سوفی کی دنیا از جوسٹین گارڈر اردو آڈیو بک انسانی…

سوفی کی دنیا از جوسٹین گارڈر
اردو آڈیو بک
انسانی تاریخ کا پہلا فلسفی جسے ہم جانتے ہیں اس کا نام تھا تھیلیس۔ اس کا تعلق ایشیائے کوچک مائنر ایشا کی ایک یونانی نو آبادی ملیتسc سے تھا۔ وہ سیلانی مزاج آوارہ گرد آدمی تھا اور ملکوں ملکوں گھومتا پھرتا رہتا تھا۔ وہ مصر بھی گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک ہرم کی بلندی کا حساب اس وقت لگایا جب اس کے اپنے جسم کا سایہ اس کے اپنے قد کے عین بر ابر تھا۔ اس کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے 585 قبل مسیح میں سورج گرہن کی بالکل صحیح پیش گوئی کی تھی۔ تھیلس کا خیال تھا کہ تمام اشیائ کا ماخذ پانی ہے ہمیں صحیح صحیح یہ تو معلوم نہیں کہ اس سے اس کی مراد کیا تھی، تاہم عین ممکن ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہو کہ ہر قسم کی زندگی کا اغاز پانی سے ہوتا ہے۔۔۔۔ اور جب یہ ختم ہوتی ہے، تو واپس پانی میں لوٹ جاتی ہے۔ مصر میں اپنے سفر کے د وران میں اس نے لازما دیکھا ہوگا کہ طغیانی کے بعد جونہی دریائے نیل کا پانی اپنے اردگرد کی زمین سے پیچھے ہلتا ہے، روئیدگی پھوٹتے اور فصلیں اگنے لگتی ہیں۔ شاید اس نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ جہاں کہیں ابھی ابھی بارش ہوئی ہے، وہاں مینڈک اور حشرات الارض نمودار ہونے لگے ہیں۔ غالبا تھیلیس سوچتا ہوگا کہ پانی کس طرح برف یا بخارات کی صورت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔۔۔۔ اور پھر دوبارہ پانی بن جاتا ہے۔ تھیلیس کے متعلق یہ بھی فرض کیا جاتا ہے کہ اس نے کہا تھا : ’’تمام اشیا دیوتائوں سے بھری پڑی ہیں۔ ’’ اس سے اس کی کیا مراد تھی، ہم صرف قیاس آرائی کر سکتے ہیں۔ غالبا یہ دیکھتے ہوئے کہ کس طرح سیاہ زمین پھولوں اور فصلوں سے لے کر حشرات الارض اور لال بیگوں تک ہر چیز کی ماخذ ہے، اس نے یہ سوچا ہوگا کہ زمین انتہائی چھوٹے چھوٹے نظر نہ آنے والے ’’ زندہ جراثیم ‘‘ سے بھری ہوئی ہے۔ ایک بات یقین سے کہی جاسکتی ہے۔۔۔۔۔ وہ ہومر کے دیوتائوں کا ذکر نہیں کر رہا تھا۔ اگلا فلسفی جس کے متعلق ہم سنتے ہیں، اناکسی ماندر anaximander تھا۔ وہ بھی تقریبا اسی زمانے میں ملیتس میں رہتا تھا۔ جب تھیلیس وہاں رہتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ہماری دنیا ان لاتعداد دنیائوں میں سے ایک ہے جو اس شے میں، جسے وہ بے کراں boundless کہتا تھا،بنتی اور مٹتی رہتی ہیں۔ بے کراں سے اس کا کیا مطلب تھا، اس کی تشریح کرنا آسان نہیں، لیکن اتنا صاف نظر آتا ہے کہ وہ اس انداز سے کسی کو معلوم مادے کا نہیں سوچ رہا تھا جس انداز سے تھیلیس نے اس کا تصور باندھا تھا کہ وہ حقیقی ہے۔ شاید اس کا مطلب یہ تھا کہ مادا substance، جو تمام اشیا کا ماخذ ہے، ان اشیا سے مختلف ہونا چاہیے، جو تخلیق کی جاتی ہیں۔ چونکہ تمام تخلیق شدہ اشیائ محدود limited ہوتی ہیں، جو ان سے پہلے اور بعد میں آتا ہے، لازما‘‘ بے کراں ‘‘ ہوگا۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ بنیادی مواد stuff پانی جیسی معمولی چیز نہیں ہوسکتا۔ ملیتس کا تیسرا فلسفی اناکسی مینس تھا۔ اس کا خیال تھا کہ تمام اشیائ کا ماخذ’’ہوا‘‘ air یا ’’بخارہ‘‘ vapour ہونا چاہیے۔ اناکسی مینس بہرحال تھالیس کے پانی کے نظریے سے آگاہ تھا۔ لیکن پانی کہاں سے آتا ہے؟ اناکسی مینس کا خیال تھا کہ پانی کثیف condensed ہوا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب بارش ہوتی ہے، ہوا پر دبائو پڑنے سے پانی خارج ہوتا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ جب پانی پر مزید دبائو پڑتا ہے۔ یہ مٹی بن جاتا ہے۔ اس نے غالبا مشاہدہ کیا ہوگا کہ جب برف پر دبائو پڑتا ہے اور وہ پھگلنے لگتی ہے تو اس سے کس طرح مٹی اور ریت خارج ہوتی ہے۔ اس کا یہ بھی خیال تھا کہ آگ سمائے لطیف rarefiled air ہے۔ چناچہ اناکسی مینس کے مطابق مٹی، پانی اور آگ کا ماخذ ہو اہے۔ پانی سے زمین کے پھل تک پہنچنے میں کوئی زیادہ عرصہ درکار نہیں ہوتا۔ شاید اناکسی مینس کا خیال تھا کہ مٹی، ہوا اور آگ سبھی زندگی کی تخلیق کے لیے ضروری ہیں لیکن تمام اشیا کا ماخذ ہوا یا بخارہ ہی ہے۔ چناچہ تھالیس کی طرح وہ بھی یہ سمجھتا تھا کہ لازما کوئی ایسا بنیادی مادہ ہوگا جو تمام تبدیلیوں کا ماخذ ہے۔
مکمل تفصیل اس لنک میں


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2991811744382672

جواب چھوڑیں