ہے ۔’ ابتدائی جدید فرانسیسی سلطنت ‘ ، ایک مضبوط مرکزیت اور اس کی نوآبادیات کی بنیاداسی زمانے سے شروع ہوئی تھی ۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ’ لوئی چہار دہم ‘ کے برسر اقتدار آنے سے پہلے ہی ’ لوئی سیز دہم‘ نے فرانسیسی پیدل فوج میں مسکٹئیر دستوں (The Musketeers of the Guard) کی بنیاد رکھ دی تھی ۔ یہ کمپنیاں اس فوج کے پہلے ایسے گھڑ سوار و پیدل دستے تھے جو تلوار جیسے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ’ بندوق و پستول ‘ (Firearms ) سے بھی لیس تھے ۔ یہ خصوصی طور پر بادشاہ ، اس کے خاندان اور شاہی محلات کی حفاظت کے لئے مامور کئے جاتے تھے اور ’ Garde du corps ‘ یا ’ Gardes suisses ‘ کہلاتے تھے اور اپنی مخصوص وردی کی وجہ سے دور سے ہی پہچانے جاتے تھے ۔
’ لوئی چہاردہم ‘ اس زمانے کے فرانس کا اہم ترین شخص توتھا ہی ، لیکن فرانس کی تاریخ میں اس دور کا ایک اور شخص بھی اہمیت کے اعتبار سے اس کے ہم پلہ ہے ۔ اس شخص کا کوئی نام نہیں ۔ تاریخی دستاویزات اس کے بارے میں صرف یہ بتاتی ہیں کہ یہ شخص سال 1670ء کے لگ بھگ گرفتار کیا گیا تھا ، اسے مختلف زنداں خانوں بشمعول ’ باستیل ‘ اور قلعہ’ ِ پیگنیرول ‘ میں رکھا گیا ۔ یہ گمنام قیدی 34 سال کی قید تنہائی میں رہنے کے بعد 19 نومبر 1703ء کو لوئی چہار دہم کے دور اقتدار میں ’ مارشیولی‘ (Marchioly) کے نام اور اپنے قیدی نمبرکے ساتھ فوت ہوا تھا ۔ جدید تحقیق کے مطابق اس کا نام ’ڈاجر‘ ( پورا نام؛ Eustache Dauger ) تھا لیکن یہ بات بھی مصدقہ نہیں ہے ۔ اس قیدی کے ساتھ ایک اہم بات یہ بھی جڑی ہے کہ وہ ہمیشہ ایک ہی جیل گورنر ’ سینٹ مارز (پورا نام ؛ Bénigne d'Auvergne de Saint-Mars ) کی تحویل میں رہا ۔ چونکہ اسے گرفتار کرتے ہی اس کے چہرے کو مکھوٹے سے ڈھانپ دیا گیا تھا اور اسے اسی کے ساتھ دفن گیا تھا اس لئے اسے کوئی شناخت نہ کر پایا اور اس کی یہی شناخت آج تک معمہ بنی ہوئی ہے ۔
والتئیر (Voltaire؛ اصل نام ؛ François-Marie Arouet) جو’ لوئی چہار دہم ‘ کے زمانے میں ہی 21 نومبر 1694ء کو پیدا ہوا تھا اور اپنے دورمیں ، مذہب کی آزادی ، تحریر و تقریر کی آزادی اور ریاست سے مذہب کی علیحدٰگی کا سب سے بڑا وکیل تھا ، نے جہاں اور بہت کچھ لکھا وہاں اس نے ’ مکھوٹے میں جکڑے اس گمنام قیدی ' کو بھی اپنی ضغیم تحریر ’ Questions sur l'Encyclopédie ‘ ، جو لگ بھگ چار سو سے زائد مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی تھی ، کی غالباً پانچویں جلد اور جو 1771 ء میں شائع ہوئی تھی ، میں جگہ دی اور یہ کہا کہ اس قیدی کے چہرے کو آہنی مکھوٹے سے چھیایا گیا تھا ۔ اس سے قبل یہ ماناجاتا تھا کہ اس قیدی کا چہرہ کپڑے کے نقاب سے ڈھانپا گیا تھا اور وہ یا توایک خدمت گار یا فرانس کا ایک مارشل یا پھرشاید آئرش اولیور کرومویل کا بیٹا ، ہنری کرومویل تھا ۔ والتئیر نے ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ قیدی ان میں سے کوئی نہیں بلکہ ’ لوئی چہار دہم‘ کا بڑا سوتیلا بھائی تھا جو اس کی ماں این آف آسٹریا اور کارڈینل مازارن (Cardinal Mazarin) کے معاشقے کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا ۔ والتئیر کے اس کہے کی بناء پر’ آہنی مکھوٹے والا آدمی‘ ( L'Homme au Masque de Fer) اب فرانس کی تاریخ ، زبان اور ادب میں اس قیدی کی پہچان ہے ۔ والتئیر 30 مئی 1778ء کو فوت ہوا ۔
فرانسیسی ادیب و ڈرامہ نگار الکساندر ڈوماز ( 24 جولائی 1802ء تا 5 دسمبر 1870ء Dumas Davy de la Pailleterie ) والتئیر کے کہے کو ہی لے کر آگے چلتا ہے اور اپنے تین ناولوں کی سیریز ’ ڈی ‘ آرٹاغنن کے رومان ‘ (D 'Artagnan Romances ) کے تیسرے ناول ’ وِسکاوٗنٹ آ ف بریگلونی؛ دس سال بعد ‘ ( Le Vicomte de Bragelonne ou Dix ans plus tard) ، جو پہلی بار 1847ء اور 1850ء کے دوران قسط وار چھپا تھا ، کے تیسرے حصے میں اس قیدی کو ’ لوئی چہار دہم‘ کا جڑواں بھائی قرار دیتا ہے جس کا نام ’ فلپی‘ ہے جسے ’ فرانس کی بہتری ‘ کے لئے اس کا باپ ’ لوئی سہ دہم ‘ اور ماں این آف آسٹریا پیدائش کے وقت سے ہی قید میں ڈال دیتے ہیں ۔ ’ فرانس کی بہتری ‘ کے حوالے سے ڈوماز کا کہنا یہ ہے کہ ایسا اس لئے کیا گیا تھا کہ ’ لوئی سہ دہم‘ کے بعد تخت کی وراثت کا تنازع کھڑا نہ ہو ۔ یاد رہے کہ ڈوماز کے ناولوں کی اس سیریز کے پہلے دو ناول ’ دی تھری مسکیٹئرز ( Les Trois Mousquetaires ) اور ’ بیس سال بعد‘ ( Vingt ans après ) ہیں ۔
ڈوماز کے اس ناول سے پہلے فرانسیسی رومانوی ادیب وشاعر’ الفرڈ دی وِگنے‘ ( مارچ 1797 ء تا ستمبر1863ء ) آہنی مکھوٹے میں جکڑے اس گمنام قیدی پر ایک طویل نظم’ قید‘ (La Prison) لکھ چکا تھا جس میں اس کی بستر موت پر گزرے وقت کا بیانیہ ہے ۔ یہ نظم اس کی نظموں کے مجموعے ’ Poèmes‘ میں شامل ہے جو پہلی بار 1822 ء میں شائع ہوا تھا ۔
فرانسیسی ناول و ڈرامہ نگار اور فلم میکر مارسل پیگنول ( فروری 1895 ء تا اپریل 1974ء ) اپنے ایک مضمون جو پہلی بار 1965 ء میں سامنے آیا تھا ، ڈوماز کی ’ جڑواں بھائیوں والے مفروضے‘ کو ہی آگے بڑھاتا ہے لیکن اتنا فرق ضرور کرتا ہے کہ لوئی چہار دہم پہلے جبکہ ” آہنی مکھوٹے “ والا قیدی چند لمحوں بعد پیدا ہوا تھا لہذٰا چھوٹا تھا ۔
برطانوی تاریخ دان اور ڈامہ نگار ہیوگ روس ولیمسن (1901ء تا 1978ء ) اپنی کتاب ’ تاریخی معمے ‘ (Historical enigmas) جو 1974ء میں پہلی بار سامنے آئی تھی ، کے 15 ویں معمے میں ایک اور ہی خیال پیش کرتا ہے ۔ اس کے بقول آہنی مکھوٹے میں جکڑا یہ قیدی اصل میں ’ لوئی چہار دہم ‘ کا اصلی باپ تھا ۔ اس کے بقول اگر لوئی چہار دہم 1638ء میں پیدا ہوا تھا تو اس وقت لوئی سہز دہم تو ملکہ این کے پاس تھا ہی نہیں ، اسے اس سے الگ ہوئے 14 برس بیت چکے تھے ۔ ویسے بھی 1638ء کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس وقت لوئی سیز دہم کی ازدواجی زندگی ناخوشگوار تھی اور این آف آسٹریا کے چار حمل گر چکے تھے ۔ ایسے میں لوئی چہار دہم کی پیدائش کو خود لوئی سیز دہم نے شبے کی نظر سے دیکھا تھا کہ وہ اپنی موت (مئی 1643ء ) سے پہلے آنتوں کے السر اور شاید تپ دق کا بھی مریض تھا ۔ اس کی جنسی زندگی بھی مشکوک گردانی جاتی رہی کہ وہ ہم جنس پرست بھی تھا ۔ خود این کے مردوں کے ساتھ تعلقات بھی مشکوک ہی گردانے جاتے رہے جن میں کاﺅنٹ آف چیلس کا نام بھی شامل ہے ۔
ان تین اہم مفروضوں کے علاوہ اور بھی کئی مفروضے اس گمنام قیدی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ؛ اطالوی سفارتکار ؟ ، فرانسیسی وزیر؟ ، برطانیہ کے چارلس دوم کا بیٹا ؟ جبکہ ایک خدمت گار یا مارشل یا پھر ہنری کا ذکر تو میں اوپر کر ہی چکا ہوں ۔ ابھی حال ہی میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ، سانتا بابرا میں شعبہ تاریخ کے ایک استاد پال سونینو کے مطابق یہ قیدی کارڈینل مارازِن کا نائب تھا جو یہ حقیقت جانتا تھا کہ اپنے وقت کے اس بدعنوان کارڈینل نے ناجائز ذرائع سے بے پناہ دولت کیسے حاصل کی تھی ۔ وہ والتئیر کے اس مفروضے کو بھی رد کرتا ہے کہ مکھوٹا آہنی تھا ۔ پال سونینو کی اس موضوع پر کتاب ’ The search for the Man in the Iron Mask ‘ حال ہی میں یعنی 2016ء میں امریکہ سے شائع ہوئی ہے ۔
آہنی مکھوٹے میں جکڑے اس قیدی نے برطانوی ادیب و پبلشرہنری وزٹیلی ( جولائی 1820 ء تا جنوری 1894 ء ) کی توجہ بھی حاصل کی تھی جس نے فرانسیسی صحافی و ادیب ماریئس ٹوپن ( 1838ء تا 1895 ء ) کی 1870 ء کی کتاب ’ L'homme au masque de fer‘ کا مصور ترجمہ انگریزی میں شائع کیا ۔ فرانسیسی ادیبہ جولیٹ بینزونی ( اکتوبر 1920ء تا فروری 2016ء ) نے بھی اپنی کتاب ’ ریاست کے راز ‘ (Secret d'etat) کی تیسری جلد میں اسے اپنا موضوع بنایا ۔ امریکی سائنس فکشن نگار ایلجس بڈریس ( جنوری 1931ء تا جون 2008ء ) نے بھی اسی قیدی کو سامنے رکھ کر اپنا ناول ’ کون؟ ‘ لکھا تھا ۔
اگربڑی وچھوٹی سکرین کی فلموں کی بات کریں تو’ آہنی مکھوٹے میں جکڑا یہ قیدی ‘ خاموش فلموں کے زمانے سے ہی ایک اہم موضوع رہا ہے اور سنیما چاہے اطالوی ہو یا فرانسیسی یا جرمن یا پھر انگریزی غرضیکہ کئی زبانوں میں1909ء سے اب تک ، اس پر، بیس سے زائد فلمیں بن چکی ہیں ۔ ان میں 1929ء کی امریکی خاموش فلم ’ The Iron Mask ‘، سن 1962 ء کی اطالوی /فرانسیسی فلم ’ Le Masque de fer ‘ ، سن 1977 ء کی برطانوی ٹیلی فلم ’ The Man in the Iron Mask‘ ، سن 1998 ء کی برطانوی/ امریکی فلم ’ The Man in the Iron Mask‘ اور بی بی سی کی 2014ء میں بنائی گئی سیریل ’ The Musketeers‘ قابل ذکر ہیں ۔ ان فلموں میں ڈوماز کے تین ناول ، جن کا اوپر ذکر آ چکا ہے ، ہی بنیادی ماخذ رہے ہیں ۔ مغربی موسیقی پر اس معمے کا اثر الگ سے نمایاں نظر آتا ہے ۔
ویسے تو اب تک دنیا کے کئی اس سے بھی پرانے تاریخی معمے حل نہیں ہو پائے لیکن جب بھی 17ویں صدی ، فرانس اور’ لوئی چہار دہم ‘ کا ذکر ہو گا وہاں اس ' آہنی مکھوٹے میں جکڑے قیدی ' کا ذکر لازمی آئے گا ۔

— with Qaisar Nazir Khawar.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2990716224492224

جواب چھوڑیں