قافلہ درد کا ٹھہرے گا کہاں ہم سفرو کوئی منزل ہے ن…

قافلہ درد کا ٹھہرے گا کہاں ہم سفرو
کوئی منزل ہے نہ بستی نہ کہیں سایا ہے
کفیل آزر

اندیشہ
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے
یہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہو
جگمگاتے ہوئے لمحوں سے گریزاں کیوں ہو
انگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرف…

More

Image may contain: 1 person, text

جواب چھوڑیں