یومِ پیدائش محترمہ قرةالعین حیدر 20 جنوری ۔۔۔…

یومِ پیدائش
محترمہ قرةالعین حیدر
20 جنوری ۔۔۔۔ 1927 ۔۔۔ علی گڑھ
21 اگست ۔۔۔۔۔۔ 2007 ۔۔ Noida نیو دہلی ۔۔۔۔۔

قرةالعین حیدر اردو کی بہت زبردست اثر انداز ہونے والی ادیبہ ہیں ۔۔۔ انہوں نے اردو ادب کو سب سے بڑا ناول " آگ کا دریا " دیا ۔۔۔۔
قرةالعین حیدر ، کے والد سجاد حیدر یلدرم اردو میں افسانہ نگاری کے بانی ہیں ۔۔۔ والدہ نذر زہرہ بھی ناول نگار تھیں ۔۔۔

آ گ کا دریا

قرةالعین حیدر کا سب سے بڑا اور نمایاں کام اردو کا سب سے بڑا ناول آگ کا دریا لکھنا ہے ۔۔۔ یہ ناول 1959 میں شائع ہوا ۔۔۔
آگ کا دریا میں چوتھی صدی قبل مسیح کے ہندوستان کی تقسیم ہندوستان تک کی کہانی ایک تسلسل کے ساتھ بیان کی گئی ہے ۔۔۔
آگ کا دریا اپنی موضوعاتی وسعت ، پھیلاؤ ، اور برتاؤ کے اعتبار سے بہت پیچیدہ اور متنوع ہے ۔۔۔ اس ناول میں اسلوب کی ہمہ گیر صفات اور زماں و مکاں کے تاریخی ، ثقافتی ، تہذیبی ، مظاہر ناول نگاری کے نئے اسلوب کا سنگِ میل ہیں ۔۔۔۔
قرةالعین حیدر نے ان تمام علمی ، ادبی اور تاریخی معاملات کو ایک خاص زمانی ترتیب کے ساتھ اعلیٰ ادبی زبان میں پیش کیا ہے ۔۔۔۔۔ اس ناول میں نظم و ضبط کا اتنا خاص اہتمام کیا گیا ہے کہ تاریخ کا ڈھائی ہزار سالہ تناظر بھی اس کی زمانی وحدت کو متاثر نہیں کرسکا ۔ ہر شے ، ہر واقعہ ، ہر منظر ، ہر کردار اور ہر علمی بحث اپنے اپنے مقام پر اس طرح موجود ہے جیسے دیوار کی ایک اینٹ دوسری اینٹ پر رکھی جاتی ہے ۔۔۔
اس ناول میں کئی طرح کی ٹیکنیک کو بروئے کار لایا گیا ہے ۔۔ کہیں قدیم ہندوستانی ناٹکوں کا اسلوب استعمال کیا گیا ہے اور کہیں جدید تھیٹر کا ۔۔۔ اور پھر برصغیر کے وسیع تاریخی ، تہذیبی ، تمدنی اور معاشرتی کینوس پر پھیلے اس ضخیم ناول میں ایسی تصویر کشی کی گئی ہے جو قاری کے دل پر نقش ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قرةالعین حیدر کا دوسرا بڑا ناول " آخرِ شب کے ہمسفر " ہے جو بنگال کے پس منظر میں لکھا گیا ہے ۔۔ اس ناول کو بھی بہت سراہا گیا ہے ۔۔۔۔ اس ناول کا بیس تو بنگال ہے لیکن اس میں ایک بہت تلخ سبق ہے برصغیر کے ان سیاسی ورکرز کے لئے جو اپنے رہنماؤں کی اندھی تقليد میں مارے جاتے یا برباد ہوتے ہیں اور ان کے لیڈر کامیابی حاصل کرنے کے بعد خوب دولت عزت شہرت میں زندگی گزار تے ہیں ۔۔۔۔۔

محترمہ قرةالعین اردو کی ان ادیبوں میں سے ایک ہیں جن پر بہت لکھا گیا اور لکھا جاتا رہے گا ۔۔۔

چار افسانوی مجموعے، پانچ ناولٹ، آٹھ ناول، گیارہ رپورتاژ کے علاوہ بے شمار کتابیں مرتب کیں۔ تقریباً گیارہ مختلف زبانوں کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا۔ چار کتابوں کا اردو سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ساتھ ہی بچوں کے لیے بھی کئی کہانیوں کی کتابیں لکھیں ۔۔۔۔ ان کی زندگی دیکھئے تو صرف اور صرف ’’کام‘‘ ہی نظر آتا ہے۔۔۔۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2358643481032838

جواب چھوڑیں