ناول کے باب سے اقتباسناول: اشتعال کی فصل (The Grap…

ناول کے باب سے اقتباس
ناول: اشتعال کی فصل (The Grapes of Wrath)
مصنف: جان اسٹائن بیک (John Steinbeck)
مترجم : سید سعید نقوی (نیویارک)
وہ متحرک کھوجی لوگ اب مہاجر تھے۔ وہ خاندان جو زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے پر زندہ رہتے تھے۔ جو چالیس ایکڑ پر رہے اور وہیں دفن ہوئے۔ جنہوں نے چالیس ایکڑ کی پیداوارپر گزارا کیا اور فاقے کیے۔ اب ان کے پاس گھومنے کے لیے سارا مغرب تھا۔ اور وہ کام کی تلاش میں گھومتے رہے۔ ہائی وے لوگوں کا سیلاب بن گئیں اور کناروں کی اترائیاں لوگوں سے آباد تھیں ہوگئیں۔ ان کے پیچھے اور لوگ آ رہے تھے۔ عظیم شاہراہیں، متحرک لوگوں کا بہتا دھارا تھیں ۔وہاں وسط اور جنوب مغرب میں سادہ لو کسان رہتے تھے۔ جو صنعت کے ساتھ بدلے نہیں تھے ۔ جنہوں نے مشین سے زراعت نہیں کی تھی ۔ نہ وہ نجی ملکیت میں مشین کی قوت یا خطرے سے واقف تھے۔ وہ صنعت کے تضادات میں پروان نہیں چڑھے تھے ۔ان کی حسیات اب بھی صنعتی زندگی کے بے تکے پن سے واقف تھیں ۔
پھر اچانک مشینوں نے انہیں دربدر کر دیا اور وہ ہائی ویز پر جمع ہو گئے ۔اس حرکت نے انہیں تبدیل کر دیا۔ پانی کی وجہ سے سڑکوں کے کنارے بنے کیمپ، بھوک کا خوف اور خود بھوک، سب نے انہیں بدل دیا۔ فاقہ زدہ بچوں نے انہیں بدل دیا، کبھی نہ ختم ہونے والی منتقلیوں نے انہیں تبدیل کر دیا۔ وہ مہاجر بن گئے۔ اس نفرت نے انہیں بدل دیا۔ لیکن انہیں یکجا کردیا، جوڑ دیا۔۔۔۔ وہ نفرت جس نے چھوٹے قصبوں کو مسلح گروہوں میں بدل دیا۔ جیسے وہ کسی حملہ آور کو بھگا رہے ہوں ۔ کھودنے والےسوئے اٹھائے لوگ، بندوقیں اٹھائے کلرک اور دکاندار، وہ اپنی دنیا کی خود اپنے ہی افراد سے تحفظ کر رہے تھے ۔
جب مہاجر ہائی وے پر چڑھنے لگے تو مغرب میں خوف بیدار ہوگیا۔ زمیں دار اپنی زمینوں کے لئے خوف زدہ تھے ۔افراد جو کبھی بھوکے نہیں رہے تھے، انہوں نے بھوکی نگاہیں دیکھیں ۔ وہ افراد جنہیں کبھی کسی چیز کی اشد ضرورت نہیں پڑی تھی انہوں نے مہاجرین کی آنکھوں میں انتہائی ضرورت کے شعلے دیکھے تو قصبوں اور مضافات کے مردوں نے اپنی حفاظت کے لیے جمع ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو یقین دلایا کہ وہ صحیح ہیں اور حملہ آور غلط ہیں، جیسا کہ لڑائی سے پہلے کسی شخص کو کرنا ہی ہوتا ہے۔ وہ بولے " یہ خبیث اوکیز، گندے اور جاہل ہیں ۔ وہ گمراہ اور جنسی درندے ہیں ۔ ۔یہ خدا غارت کرے اوکیز چور ہیں۔ وہ کچھ بھی چوری کر لیں گے ۔ انہیں مالکانہ حقوق کا کوئی احساس نہیں۔
اور یہ آخری بات درست ہے، کیونکہ کوئی شخص جس کی کوئی جائداد نہ ہو اسے ملکیت کے درد کا کیسے احساس ہو سکتا ہے؟ اور دفاع کرنے والے افراد بولے : یہ گندے ہیں اور بیماری کا باعث ہیں ۔ ہم انہیں اسکول میں نہیں رکھ سکتے ۔وہ اجنبی ہیں ۔ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہاری بہن ان میں سے کسی کے ساتھ ملوث ہو؟
مقامی افراد نے خود کو جبر کے سانچے میں ڈھال لیا۔ پھر انہوں نے جتھے اور گروہ بنا لیے۔ انہیں مسلح کر لیا، کلہاڑیوں،پیڑول اور بندوقوں سے مسلح، یہ ہمارا علاقہ ہے۔ ہم ان اوکیز کو قابو سے باہر نہیں ہونے دے سکتے۔ اور وہ افراد جنہوں نے خود کو مسلح کر لیا تھا وہ سمجھتے تھے کہ وہ مالکان ہیں، لیکن وہ تھے نہیں ۔وہ کلرک جو رات میں کھدائی کرتے تھے ان کی ملکیت کچھ بھی نہیں تھی. ، وہ دکان دار اپنی درازوں میں محض قرض کے کاغذات رکھتے تھے لیکن بہرحال قرض بھی کچھ تو ہے، کوئی بھی نوکری ہو، ہے تو سہی۔ وہ کلرک سمجھتا تھا مجھے پندرہ ڈالر ہفتہ ملتا ہے ۔ فرض کرو ایک منحوس اوکی بارہ ڈالر پر کام پر راضی ہو گیا؟ اور وہ دکان دار سوچتا ہے کسی ایسے شخص سے کیسے مقابلہ کر سکتا ہوں جس پر کوئی قرض نہ ہو ۔
اور مہاجرین ہائی وے پر پھرتے رہے،ان کی بھوک ان کی آنکھوں میں تھی ۔ان کی ضروریات ان کی آنکھوں میں تھیں ۔ ان کے پاس کوئی دلائل نہیں تھے۔ نہ کوئی نظام، کچھ بھی نہیں، بس ان کی تعداد اور ان کی ضروریات، اگر ایک فرد کے قابل کام ہوتا، دس افراد اس کے لیے لڑتے ۔ کم اجرت کے لیے لڑتے ۔اگر وہ شخص تیس سینٹ پر کام کر رہا ہے تو میں پچیس پر کام کروں گا ۔ اگر وہ پچیس پر کرے گا تو میں بیس میں کر دوں گا ۔"
نہیں، میں، میں بھوکا ہوں، میں پندرہ میں کام کر دوں گا ۔ میں صرف کھانے کے عوض کام کر دوں گا۔ بچے، تم ان کو دیکھو تو، جیسے چھوٹے چھوٹے پھوڑے نکل آئے ہوں۔ اب وہ بھاگ دوڑ بھی نہیں کر سکتے ۔ انہیں کچھ ہوا سے گرے پھل دے دو اور وہ پھول جائیں گے۔ میں، میں ذرا سے گوشت کے لیے کام کر دوں گا ۔اور یہ اچھا تھا، کیونکہ تنخواہیں کم ہو گئیں اور قیمتیں اوپررہیں ۔مالکان خوش تھے اور انہوں نے مزید افراد بلانے کے لیے اور زیادہ اشتہار بھیجے ۔ تنخواہیں مزید کم ہو گئیں ۔اور قیمتیں اوپر رہیں ۔ اور اب جلد ہی دوبارہ غلام پیدا ہونے لگے ۔
اور اب عظیم مالکان اور کمپنیوں نے نیا طریقہ ایجاد کر لیا ۔ایک عظیم مالک نے غذا ڈبوں میں بند کرنے کا کارخانہ خرید لیا۔ اور جب آڑو اور ناشپاتی پک جاتے تو وہ پھل کی قیمت اس پر ہونے والے خرچ سے بھی کم کر دیتا ۔ اس کارخانے کے مالک کے طور پر اس نے خود کو پھل اس سستے نرخ پر فروخت کیا۔ جب کہ ڈبہ بند پھلوں کی قیمت اونچی رکھی اور اپنے منافع میں اضافہ کیا۔ وہ چھوٹے کسان جو کسی ڈبہ بند کرنے والے کارخانے کے مالک نہیں تھے، وہ اپنی زمینیں کھو بیٹھے۔ جنہیں بڑے مالکان، بینکوں اور کمپنیوں نے اپنالیا جن کے ڈبہ بند کرنے کے کارخانے بھی تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمینوں کی تعداد کم ہو گئی۔ چھوٹے کسان کچھ عرصے کے لئے قصبوں میں منتقل ہو گئے ۔ جب انہوں نے اپنی بچت، اپنی دوستیاں، اپنے رشتہ دار استعمال کر لیے ۔پھر انہوں نے بھی ہائی وے کا رخ کیا۔ اور سڑکیں مردوں سے بھری ہوئی تھیں ۔جو کام کے لیےبھوکے تھے ۔جو کام کے لئے قتل کرنے کو تیار تھے ۔
اور وہ کمپنیاں اور بینک خود اپنے زوال کی جانب بڑھ رہی تھیں ۔ لیکن انہیں اس کا ادراک نہیں تھا۔ زمینیں پھلوں سے لدی تھیں اور بھوکے مرد سڑکوں پر جا چکے تھے ۔گودام بھرے ہوئے تھے اور غریبوں کے بچے ریکٹس[1] سے مڑے اعضا۔ اور پیلاگرا[2] سے نمودار ہونے والے پس بھرے دانوں کا شکار تھے ۔ان عظیم کمپنیوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ بھوک اور غصے کے درمیان بہت باریک سی لکیر ہوتی ہے ۔تو وہ پیسہ جو تنخواہوں پر صرف ہوتا وہ پٹرول اور بندوقوں پر خرچ ہوا۔ ایجنٹوں اور جاسوسوں پر ، بلیک لسٹ اور کھدائی پر صرف ہوا۔ ہائی وے پر افراد چیونٹیوں کی مانند رینگتے، کام تلاش کرتے ، غذا ڈھونڈتے۔ اور غصہ جگہ پانے لگا۔
حواشی:
[1]وٹامن ڈی کی کمی سے ہونے والی بیماری Ricketts
[2]وٹامنB3 کی کمی سے ہونے والی بیماری Pellagra
نوٹ:
ناول کا ترجمہ زیرِ اشاعت ہے۔ معلومات اور رابطہ کے لیے:
سٹی بک پوائنٹ، نوید اسکوائر، اردو بازار، کراچی۔
03122306716

— with Saeed A Syed.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2962073624023151

جواب چھوڑیں