غالب اور ان کی بیگم دیوانِ غالب میں سے ایک مکالم…

غالب اور ان کی بیگم
دیوانِ غالب میں سے ایک مکالمہ
سید امتیاز علی تاج
( سامنے کی دیوار میں کھڑکی دائیں اور بائیں ہاتھ دیوار کے اگلے حصہ میں دروازے ۔ بائیں ہاتھ پچھلے حصہ میں دیوار کے ساتھ پلنگ ۔ دائیں ہاتھ کی دیوار میں کپڑے ٹانگنے کی کھوٹی جس پر علاوہ دوسرے کپڑوں کے برقعہ ٹنگا ہے ۔ اس سے ہٹ کر دیوار کے ساتھ لگا ہوا تخت جس پر سوزنی بچھی گاؤ تکیۓ اور پاندان رکھا ہے ۔ پردہ اٹھتا ہے تو بیگم غالب پلنگ پر اداس لیٹی ہیں ۔ )
بیگم : ( آہ بھر کے مضمحل انداز میں اٹھ کر بیٹھ جاتی ہیں ، ذرا سے توقف کے بعد
تپش سے میری وقفِ کشمکش ہر تارِ بستر ہے
مرا سر رنجِ بالیں ہے مرا تن بارِ بستر ہے
اٹھتی اور سست قدموں سے کھڑکی تک جاتی اور اس کے پٹ بند کر کے درز میں سے جھانکتی پھر سر دیوار سے ٹیک لیتی ہیں ۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد آہ بھر کر
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
( غالب بائیں ہاتھ کے دروازے سے داخل ہوتے ہیں )
غالب : بیوی کو دیکھے بغیر
پھر کچھ اک دل کو بیقراری ہے
سینہ جویاۓ زخمِ کاری ہے
پھر جگر کھودنے لگا ناخن
آمد، فصلِ لالہ کاری ہے
بیگم : ( غالب کو دیکھ کر شکوہ آمیز انداز میں
خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو کوئ موسم ہو
وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
غالب : ( بیوی کو دیکھ کر چغہ اتارتے ہوۓ
شرحِ ہنگامۂ ہستی ہے زہے موسمِ گل
رہبر قطرہ بہ دریا ہے خوشا موجِ شراب
بیگم : یہ مسائلِ تصوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
غالب : کھونٹی کی طرف بڑہتے ہوۓ
مے سے غرضِ نشاط ہے کس روسیاہ کو
اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیۓ
بیگم :
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
غالب : ( چغہ اور ٹوپی کھونٹی پر ٹانگتے ہیں
آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہان سے
اے واۓ اگر معرضِ تقریر میں آۓ
بیگم : ( جیسے بوجھ کر )
مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس
زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیۓ ہوۓ
غالب : ( تخت پر بیٹھ جاتے ہیں )
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
بیگم :
ہوگئ ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
غالب : ( بے بسی کے تبسم کے ساتھ )
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
بیگم :
رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
تمہاری طرزِ روش جانتے ہیں ہم کیا ہے
غالب : ( دونوں ہاتھ سر کے پیچھے باندہ کر گاؤ تکیۓ سے ٹیک لگالیتے ہیں )
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
بیگم :
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
غالب :
گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
بیگم :
درپردہ انہیں غیر سے انہیں ہے ربطِ نہانی
ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
غالب : ( اٹھ کر کھڑکی کی طرف جاتے ہوۓ )
حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
کہ چشمِ تنگ شاید کثرتِ نظارہ سے وا ہو
بیگم :
تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو ؟
غالب: ( کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوۓ )
انہیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے کیوں لڑیۓ
ہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے کیا کہیۓ
بیگم ؛
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا
غالب :
چال جیسے کڑی کمان کا تیر
( بڑہ کر اور تالیفِ قلب کے لۓ ہاتھ تھام کر )
دل میں ایسے کے جا کرے کوئ
بیگم : ( گوشۂ چشم سے آنسو پونچھتے ہوۓ )
غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ جوشِ اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوۓ
غالب : ( تخت پر اپنے پاس بٹھاتے ہوۓ )
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا وفا کیا ہے
بیگم : ( غالب کی سلیم الطبعی سے بپھر کر )
چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسد
آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
غالب :
گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
بیگم : ( ابھی دل نہیں بھرا )
غافل ان ماہ طلعتوں کے واسطے
چاہنے والا بھی اچھا چاہیۓ
غالب : ( ہاتھ بیگم کے پرلے کندھے پر رکھ کر )
حد چاہیۓ سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں
بیگم : ( ابھی آنسوؤں کا حربہ باقی تھا )
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئ ہمیں رلاۓ کیوں
غالب :
خدایا ! جذبۂ دل کی مگر تاثیر الٹی ہے
کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھچتا جاۓ ہےمجھ سے
بیگم :
آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
ہر کوئ درماندگی میں نالے سے ناچار ہے
غالب :
باہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں
لیکن اب کے سرگرانی اور ہے
بیگم : ( آہِ دلدوز کے ساتھ )
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
غالب :
جی ہی میں کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
سر جاۓ یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر
بیگم : ( بگڑ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں )
کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
لیوے نہ کوئ نام ستم گر کہے بغیر
غالب :
غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
بیگم : ( شہیدانہ انداز میں )
جب توقع ہی اٹھ گئ غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئ
غالب : ( سمجھانے میں کوئ کسر اٹھا نہیں رکھنا چاہتے )
روک لو گر غلط چلے کوئ
بخش دو گر خطا کرے کوئ
بیگم : ( ہاتھ چھڑا کر )
کوئ دن گر زندگانی اور ہے
اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
اک مرگِ نا گہانی اور ہے
غالب : ( مایوس ہو کر )
ہرگز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہ
ہوں میں کلامِ نغز ولے نا شنیدہ ہوں
( بر افروختگی میں جاکر چغہ کھونٹی سے اتارتے ہیں
ریے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئ نہ ہو
ہم سخن کوئ نہ ہو اور ہم زباں کوئ نہ ہو
(چغہ پہنتے ہوۓ )
پڑیے گر بیمار تو کوئ نہ ہو تیمادار
اور اگر مرجایے تو نوحہ خواں کوئ نہ ہو
( جوش میں تیزی سے باہر نکل جاتے ہیں )
بیگم : ( اپنے طرزِ عمل پر نادم ہو کر اپنے آپ سے )
بھلا اسے نہ سہی کچھ مجھی کو رحم آتا
اثر مرے نفسِ بے اثر میں خاک نہیں
( تیزی سے کھڑکی طرف جاتی اور بے اختیاری میں پٹ کھول کر )
اے ساکنانِ کوچۂ دلدار دیکھنا
تم کو کہیں جو غالبِ آشفتہ سر ملے
( بیقراری سے واپس آتی اور احساسِ جرم کے خوف میں کھونٹی پر سے برقعہ اتارتی ہیں )
اسد ہے نزع میں چل بے وفا براۓ خدا
مقامِ ترکِ حجاب و وداعِ تمکیں ہے
( غالب خود واپس آجاتے ہیں بیگم برقع پہن رہی ہیں )
غالب : ( اپنے آپ سے )
فائدہ کیا سوچ اخر تو بھی دانا ہے اسد
دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہوجاۓ گا
بیگم : ( غالب کو دیکھتی ، ان کی طرف بڑہتی اور پشیمانی کے عجز سے )
قطع کیجے نہ تعلق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
غالب : ( بیوی کے انداز سے حوصلہ پاکر شوخی سے )
ہم کوئ ترکِ وفا کرتے ہیں
نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی
بیگم : ( مسکرا کر )
ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
بے نیازی تری عادت ہی سہی
( دونوں محبت سے ایک دوسرے کے دونوں ہاتھ تھامتے ہیں )
پردہ
رسالہ صحیفہ لاہور غالب نمبر حصۂ چہارم
اکتوبر 1969ء

بشکریہ وسیم سیّد

Ghalib and his wife
A dialogue from the Diwan of Ghalib
Syed Imtiaz Ali Crown
(Window in front wall right and left hand door in front of wall. Left hand bed with wall in rear. Right hand wall with cloth legging on right hand wall plus other cloth burqa tanga. Apart from this The throne along with the wall on which the Suzni is linen, gao, pillow and pandan are kept. When the curtain is raised, wife Ghalib is lying sadly on the bed.)
Begum: (She sighs and sits in a disturbing way, after a little pause
My conflict with flames is every wire of bed.
My head is sad, my body is like a bed.
Woke up and slow steps to the window, close her thighs and peeps through the door, then bows her head from the wall. After a few moments of silence, sighing.
We hope to be loyal to them.
Those who do not know what loyalty is
(Ghalib enters through the left hand door)
Ghalib: Without seeing his wife
Then some heart is restless
The chest is a wound.
Then the nails started digging the liver
Arrival is the harvest of Lala
Begum: (Seeing Ghalib in a complaining way
Autumn is not the crop of garden. Who has any weather?
That's us, the cage, and the mourning is of the ball and the bar.
Ghalib: (While taking off the stick after seeing his wife
This is the weather of the world.
The leader is like a drop of river, the joy of wine.
Begum: These are the problems of Sufism, this is your statement Ghalib
We consider you as a protector who would not have been disgraced
Ghalib: Heading towards Khunti
Who wants Nishat from me?
I need a sinlessness day and night.
Wife:
Senselessness is not without reason Ghalib
There is something that has a veil
Ghalib: (Chagha and hat are on the peg
My heart is like a fire, my heart is from the secret of my eyes.
Oh, if it comes to speech
Begum: (like a burden)
I have asked for someone again to lust on my lips.
Troubled on the black hair face
Ghalib: (sits on the throne)
We are there from where we are also
There is no news about us
Wife:
A stranger's sweet speech has gone.
He thinks of love, we don't care about tongue.
Ghalib: (with the smile of helplessness)
O God, they have neither understood nor will they understand my words
Give and heart to those who don't give me tongue and tongue
Wife:
If you have fun on the opponent, then what is torture?
Your style knows what we are
Ghalib: (Tie both hands behind the head and lean on the pillow)
Is there something that I am silent?
Otherwise, why don't you talk?
Wife:
They will not leave themselves, why should we change our style?
What should I ask after becoming a lesson, why are you wandering with me?
Ghalib:
If silence is beneficial, then it's the situation.
I am happy that it is difficult to understand my words.
Wife:
They are afraid of strangers, they have no connection with others.
This is the veil of apparently that they don't cover
Ghalib: (Getting up and going to the window)
If the heart is sad with jealousy, it should be a hot spectacle.
That the eyes are narrow, maybe because of the abundance of view.
Wife:
You know the customs and ways you have from other people.
If you keep asking me too, what is the sin?
Ghalib: (looking out the window)
They are proud of the question, why should they fight
We are irrespective of the answer, what to say
Wife;
I am unaware of my destruction from you.
There was some good luck in it
Ghalib:
Trick like a bitter bow arrow
(Grow up and holding hands for the compilation of heart)
Someone should go into the heart like this
Begum: (Gosh wiping tears from eyes)
Ghalib, don't tease us with the excitement of tears
We are sitting with a storm.
Ghalib: (while sitting on the throne with me)
I sacrifice my life for you
I don't know what loyalty is
Begum: (Ghalib's Saleem is out of Al-Tabai)
Asad wants good attitudes
You must see your face
Ghalib:
It may be hot in the words but not so much
To whom I talked, he must complain.
Begum: (My heart is not full yet)
Negligent for these months of children.
The lover should also be good
Ghalib: (Putting hand on wife's back shoulder)
There is a limit in punishment for love.
Finally I am a sinner, I am not an infidel.
Begum: (There was still a tactic of tears)
The heart is not there, why don't it fill with pain
We will cry a thousand times, why someone make us cry
Ghalib:
OMG! The absorption of the heart but the effectiveness is upside down.
That as much as I pull and it keeps snatching from me
Wife:
The sound rises while extinguishing in the water from the fire
Everyone is helpless from the canals in the drum
Ghalib:
Baha, have you seen their grievances
But now the activity is different
Begum: (with Ah Dildoz)
When my life passed in this way Ghalib
How will we remember that we had God
Ghalib:
There is nothing in our heart otherwise we are
Whether head or not, but without saying
Wife: (She stands up after getting angry)
The one whose work has been done in the world
Don't take any name without calling it a tyranny
Ghalib:
It is wrong to complain about the absorption of the heart. Look who is the crime.
Don't pull yourself up if you're in the middle of the casualty
Begum: (in a martyrdom style)
When the expectations are up Ghalib
Why should someone complain about someone?
Ghalib: (Don't want to keep any unturned in explaining)
Stop it if someone goes wrong
Forgive me if someone commits a mistake
Begum: (by delivering hand)
Some day, life is different.
We have decided in our heart.
All are done Ghalib, call everyone.
There is another death.
Ghalib: (being disappointed)
Nobody has my place in their heart.
I am the one who doesn't know the words of songs.
(They go to free and remove the chagah from the peg)
Now walk to a place where there is no one
We are not a word and we are not a tongue.
(Wearing a chagah)
If you read sick, no one will be a part of it.
And if he dies, there should be no Noha Khawan.
(The excitement goes out fast)
Begum: (After regretting her behavior and myself)
If he doesn't, I would have some mercy.
The effect of my soul is not ineffective.
(Rapidly moving towards the window and opening the thigh in the unconfidence)
Look at the Saknan of Kach, Dildar
Tell you what you get Ghalib's Ashafta head
(Returns from restlessness and sends Burqa from the peg in fear of feeling guilt)
Asad is in the presence of disloyal for God's sake
You are the place of breaking hijab and prayer.
(Ghalib comes back herself, wife is wearing a burqa)
Ghalib: (by myself)
What is the benefit of thinking, you are also wise at the end Asad
Friendship is of an innocent person, it will be lost.
Begum: (Looking at Ghalib, looking at her with humility and regretting)
Don't break the relationship with us
If there is nothing, it should be enmity.
Ghalib: (Inspired by wife's style, by boasting)
We don't break any loyalty
Love is not a trouble
Wife: (Smiling)
We will also accept it.
Niyazi, it's your habit
(Both hold each other's hands with love)
Curtain
Magazine Scripture Lahore Ghalib Number Part IV
October 1969, 1969

Courtesy of Wasim Sayeed

Translated


جواب چھوڑیں