▄•• اسم ’’محمدؐ ‘‘ کا احترام ••▄••▀ اورنگزیب عالم…

▄•• اسم ’’محمدؐ ‘‘ کا احترام ••▄••▀

اورنگزیب عالمگیر بڑا مشہور مغل شہنشاہ گزرا ہے اس نے ہندوستان پر تقریباً 50 سال حکومت کی تھی، ایک دفعہ ایک ایرانی شہزادہ اسے ملنے کے لئے آیا، بادشاہ نے اسے رات کو سلانے کا بندوبست اس کمرے میں کرایا جو اس کی اپنی خوابگاہ سے منسلک تھا۔
ان دونوں کمروں کے باہر بادشاہ کا ایک بہت مقرب حبشی خدمت گزار ڈیوٹی پر تھا۔ اس کا نام محمد حسن تھا اور بادشاہ اسے ہمیشہ محمد حسن ہی کہا کرتا تھا، اس رات نصف شب کے بعد بادشاہ نے آواز دی’’ حسن! ‘‘۔ نوکر نے لبیک کہا اور ایک لوٹا پانی سے بھر کر بادشاہ کے پاس رکھا اور خود واپس باہر آگیا۔ ایرانی شہزادہ بادشاہ کی آواز سن کر بیدار ہو گیا تھا اور اس نے نوکر کو پانی کا لوٹا لیے ہوئے بادشاہ کے کمرے میں جاتے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ نوکر لوٹا اندر رکھ کر باہر واپس آگیا ہے۔ اسے کچھ فکر لاحق ہوگئی کہ بادشاہ نے تو نوکر کو آواز دی تھی اور نوکر پانی کا لوٹا اس کے پاس رکھ کر واپس چلا گیا ہے۔ یہ کیا بات ہے؟
صبح ہوئی شہزادے نے محمد حسن سے پوچھا کہ رات والا کیا معاملہ ہے؟ مجھے تو خطرہ تھا کہ بادشاہ دن نکلنے پر تمہیں قتل کرادے گا کیونکہ تم نے بادشاہ کے کسی حکم کا انتظار کرنے کی بجائے لوٹا پانی سے بھر کر رکھ دیا اور خود چلے گئے۔
نوکر نے کہا ’’ عالی جاہ !ہمارے بادشاہ حضوراکرمۖ کا اسم گرامی بغیر وضو نہیں لیتے، جب انہوں نے مجھے حسن کہہ کر پکارا تو میں سمجھ گیا کہ ان کا وضو نہیں ہے ورنہ یہ مجھے ’’ محمد حسن ‘‘ کہہ کر پکارتے اس لیے میں نے پانی کا لوٹا رکھ دیا تاکہ وہ وضو کر لیں۔
——————————————————————————
ہم دينِ محمدﷺ كے وفادار سپاہی
اللہ كے انصار و مدد گار سپاہی

اسلام كى عظمت كے نگہبان سپاہی
باطل كى خدائى كو گوارا نہ كريں گے

مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے
مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے

خوشنودئ رب مقصدِ ہستی ہے ہمارا
قرآن ہی دستورِ اساسی ہے ہمارا

قائد بھی محمدﷺ سا مثالى ہے ہمارا
اب ہم كسى رہبر كى تمنا نہ كريں گے

مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے
مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے

ذہنوں سے سے ہر اک نقشِ كدورت كو مٹا كر
تفريق كے بڑھتے ہوئے شعلوں كو بجھا كر

دم ليں گے ہم انسان كو انساں سے ملا كر
آباد پھر اجڑا ہوا کاشانہ کریں گے

مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے
مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے

انصاف سے پھر آدمى منہ موڑ چکا ہے
سچائی سے پیمانِ وفا توڑ چکا ہے

دامان يقيں، صبر و رضا چھوڑ چکا ہے
ہم اپنے ہی اسلام كو رسوا نہ كريں گے

مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے
مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے

صدیق کا دل، زورِ علی بخش دے یا رب
فیاضئ عثمان غنی بخش دے یا رب

فاروق کی عالی نگہی بخش دے یارب
آراستہ پھر محفلِ جانا نہ کریں گے

مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے
مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے

دشمن سے ترے ہم کوئی پیماں نہ کریں گے
جینے کے لئے موت کا ساماں ‌نہ کریں گے

رسوائی ملت پہ چراغاں ‌نہ کریں گے
ایسا نہ کریں گے کبھی ایسا نہ کریں گے

مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے
مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے

مر جائيں گے ايمان كا سودا نہ كريں گے
ايسا نہ كريں گے، كبھی ايسا نہ كريں گے

(عزیز بگھروی)

المرسل :-: ابوالحسن علی (ندوی)

▄ •• Respect for the name of ′′ Muhammad •• ▀ •• ▀

Aurangzeb Alamgir, the most famous Mughal emperor has passed away. He ruled India for almost 50 years. Once an Iranian prince came to meet him, the king arranged him to sleep at night in the room that was from his own dreamgah. Was attached.
Outside these two rooms, a very close to the king was on duty. His name was Mohammad Hassan and the king always called him Muhammad Hassan, after midnight the king called ′′ Hassan! ′′ The servant said Labaik and put a backbone with water and came out himself. The Iranian prince woke up to the king's voice and saw the servant going to the king's room with a looting of water. He also saw that the servant came back outside after putting the loot inside. He was worried that the king had called the servant and the servant has put the bag of water to him and went back. What is the matter?
In the morning, the prince asked Muhammad Hassan, what is the matter of the night? I was afraid the king would kill you at the day out because instead of waiting for the king's order you filled the back with water and went away.
The servant said ′′ Aali Jah! Our King Huzoorakram's name does not take ablution without ablution. When he called me Hassan, I understood that he does not have ablution, otherwise he would have called me ′′ Muhammad Hassan ′′ so I put the water back so that he could have called me ′′ Muhammad Hassan ′′ Do ablution.
——————————————————————————
We are the loyal soldiers of the religion of Muhammad (PBUH)
Allah's Ansar and helper soldiers

Guardian soldiers of the greatness of Islam
We will not bear the God of falsehood.

We will die, we will not trade faith.
We will die, we will not trade faith.

The pleasure of God is our purpose.
The Quran is our way of simplifying

Our leader is also an example like Muhammad (PBUH)
Now we will not wish for any leader.

We will die, we will not trade faith.
We will die, we will not trade faith.

By erasing every footprint from the minds.
By extinguishing the rising flames of difference

We will die after meeting human beings
We will again wish to be destroyed.

We will die, we will not trade faith.
We will die, we will not trade faith.

Man has again turned away from justice
Truth has broken the promise of loyalty.

Faith has left patience and pleasure.
We will not humiliate our own Islam.

We will die, we will not trade faith.
We will die, we will not trade faith.

The heart of Siddiq, the strength of Ali, O Allah forgive me
Fayazai Usman Ghani, please forgive me O Allah

O God, forgive Farooq's high care
We will not go to the gathering again decorated.

We will die, we will not trade faith.
We will die, we will not trade faith.

We won't measure your enemy at all.
We won't do death to live

We will not light the disgrace of the nation.
We will not do this, we will never do this.

We will die, we will not trade faith.
We will die, we will not trade faith.

We will die, we will not trade faith.
We will not do this, we will never do this

(Dear Bagharvi)

Marsal :-: Abul Hasan Ali (Nadvi)

Translated

جواب چھوڑیں