لاٹریThe LotteryShirley Jackson (1919-1965)(USA)مت…

لاٹری
The Lottery
Shirley Jackson (1919-1965)
(USA)
مترجم و تجزیہ: غلام محی الدین
27 جون کا سورج پوری طرح روشن اور صاف تھا۔ موسم کی مناسبت سے حدت کم تھی۔ فضا میں ہلکی سی سی خنکی تھیپھولاپنے جوبن پر تھے اور اپنے حسن کا جادو جگا رہے تھے۔ گھنی گھاس کی مخملی سبز چادر چا رسو پھیلی ہوئی تھی۔ آج کی تاریخ لاٹری کےلئے مخصوص تھی۔سال میں ایک بار نکلتی تھی ۔بستی کے ایک مکین کی قسمت بدلنی تھی۔ کسی خاندان پران منٹ نشانات چھوڑ ےجانے تھے ۔ وہ کون ہوگا کا فیصلہ تمام بستی کے سامنے غیر جانبداری سے کیا جانا تھاجو آئندہ چند گھنٹوں میں ہونے جا رہاتھا۔ بستی والوںکے لئے یہ نئی بات نہیں تھی ۔یہ اس وقت متعارف کروائی گئی تھی جب صدیوں پہلے یہ بستی آباد ہوئی تھی۔سال میں ایک بار مقررہتاریخ پر منعقد ہوتی تھی۔ ان کی ریت ، روائت اور رسم بن گئی تھی جسے وہ قائم رکھے ہوئے تھے اور شائد جاری بھی رکھنا چاہتے تھے۔
کئی بستیوں میں یہ رسم دو دن چلتی تھی۔ وہاں یہ اجتماع 26 جون کو شروع ہوتاتھا جبکہ یہاں ایک ہی دن میں ختم ہو جاتی تھی۔ دو گھنٹےمیں ہی لاٹری کی تمام منازل طے کی جا سکتی تھیں۔ اگر یہ صبح دس بجے شروع کردی جائے تو دوپہر کا کھانا گھر پر کھایا جا سکتا تھا۔صدیوں سے جاری روائت کے مطابق بستی کے مکین بنک اور پوسٹ آفس کے مین چوک پر جمع ہوناشروع ہو گئے تھے۔ وقت تقریباًدس بجےکا تھا۔ توقع کے مطابق بچہ لوگ سب سے پہلے پہنچے۔موسم گرما کی تعطیلات شروع ہو گئی تھیں۔ گھروں میں بند رہنا، آزادی ،کھلی فضا میں سانس اور اپنی توانائیاں خارج کرنا ان کا مقصد تھا۔چوک پہنچ کر کچھدیر تو سکون سے رہے ۔ سکول، اساتذہ ، ان کےرویے، ہوم ورک۔ نصاب وغیرہ پر بات کرتے رہےپھر دھما چوکڑی مچانے لگے۔جوش میں ایک بچے بوبی مارٹن کو نہ جانے کیاسوجھی کہ اس نے زمین پر بکھرے کنکروں سے اپنی جیبیں ٹھونس لیں۔اس کی تقلید میں دوسروں نے بھی ایسا ہی کیا۔ گول گولہموار پتھر اکٹھے کر لئے۔لئے۔ کئی بچے جن میں بوبی، لیری جونز اور ڈکی ڈیلا کروئیکس(جس کا لقب ڈیلا کراسی تھا) شامل تھے، اس کھیل میں حد سے بڑھ گئے اور پتھروں کی ڈھیریاں بنالیں۔ یہ خیال کہ اس سوغات کو کوئی چرا نہ لے یا ان پر کوئی حملہ نہ کردے، کوروکنے کے لئے اس پر پہرہ دینے لگے۔کچھ دیر بعد لڑکیاں آ گئیں اور ایک الگ ٹولی بنا کر کھڑی ہو گئیں۔ان کے ساتھ کمسن بچے بھیتھے جنہوں نے اپنے مزے کے لئے مٹی کی مٹھیاں بھر بھر کر ایک دوسرے پر پھینکنا شروع کر دیں۔اس کے بعد سربراہ خانہحضرات آگئے اورفصلوں، ٹیکسوں ,بیلوں،بیجوں اور حالات حاضرہ پر گفتگو کرنے لگے۔باتوں کے دوران اچٹتی نگاہ اپنےبچوں پر بھی مار لیتے۔آخر میں ان کی بیویاں ان سے آ ملیں،وہ گھریلو لباس میں تھیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کو اپنےپاس بلا لیا ۔ اب پورا خاندان ایک جگہ پر ہی کھڑا ہو گیا۔بوبی نے اپنی ماں کا ہاتھ غوطہ لگا کر چھڑا لیااور ڈھیری کی طرف بھاگاتو اس کے باپ نے اسے ڈانٹا اور وہ اپنےوالد اور اپنے بھائی کے بیچ میں دبک کر کھڑا ہو گیا۔لاٹری کی غیر یقینیصورت حال کی وجہ سےفضا میں غیر محسوس تنائو کی سی کیفیت محسوس کی جارہی تھی۔
لا ٹری کی یہ رسم پچھلے کئی برسوں سے جو۔سمرز منعقد کر رہا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت بڑا سماجی کارکن تھا اوربستی بھر کی تقاریب کا روح رواں تھا۔جوانوں کے کلب، ڈانس پارٹیاں، ہیلوئین، کرسمس، ایسٹر وغیرہ کی تقاریب عمدہطریقےسے منعقدکرواتا تھا ۔وہ ایک معقول شخص تھا۔تاجر تھا۔لوگ اس کی عزت کرتے تھے لیکن اس کےساتھ اس پر ترس بھی کھاتے تھے۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ ایک تو وہ بے اولاد تھا اورد وسرا یہ کہ اس کی بیوی تیز مرچی تھی۔مجموعی طور پر وہ دلکش شخصیت کامالک تھا، گول مٹول چہرہ اور عمدہ حس مزاح رکھتا تھا اور انتہائی ذمہ دار تھا اسلئے بستیوالوں نے لاٹری نکالنے کا انتظام بھی اس کے سپرد کر دیا تھا ۔
مسٹر جو ۔سمرز وہاں پہنچا تو اس نے لکڑی کا سیاہ باکس اٹھایا ہوا تھا۔ اس کے عقب میں مسٹرہیری گریووز تھا جس کےہاتھوں میں تین ٹانگوں والا سٹول تھا۔ ان کو دیکھتے ہی مجمع میں کھسر پھسر شروع ہو گئی۔ مسٹر گریووز نے چوک میں سٹولرکھا اور جو نے اس پر سیاہ بکس ٹکا دیا۔ ہاتھ اٹھا کر ہیلو کیا اور کہا کہ آنے میں کچھ دیری ہو گئی۔ مجمع نے سٹول سے خود کومناسب فاصلے پر رکھا۔ مسٹر سمرز نے انہیں مخاطب کر کے کہا کہ اسے دو مدد گار چاہئیں۔بھیڑ میں مسٹر مارٹن اور اس کا سبسے بڑا بیٹا بیکسٹرہچکچاتے ہوئے باہر نکلے۔سمرز نے انہیں ہدائت دی کہ لاٹری کے سیاہ باکس کواچھی طرح کس کر پکڑکر رکھیں تاکہپرچیوں کو اچھی طرح مکس کیا جا سکے۔ انہوں نے اس پر عمل کیا اور جو ۔سمرزنے اس باکس کو اچھی طرح ہلایا۔
صدیوں پرانا اصلی لاٹری باکس کب کا ٹوٹ چکا تھا۔ اس کے اندر سامان کا کچھ حصہ موجودہ باکس میں فٹ کر دیا گیا تھا۔ بستی کابزرگ ترین شخص مسٹر وارنر اس روائت کی تاریخ اور افادیت پر گفتگو کرتارہتا تھا۔ وہ پچھلے ستتر سالوں سے یہ رسم دیکھ رہا تھااور اس کا زبردست حامی تھا۔ وہ بتا تا رہتا تھا کہ یہ باکس بھی اب خستہ حال ہو چکا ہے اور اس کی لکڑیوں کا رنگ تک نظر آنےلگا ہے۔ اسلئے اسے تبدیل کرکے نئے باکس بنالینا چاہیئے۔ اکثر مکین اس کی رائے کو پسند نہیں کررہےتھے کیونکہ اس میں زمانہ قدیم کے باکس کے کئی ٹکڑے اس باکس میں تھے۔ وہ کون سے تھے، پتہ نہیں تھا۔یہ بحث ہرسال چلتی اور گفتندنشستندبر خواستند والامعاملہ ہو جاتا تھا۔ موجودہ شکل میں یہ باکس مکمل سیاہ نہیں تھا۔ اس کی لکڑیوں کارنگ نظر آنے لگا تھا۔ آئے دن اس کی حالت بگڑرہی تھی۔ صدیوں پہلے جب بستی آباد ہوئی تو بہت کم نفوس تھے اور اب جبکہ آ بادی بڑھتے بڑھتے تین سو سے بھی اوپر ہو چکی تھی اور اس میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اس لئے وزنی اشیا کی بجائے کاغذ کی پرچیاں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ وہ باکس میں سما سکیں۔لاٹریکی رسم ایک سادہ تقریب نہیں تھی۔اسکو انجام تک پہنچانے کے لئے بہت سے مراحل طے کرنا پڑتے تھے۔ اس میں گائوں کاپوسٹ ماسٹر ہیری گریووز بھی اس کی معاونت کرتا تھا۔ یہ تیاری لاٹری سے ایک رات پہلے شروع ہوتی تھی ۔
انہیں بستی کے تمام مکینوں کی تازہ ترین فہرست بنانا پڑتی تھی۔سب سے پہلے کے خاندانوں اور ہر خاندان کے سربراہکی فہرست، ان کی بیویوں کی فہرست، ان اہل خانہ کی فہرست جو لاٹری میں حصہ لینے کے اہل تھے اور ہر خاندان کےتمام افراد کی تازہ ترین فہرست بنا کر ان کی تعداد کے مطابق کاغذ کی پرچیاں بنا کر تہہ کرکےمحفوظ مقام پر رکھنا پڑتیتھیں تا کہ اگلے روز انہیں وقت ضائع کئے بغیر استعمال کیا جا سکے۔ لاٹری کی رسم کی ادائیگی کے بعد اس باکس کو تمامسال محفوظ رکھنا بھی اہم تھا تاکہ اگلے سال اسے استعمال کیا جا سکے۔ اسے کمپنی کے دفتر یا مسٹر سمرز کیلاٹری کا انعقادآسان کام نہیں تھا۔ روائت کے انعقادسے آخر تک بہت سی منازل طے کرنا پڑتی تھیں۔ ایک رات پہلے مسٹر جو ۔سمرز اورمسٹرگریووز کو بستی کے تمام مکینوں کی تازہ ترین فہرست بناناپڑتی۔ایک فہرست سربراہ خانہ کی بنائی جاتی تھی۔ یہ وہ نام ہوتے تھے جن کو اراکین خانہ پر حاکمیت حاصل ہوتی تھی۔زیرکفالت افراد کو روٹی، کپڑا۔ رہائش دیتا تھا۔( ہیڈ آف فیملی)۔ یہ فرد واحد ہی تمام گھریلو اخراجات فراہم کرتا تھا۔
ایک فہرست ان لوگوں کی بنائی جاتی تھی جو گھر کی پچاس فیصد سے زیادہ ضروریات پوری کرتے تھے۔ان کو گھریلوسربراہ ( ہیڈ آف ہائوس ہولڈ)کہا جاتا تھا۔ یہ لازم نہیں تھا کہ وہ سربراہ خانہ ہی ہو۔اس کا تعلق گھر کی پچاس فیصد سے زیادہ ذمہ داریاں پوریکرنے کے ساتھ تھا۔
ایک فہرست گھر کے تمام افراد کی بنائی جاتی تھی۔ جن میں بالغ غیر شادی شدہ اور بچے ہوتے ہیں اور ان کا کھانا ایک ہیجگہ بنتاہے اور کم از کم دن میں ایک بار اس گھر میں کھاتے ہیں۔ہر خاندان کے سربراہ جو کہ عموماً خاوند ہوتا تھا کا نام اور اس کے خاندان کے بالغ اراکین جو لاٹری کھلنے کے اہل تھے، کے ناموں کہ فہرست بنانا پڑتی، پھر ہر خاندان کے تمام افراد (بالغ اورنابالغ) کی فہرست بنا نا پڑتی۔ اس کے بعد ہر بالغ کے لئے لاٹری میں استعمال کے لئے کاغذ کی پرچی بنا کر تہہ بناکر باکس میں رکھ دیجاتی۔باکس کو سیل کر کے بنک میں رکھ دیا جاتا اور اگلے روز لاٹری کےلئے وہاں سےلایا جاتا تھا۔ لاٹری کی رسم کی ادئیگی کے بعداس باکس کو تمام سال کمپنی کے دفتر یا مسٹر سمرز کی دکان یا مسٹر مارٹن کےگراسری سٹور یا بنک کے لاکر یا مسٹر ہیری گریووز کےپوسٹ آفس میں رکھا جاتا تھا۔
لاٹری سے پہلے ایک روائت ایمانداری اور غیر جانبداری کی قسم اٹھانے کی بھی تھی۔اس کے لئے باقاعدہ تقریب رسم حلف برداری بھی ہوتی تھی۔ پوسٹ ماسٹر مسٹرہیری گریووز ایک خاص پوز میں کھڑا ہو کر مسٹرجو۔ سمرز سے مجمع کے سامنے حلف لیاکرتا تھا اور حلف برداری کے بعد تمام لوگ اس کو سالیوٹ کیا کرتے تھے۔ وہ چل کر مجمع میں بھی جایا کرتا تھا۔ چند سالوں سے یہ رسماب بند کر دی گئی تھی۔
اس کی جگہ یہ بات متعارف کروائی گئی تھی کہ ہر شریک کو واضح ہدائت دی جائے کہ تسلی سے باکس میں سےصرف ایک پرچی نکالیں اور اسے اس وقت تک نہ کھولیں جب تک تمام شرکا فارغ نہ ہو جائیں اور مسٹر سمرز انہیں نہ کہے۔مسٹرسمرز اس معاملے میں سب سے معقول شخص تھا۔
چندبرس پہلے تک رسم حلف برداری بھی ہوتی تھی۔ پوسٹ ماسٹر مسٹرہیری گریووز ایک خاص پوز میں کھڑا ہو سمرز مجمع کےسامنے حلف لیا کرتا تھا اور حلف برداری کے بعد تمام حاضرین اس کو تعظیم کے لئے اسکو سالیوٹ کیا کرتے تھے۔ مسٹر سمرز سالیوٹ لینے کے بعد مجمع میں بھی جایا کرتا تھا۔چندسالوں سے یہ رسم بند کر دی گئی تھی ۔
مسٹر سمرز صاف ستھری اور عمدہ سفید قمیص اور نیلی جین کی پتلون پہنےلاپرواہی ست ایک ہاتھ باکس پر رکھے کھڑا تھا جو موقع کیمناسبت سےموزوں لگ رہا تھا۔ وہ وقفے وقفے سے اپنے پاس کھڑے مسٹر گریووز ، مسٹر مارٹن اور ان کے بیٹے بیکسٹر باریباری ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے۔ جوں ہی ابتدائی مراحل طے ہو گئے تو مسٹر سمرز بستی والوں سے مخاطب ہونے لگا۔
عین اس وقت مسز ٹیسی ہچنسن اپنے گیلے ہاتھ اپنے ایپرن سے خشک کرتی آگئی۔ اس نے سویٹر اپنے کندھے پررکھا تھا۔وہ سیدھیمسزڈیلاکرائوئکس ُ کے پاس جاکر کھڑی ہو گئی اور اسے آہستہ سے بتایاکہ مکمل طور پر بھول گئی تھی کہ وہ دن لاٹرکا دن تھا۔اگرچہاس کا میاں گھر پر نہیں تھا۔وہ سمجھی تھی کہ وہ لکڑیاں اکٹھی کرنے گیا تھا لیکن جب اس نے کھڑکی سےدیکھا تواس کےتینوں بچے بھی غائب تھے تو سوچا کہ وہ کہاں جا سکتے تھے تو لاٹری کا یاد آیا تو وہ برتنوں کی صفائی ادھوریچھوڑ کر آ گئی۔ ا س پر ڈیلا نے جواب دیا کہاس نے کچھ نہیں کھویا کیونکہ کاروائی کا ابھی آغاز ہی نہیں ہواتھا۔وہ دونوں بے دلی سے ہنسنے لگیں۔ اس وقت ٹیسی نے گردن گھمائیاور اپنے میاں مسٹر بل ہچنسن کو تلاش کرنے لگی۔ وہ سب سے پہلی قطار میں اپنے بچوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس نے ڈیلا ڈیلو کروئکس کے ہاتھ پر تھپکی دی اور بھیڑ چیرتے اپنے خاندان کے پاس پہنچ گئی۔ کوئی اونچی آواز میں بولا۔۔۔ لو جی ! ً مسز ہچنسن ُ بھی آگئی ہے۔ اس پر مسٹر سمرز نے فقرہ کسا کہ مجھے خدشہ تھا کہ آج لاٹری مسز ٹیسی کے بغیر ہی نکالنا پڑے گی۔ اس پر ٹیسی نے ترتجواب دیا کہ اب میرے گھر کے سارےگندے برتن مسٹر سمر ہی جا کر دھوئے گا جنہیں اسے کچن کے بیسن میں گندہ ہی چھوڑ آئیتھی۔ اس پر لوگوں نے کھوکھلا قہقہہ لگایا۔
باتیں چھوڑ کر اصل معاملے پر آئیں۔ ۔۔ کیا اس تقریب میں کوئی غیر حاضر ہے؟ سمرز نے دریافت کیا۔
ہاں ایک شخص ہے۔۔۔ مسٹر کلائیڈ ڈنابر۔۔۔ وہ ٹانگ ٹوٹنے کی وجہ سے گھرپر ہے۔
مسٹر سمرز نے فہرست دیکھی اور اس کے نام کے آگے کانٹا لگا دیا۔۔۔ اس کی پرچی کون نکالے گا ۔
بھیڑ میں سے ایک ہاتھ بلند ہوا اور آواز آئی ُ میں ُ۔ وہ ہاتھ ڈنابر کی بیوی کا تھا۔
کیا تمہارا کوئی لڑکا جوان نہیں ؟
مسز ڈنابر نے نفی میں جواب دیا۔میرے گھر میں ہیریس ہے جو کم سن ہے۔
وہ جانتا تھا لیکن یہ سوال لازم تھا۔۔۔کوئی مرد نہ ہونے کی وجہ سے اپنے میاں کی بطور سربراہ خانہ اس کی بیوی مسز ڈنابر نکالے گی۔مسٹر سمرز نے فیصلہ سنایا۔
مسٹر واٹسن بھی موجود نہیں تھا۔مسٹر سمرز نے پوچھا کہ اس کی پرچی کون نکالے گا توہجوم میں ایک ہاتھ بلند ہوا جو اس کے جوانبیٹے کا تھا۔ مسٹر سمرز نے اسے قبول کر لیا۔
لو جی!بستی کا بزرگ ترین شخص مسٹر وارنر بھی پہنچ گیا ہے۔۔۔اب لاٹری میں حصہ لینے والے تمام اراکین موجود ہیں اسلئے کاروائی کاباقاعدہ آغاز کیا جاتا ہے۔ جوں ہی مسٹر سمرز نے اعلان کےلئے اپنا گلا صاف کیا تو ہجوم پر خاموشی طاری ہوگئی۔
اس نے فہرستپکڑتے ہوئے کہا ۔ میں باری باری نام پکارنا شروع کروں گا ۔۔۔سب سے پہلے سربراہ خانہ کا نام پکاروں گا۔۔۔اس کے بعد اس گھرکے مرد اور پھر عورتیں آئیں گی۔ اور ہر ایک باری باری ایک ایک پرچی نکالے گا۔ اس پرچی کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر رکھنا ہے۔اسکی تہہ کو نہ کھولیں جب تک کہ ہر ایک باری نہ لے لے۔ کیا یہ بات ہر ایک کی سمجھ میں آگئی؟مکینوں نے یہ عمل کئی بار کیا تھا ۔ انہوں نے نیم دھیانی سے سنا ۔ خاموش رہ کر اپنے ہونٹوں پر زبانیں پھیر کر انہیں گیلا کرتے رہے۔
اس کے بعد جو ۔سمرز نے اپنا ہاتھ بلند کیا اور سٹیو ایڈمز پکارا۔ایک شخص بھیڑ سے نکلا اور آگے آگیا۔
ہائے سٹیو !
ہائے جو!
دونوں نے ایک دوسرے کو سہمے انداز میں دیکھا۔ سٹیو سیاہ بکس کی طرف بڑھا اور ایک پرچی نکالی۔ اسے کونے سے مضبوطی سے پکڑکر تیزی سے ہجوم میں اپنے خاندان کے ساتھ جو ذرا ہٹ کے تھا ، جا کر کھڑا ہو گیا۔
ایلن!
اینڈرسن!
بینتھم!
جو نے ایک کے بعد دوسرے کو پکارنا شروع کیا۔
یہ سال تو بڑا تیزی سے گزر گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پچھلی لاٹری پچھلے ہفتے ہی نکلی تھی۔ مسز ڈیلا کروئیکس نے پاس کھڑیمسزگریووز سے سرگوشی کی۔
وقت کے پرلگے ہیں۔۔۔ مسز گریووز نے جواب دیا۔
جو نے کلارک کانام پکارا ۔
دیکھو ۔ ادھر میرا میاں جا رہا ہے۔ مسز ڈیلا کروئیکس نے اپنا سانس روکتے ہو ئے کہا۔
کلارک باکس کے پاس پہنچا اور جو کو آداب کہا اور پرچی نکالی۔ ۔۔اب تمام مردوں نے اپنی باری لے لی تھی۔ پرچیاں ان کے ہاتھوںمیں تھیں اور اپنے ہاتھ موڑ کر پریشانی سے دیکھ رہے تھے۔ مسز ڈنابر اور اس کے دو بیٹے پاس ہی کھڑے تھے۔
اور مسز ڈنبر نے پرچیپکڑی ہوئی تھی۔
مسٹر گریووز !
گریووز مجمع کے ایک کونے سے نکلا ۔ سمرز کو تعظیم کہا اور ایک پرچی نکال لی۔
لگتا ہے کہ اس کے بعد ہماری باری ہے۔مسز گریووز نے قیافہ لگایا۔
مسز جینی ڈنابر۔ جو نے نام لیا۔
وہ آہستہ سے باکس کی طرف بڑھنے لگی تو پیچھے سے ایک خاتون نے آواز لگائی ۔۔۔جلدی سے آگے بڑھو جینی۔۔۔ اس کے ساتھ ایک اور آواز سنائی دی۔۔۔دیکھو۔ وہ چل دی ہے۔
ہربرٹ!
بل ہچنسن!
بل اٹھو اور جا کر پرچی نکالو۔ اس کی بیوی ٹیسی نے اسے جھنجھوڑ کر کہا۔وہ لوگ جو پاس کھڑے تھے اس کی بات سن کر ہنس دئیے۔بل رینگتے ہوئے باکس سے پرچی نکالنے لگا تو مسٹر سمرز نے اسے جلدی کرو ۔ تم بہت دیر کر رہے ہو۔بل پرچی نکال کر ٹیسی کےپاس کھڑا ہو گیا۔
جونز۔۔۔۔!
ایڈمز نےاپنے سے اگلے شخص وارنر سے کہا کہ شمالی بستیوں میں یہ رسم ترک کر نے کا سوچا جا رہا ہے۔اس کی بیوی نے لقمہ دیا کہ کچھبستیوں نے تو اس رسم کو ختم بھی کر دیا ہے۔
وہ بیوقوفوں اور پاگلوں کا ٹولہ ہے۔ آرتھر نے نرخرے سے آواز نکالتے ہوئے کہا۔ ان احمقوں پر لعنت بھیجو۔وہ نوجوان بزدل ہیں ۔
انہیں سننا بیکار ہے۔ ۔۔ اس کے بعد تم جانتے ہو کہ کیا ہو گا؟۔۔۔ انہیں کچھ دیر اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ وہ غاروں کے زمانے میںلوٹ جائیں گے۔ انخرافات پر کان مت دھرو۔ البتہ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جون کی لاٹری ہماری فصلوں کیضامن ہے۔ ہم سب باغیچوں کے خود رو پودے ہیں اوراگر لاٹری ہماری بستی میں اسی طرح جاری رہی تو ہم بھنےہوئے چنے اور سٹے کھا رہے ہوں گے۔ ۔۔ وارنر نے کہا۔
مارٹن ! سمرز نے کہا۔
بوبی نے اپنے باپ کو باکس کی طرف بڑھتے دیکھا۔
اوور ڈائیل!
پرسی!
جو نے اگلے نام پکارے۔
میری خواہش ہےکہ عمل تیز ہو۔ مسز ڈنا بر نے اپنے بڑے بیٹے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ تقریباٍ تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ سب نے اپنی اپنی باری پر پرچی نکال لی ہے۔ بیٹے نے جواب دیا۔
تو تم نتیجہ اپنے والد کو بتانے کے لئے تیار ہو جائو بیٹے۔
مسٹر جو ۔سمرز نے اپنا نام پکارا اور سیاہ باکس سے ایک پرچی نکال لی۔اس کے بعد اس نے وارنر کہا۔
وارنر آگے بڑھا تو بولا کہ اس رسم کو میں ستتر برسوں سے دیکھ اور نبھا رہا ہوں۔ وہ پرچی نکال کر اپنی جگہ کھڑا ہو گیا۔
واٹسن!
ایک قد آور جوان سہما اور ڈرا ہوا نکلا۔ ہجوم میں سے آواز آئی ۔ جیک گھبرائو مت۔ ۔۔ مسٹر سمرز نے کہا جیک واٹسن گھبرائومت۔ اپنا وقت لو۔
زنیمی۔۔۔!
اختتام ہوا۔
ایک طویل وقفہ ہوا۔سناٹا چھا گیا۔ مجمع کی سانسیں رک گئیں۔سناٹا چھا گیا۔ مسٹر سمرز نے اپنا بازو اونچا کر کے پرچی ہوا میلہرائی اورکہا کہ سب اپنی اپنی پرچیاں کھول دیں۔ اعلان کے باوجود سب اپنی جگہ ایک منٹ تک ساکت کھڑے رہے۔ اپنی پرچی کھولنے کیکسی کو ہمت نہ ہوئی۔ اعلان دوبارہ دہرانے پر اپنی پرچیاں کھول کر دیکھا اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
کہ کس کی لاٹری نکلی ہے۔
کیا یہ ڈنابر ہے ۔۔۔؟ نہیں۔
تو کیا یہ واٹسن ہے۔۔۔؟ نہیں ۔
کیا یہ ٹیسی ہچنسن ہے؟۔۔۔ نہیں۔ ۔۔
آج کا دن بل ہچنسن کے نام ہے۔ اس کی لاٹری نکلی ہے۔لوگوں نے بل کو دیکھنے کے لئے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔
اب ہجوم کی تمام تر توجہ بل ہچنسن کی طرف مبذول کر لی۔ بل خاموشی سے اپنی پرچی کو گھور رہاتھا۔
اب ہجوم نے تمام تر توجہ بل ہچنسن کی طرف مبذول کر لی۔
اچانک ٹیسی ہچنسن اچانک چلا اٹھی۔ بل کے ساتھ صحیح نہیں ہوا۔اسے مناسب وقت نہیں دیا گیا۔
مسز ڈنابر نے اپنے بیٹے کو کہا کہ نتیجہ جا کر اپنے باپ کو بتا دے۔وہ چلا گیا۔
ایک بہادر کھلاڑی کی طرح نتیجے کو قبول کرو۔ ڈیلاکروئکس نے مشورہ دیا۔
یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ سب کے مواقع برابر کے تھے۔ مسز گریووز نے کہا۔
میں نہیں مانتی۔ ٹیسی نے کہا۔ بل کے ساتھ درست نہیں ہوا۔اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔
خاموش رہو ٹیسی۔ بل نے کہا۔
اچھا تمام دوستو !۔۔۔لاٹری کے زیادہ تر مراحل بخوبی سے طے پا گئے۔ اب ہمیں تیزی کے ساتھ باقی ماندہ رسومات کو ادا کیا جانا چاہئیےتا کہ وقت پر ہی یہ رسم مکمل کی جا سکے۔اس نے دوسری فہرست دکھنا شروع کی جو ہائوس ہو لڈ سے متعلق تھی۔
بل! تم نے بطور سربراہ خانہ پرچی نکال لی ہے۔ کیا تہارے خاندان میں کوئی ایسا ہے جو پچاس فیصد سے زیادہ گھریلو اخراجات اٹھاتا ( ہیڈ آف ہائوس ہولڈ ) ہو۔
ایوا اور ڈانز۔ ٹیسی ہچنسن بولی۔ ایوا میری شادی شدہ بیٹی ہے اور ڈانز اس کا میاں ہے۔ ان کو بھی شامل کرو۔بل کے ساتھ نا انصافیہوئی ہے۔
شادی شدہ بیٹی کا خاندان اس کے شوہر والا ہوتا ہے۔ وہ والدین کے لئے پرچی نہیں نکال سکتی۔ کیا تم یہ نہیں جانتی۔ سمرز نے کہا۔
شادی کے بعد بل اس کا سربراہ خانہ نہیں رہا ۔سمرز نے کہا۔
جو ! میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ بل نےافسردہ لہجے میں کہا۔میری بیٹی اپنے خاوند کے ساتھ پرچی نکالے گی۔یہی صحیح ہے۔
میری بیٹی اپنے خاوند کے ساتھ لاٹری کھیلے گی۔میری فیملی میں ٹیسی کے علاوہ ہمارے بچے ہیں اور کوئی نہیں۔بل کے کہا۔
شادی شدہ بیٹی لاٹری اس کے خاوند کےلئے نکالے گی ۔ شادی کے بعد میں اس کا سربراہ خانہ نہیں رہا ۔یہ سچ ہےمیری فیملی میں ٹیسی کے علاوہ ہمارے بچے ہیں اور کوئی نہیں۔بل کے کہا۔
تم صحیح کہہ رہے ہو۔ بل نے کہا۔میری بیٹی اپنے خاوندکے ساتھ ہونی چاہیئے ۔ یہ درست ہےاور میرے پاس میرے نابالغ بچوں کے علاوہاور کوئی نہیں۔
تو جہاں تک خاندان کا تعلق ہے جس میں سے کسی نے چنے جانا ہے تو وہ تم ہو۔سمرز نے وضاحت کرتے ہوئےکہا لیکن جہاں تکتمہارے خاندان میں سے کون ہوگا۔ اس میں بھی تم ہی ہو گے۔ کیا یہ سچ ہے؟
ہاں۔بل نے کہا۔
تمہارے گھر میں کتنے بچے ہیں۔رسمی طور پر سمرز نے پوچھا۔
تین۔ بل جونیئر، نینسی اور کمسن بچہ ڈیوی۔ بل نے جواب دیا۔
جہاں تک خاندان کا تعلق ہے تو تم ہی سربراہ ہو سکتے ہووہ تینوں تو کم سن ہیں۔دوسروں کی طرح یہ بات تم بھی جانتےہو۔
کیا ایسانہیں بل۔۔۔؟
بالکل سچ۔ بل نے جواب دیا۔
ہیری کیا تم نے ان دونوں کی ٹکٹیں ( پرچیاں) واپس لے لی ہیں؟
ہیری گریووز نے سر ہلایا۔
ان کو دوبارہ سیاہ باکس میں ڈال دو۔
میرا خیال ہے کہ اب لاٹری کے رکے ہوئے عمل کو پھر سے شروع کرنا پڑے گا۔ سمرز بولا۔
ٹیسی نےمسٹر سمرز سے مخاطب ہوئی۔۔۔ میں ایک بار پھر کہہ رہی ہوں کہ اس کے ساتھ صحیح نہیں ہوا۔تم نے اس کو مناسب وقتنہیں دیا۔ تمام لوگوں نے دیکھا کہ وہ تسلی سے پرچی نہیں نکال سکا۔
گریووز نے پانچوں پرچیاں سیاہ باکس میں ڈال دیں۔ باقی سب بستی کی زمین پر گرا دیں۔ ہوا کا جھونکا آیا اور انہیں اڑا لے گیا۔
بل ۔۔۔ کیا اب تم تیار ہو ؟ سمرز نے دریافت کیا۔
بل نے اپنی بیوی اور کمسن بچوں کی طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا۔
یاد رکھو! ہر ایک صرف ایک پرچی نکالے گااور اس وقت تک بند رکھے گا جب تک تمام افراد پرچیاں نہ نکال لیں۔
ہیری گریووز تم ڈیوی کی مدد کرو گے۔
گریوز نے چھ سالہ معصوم بچے کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ وہ انجام سے بے نیاز خوشی خوشی اس کے ساتھ ہو لیا۔باکس کے پاس پہنچ کر قہقہہلگایا اور ایک پرچی باہر نکال لی۔وہ اس نے اپنی مٹھی میں سختی سے بند کی ہوئی تھی۔ گریووز نے مٹھی کھول کر وہ پرچی پکڑ لی تاکہ وہکہیں گرا نہ دے۔ ڈیوی حیران ہو کر اس کے پاس ہی کھڑا ہو گیا۔
اب نینسی کی بار ی ہے۔ سمرز نے کہا۔
بارہ سالہ نینسی جب باکس کی طرف بڑھ رہی تھی تو الجھن میں مبتلا تھی۔ اپنی سکرٹ کو نوچ رہی تھی ۔ اس کی سہیلیا ں اور کلاس فیلوز اس کے لئے دعائیں مانگنے لگیں۔وہ پرچی نکال کر اپنی جگہ کھڑی ہو گئی۔
ٹیسی!
ٹیسی لمحہ بھر گھبرائی۔ پس وپیش کیا۔ منحرف ہو نے کے انداز میں ادھر ادھر دیکھا ۔ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور بادل نخواستہباکس کی طرف چلی گئی۔ایک پرچی نکالی اور اپنے پیچھے چھپا لی۔
بل!
بل نے باکس میں ہاتھ ڈال کر پرچی تلاش کی۔پرچی آخری تھی۔ اسے نکالا اور اپنی مٹھی میں دبا لی۔
تمام مجمع دم بخود تمام کاروائی دیکھ رہا تھا۔ سب پر مرگ کی کیفیت طاری تھی۔
ایک بچی نے سرگوشی کی کہ اسے امیدہے کہ وہ نینسی نہیں ہو گی۔
یہ سن کر بزرگ وارنر بولا کہ لاٹری کی پوری تاریخ میں اس طرح کے جملے اس نے کبھی نہیں سنے۔لوگ ایسے نہیں ہوتے تھے جیسےکہ یہ آج ہیں۔
پرچیاں کھول دو۔ سمرز نے اعلان کیا۔ہیری ! ڈیوی کی پرچی کھولو۔
ہیری نے پرچی کھولی۔ اس نے وہ پرچی سب کو دکھائی۔ہجوم نے سکون کی ایک لمبی سانس لی۔
نینسی اور بل جونیئر نے بھی اپنی پرچیاں دکھائیں۔ انہیں دیکھ کر سب کے چہرے کھل اٹھے۔
ٹیسی! سمرز نے کہا۔
ایک لمحے کے لئے سکوت رہا ۔ ٹیسی کچھ نہ بولی۔ سمرز نے پل کی پرچی دیکھی اور اعلان کیا کہ ٹیسی کی لاٹری نکل آئی ہے۔
بل اپنی بیوی کے پاس آیا اور اسے کہا کہ اپنی پرچی دکھائے۔اس نے لیت ولعل کی تو ا س نے زبردستی اس کی مٹھی کھول دی۔ اس پرگہرے سیاہ رنگ کا موٹا سا دھبہ تھا۔ یہ وہ نشان تھا جو سمرز نےپچھلی رات ایک پرچی پر لگایا تھا۔
۔۔۔بل ڈبڈبائی آنکھوں سے لاٹری کا انجام دیکھتا رہا۔
ٹیسی سٹ پٹائی۔ اس نے کہا کہ میں اس رسم کو نہیں مانتی۔ یہ ظلم ہے، نا انصافی ہے۔۔۔لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔
ٹھیک ہے دو ستو! مسٹر سمرز نے کہا۔ اب اس رسم کا جلدی سے اختتام کریں۔ ٹیسی کو چوک کے درمیان صاف جگہ پر کھڑا کر دیا گیا۔
مکینوں کو اور باتیں یاد تھیں یا نہیں لیکن یہ ضرور یاد تھا کہ انجام کیسے کرنا ہے۔سب کے ہاتھ پتھروں کی ڈھیری پر پڑے۔
مسزڈلیا کروئیکس نے سب سے بھاری پتھر بڑی مشکل سے اٹھایا اور ٹیسی پر دے مارا۔ مسز ڈنابر کے دونوں ہاتھوں میں پتھر تھے لیکن وہچھوٹے تھے۔ اس کی سانسں پھولی ہوئی تھیص۔ وہ دور سے اس کو پتھر نہیں مار سکتی تھی۔ کسی نے اسے مشورہ دیا کہ آگے اس کےپاس جا کر مارے۔ جتنے زیادہ پتھر مار و گی اتنا ہی تمہارا فرض پورا ہوگا اور اتنی زیادہ خوشحالی لائے گی۔
ایک پتھر زور سے اس کے سر پرلگا۔ تمام مجمع پتھر کے ڈھیروں پر حملہ آور ہوا ۔وارنر اس وقت یہ کہہ رہا تھا ۔ آؤ، سب آگے آؤ، جلدی کرو۔سٹیو ایڈمز اس بھیڑمیں سب سے آگے تھا۔ اس کے ایک طرف مسز گریوز تھی۔ باقی مجمع بھی اس پر چڑھ دوڑا۔۔۔ اور ٹیسی اپنے بچاؤ کے لئے اپنے بازوؤں سے سر اور چہرے سے ڈھانپ کر یہ نا انصافی ہے،،، یہ ظلم ہے، سفاکیت ہے کہتی رہی اور۔۔۔
بل اور اس کے بچے ٹیسی کی چیخیں سنتے رہے اور کچھ نہ کر سکے۔
اس سال کی لاٹری بھی کامیابی سے نکلی ہے۔ اگلے سال پیداوار اچھی رہے گی۔ دشمنوں پر فتح حاصل ہوگی۔
کسی کی قسمت کا فیصلہ کر دیا تھا۔ایک بار پھر ایک خاندان برباد کردیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Shirley Hardie Jackson ( USA)
1919-1965
حالات زندگی
شرلی ہارڈی جیکسن میں سان فرانسسکو (امریکہ)میں پیدا ہوئی۔اس کے والد کا نام لیس لی جیکسن تھا۔اس کی والدہ جرالڈین انگریز تھی جس کا شجرہ نسب انقلاب امریکہ کے ہیرو جنرل نیتھییل گرین ( 1742-1786) جس نےبرطانیہ کے لارڈ کارنوالس کو1781 میں شکست دی تھی اورجان سٹیفنسن جو امریکی عدالت عالیہ کا جج تھا سےملتا تھا۔ اس نے برلنکیم کیلیفورنیا میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ جب وہ چودہ سال کی تھی تو اس کا خاندان روچسٹر میں نیویارک منتقل ہو گیاسائراکیوس یونیورسٹی سے اس نے1940 میں انگریزی ادب میں ڈگری حاصل کی۔اس نے سکول کے زمانے سے ہیزمانے سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا۔
اس کی والدہ کا اس سے سلوک ہمیشہ ہی ناروا رہا۔ وہ اس کو گالیاں دیتی رہتی، مار پیٹ کرتی اور ذہنی اذیتیں دیتی تھی۔اسے نیچ سمجھتی اور کیڑے نکالتی رہتی تھی۔ جس کی بدولت اس کی توقیر ذات نچلی سطح پر رہی۔و ہ احساس کمتری اور اپنی ذات پر عدم اعتماد کاشکار رہی۔ اسے اپنی ذات پر بالکل بھروسہ نہ تھا۔
شرلی جیکسن کی وجہ شہرت ڈرائونی ادب ہے۔اس کے ادب میں سب سے مشہور اور متنازعہ افسانہ ُ لاٹری ُہے۔اس کہانی کو لکھتے وقتاس نے کہا کہ ہر انسان میں ایک تاریک پہلو ہوتا ہے۔اس کہانی میں اس نے اس میں اسے اجاگر کیا ہے۔ اس نے اس کہانی لکھنے کےبارے میں بتایا کہ اس نے اپنی بیٹی کو پنگھوڑے میں ڈالا، گراسری فریج میں رکھی اورکہانی لکھنا شروع کی۔ خیالات آتے گئے، راستےکھلتے گئے اور کہانی ختم کرنے کے بعد ہی دم لیا۔ اس کہانی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور اس کی سرزنش کی گئی اور اس کی موت سے پہلے قارئین نے اس انسانیت سوز کہانی لکھنے پر اس سے حساب مانگا اور اس کی لعن طعن کی۔
اس کی ادبی زندگی جو بیس سالوں پر محیط ہے ، میں اس نے چھ ناول ، دو یاد داشتیں اور دوسو سے زیادہ افسانے لکھے۔ اس کی کہانیوں پرکئی فلمیں بن چکی ہیں۔ ا س کو بہت سے اعزازات سے نوازا گیا جن میں پی ۔ای۔این۔او، ہنری ایوارڈ اور ایڈگر ایوارڈ فار بیسٹشارٹ سٹوری اہم ہیں۔
وہ 1965میں دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوئی اور برلنکیم ورمائونٹ میں دفن ہے۔
اس کی اہم تصانیف درج ہیں۔
Novels
The Road Through The Wall (1948 );
Hangsaman(1951)
The Bird’s Nest (1954);
The Sundial(1958)
The Haunting of Hill (1959)
We Have Always Lived in the Castle (1962)
Short Fiction
The Lottery& Other Fiction The Magic of Shirley Jackson
Come Along with Me Just An Ordinary Day
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاٹری تنقیدی جائزہ
The Lottery
Shirley Jackson
1919- 1965 (USA)
خلاصہ و تجزیہ: غلام محی الدین
موسم گرما کی چھٹیاں شروع ہو چکی ہیں۔ہر طرف ہریالی اور پھول کھلے۔ آسمان صاف شفاف ہے۔سورج اپنی تابانی دکھا رہا ہے لیکن حدت نہیں بلکہ تھوڑی بہت خنکی کا احساس پایا جاتا ہے۔ تاریخ 27جون ہے اور وقت لگ بھگ دسبجے کا ہے۔ یہ مہینہ اور تاریخ اس بستی کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ اس دن کسی مکین کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہوتاہے۔یہ ایسا دن ہوتاہے جس میں پرکھوں سے جڑی ایک روائت کو سر انجام دیا جانا ہو تا ہے۔اس کو کئی قبیلوں ترک کردیا ہے اور شمالی علاقےکے باسی انہیں ختم کرنے پر زور دے رہے ہوتے ہیں لیکن اس بستی نے اسے برقرار رکھا ہوتاہے۔ ان میں بحث مباحثہ چلتا رہتا ہے کہ آیااسے برقرار رکھا جائے یا چھوڑ دیا جائے۔ بحث و مباحثہ چلتا رہتا ہے لیکنکوئی فیصلہ نہیں ہو پایا۔
یہ ریت، رسم اور روائت ہر سال 27 جون کی لاٹری ہے جو اس وقت شروع ہوئی جب صدیوں پہلے اس بستی کی بنیادرکھی گئی۔اس میں تمام بستی شامل ہوتی ہے۔ اس میں ہر بالغ حصہ لے سکتا ہے۔ رضامندی اسشامل ہوتا ہے لیکن شمولیت کرلے تو اس فیصلے کو قبول کرنا پڑتا ہے۔وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری لاٹری کیوں نکلی یا کیوں نہیں نکلی۔ یہبستی کے بنک اور پوسٹ آفس کے بڑے چوک پر نکالی جاتی تھی۔ سٹول پر ایک سیاہ
رنگ کا باکس رکھ دیا جاتا تھا جسمیں تمام شراکت داروں کے نام لکھے جاتے تھے جو ایک ایک کرکے پرچی نکالتا تھا اور آخر میں نتیجے کا اعلان کیا جاتاتھا۔یہ اہم ذمہ داری تھی۔ اس کے انعقاد کے لئے ایسے شخص کی ضرورت تھی جو ایماندار ،غیر جانبدار اورلوگوں کا اس پر بھر پور اعتماد ہو۔
جو۔ سمرز اس مقصد کے لئے چن لیا گیا تھا۔وہ ایک متمول تاجر تھا۔ بستی کی تمام تقریبات کی سرپرستی کرتا تھا۔کرسمس، ایسٹر، ہیلوئین، نوجوانوں کے کھیل، ان کے کلب اور ڈانس وغیرہ کی تقریبات کے انتظامات کرتا تھا اس لئے بستی نے اسے لاٹری کا منتظم بنا دیا تھا۔اس کی شخصیت کرشماتی تھی۔گول گول چہرہ تھا اور خوشلباس تھا۔ تمام ترخواص کے باوجود لوگ اس پر ترس کھاتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو وہ بے اولاد تھااور دوسرا یہ کہ اس کی بیوی ترش رو تھی۔ تیز مرچی تھی۔
لاٹری کا انتظام معمولی بات نہیں تھی۔ یہ اتنی اہم تھی کہ اس میں نہ صرف لاٹری جیتنے والے بلکہ اس کے خاندان پربھی اس کے اثرات مرتب ہو تے تھے۔ اس لئے اسے پرچی نکالنے سے پہلے اس کی تیاری میں بہت سے مراحل طےکرنے پڑتے تھے۔ سربراہ خاندان، وہ اشخاص جو گھریو اخراجات میں پچاس فیصد سے زائد خرچ کرتے تھے، کیفہرست اور خاندان کے تمام افراد کی فہرستیں بنا کر اتنی پرچیا ں تہہ کرکے باکس
میں ڈال دی جاتی تھیں۔
لاٹری کے آغاز میں جو سیاہ باکس بنایا گیا وہ ٹوٹ چکا تھا اس کی جگہ موجودہ باکس بنایا گیاتھا لیکن اسکی کیاہم اشیا ابھی بھی اس میں جڑی تھیں۔ پہلے بکس میں حقیقی اشیا رکھی جاتی تھیں لیکن آبادی چند نفوس سے تین سو سے بھی زیادہ ہوگئی تھی اسلئے کاغذ کی پرچیاں قرعہ اندازی میں استعمال کی جاتی تھیں۔
آج 27جون ہے۔ دس بجے کا وقت ہے۔ چمکدار دھوپ نکلی ہوئی ہے۔ پوسٹ افس اور بنک کے چوک میں یہ رسم منعقد ہوتیہے۔منتظمین کی خواہش ہے کہ اسے رات کے کھانے سےپہلے مکمل کر دیا جائے۔بچے اس مقام پر سب سے پہلے آئے اور
پتھروں سے اپنی جیبیں بھر لیں۔ اس کے بعد پتھروں کے ڈھیر بنا لئے اور ان کی حفاظت کرنے لگے۔ ایسا محسوس ہو رہاتھا کہ وہکوئی دلچسپ کھیل کھیلنے والے ہیں۔ بچیاں جمگھٹ میں گپیں ہانکتے آئیں۔ ہر خاندان اپنے اپنے سربراہ کے ساتھ ایک جگہ کھڑے ہوگیا۔
مسٹر سمرز سیاہ بکس کے ساتھ پہنچتا ہے۔ اس کے پیچھے پوسٹ ماسٹر بھی ہوتا ہے جس نے سٹول اٹھائے ہوتا ہے۔وہ اسے مین چوکمیں رکھ دیتا ہے اور اس کے اوپرسیاہ باکس رکھ دیتا ہے۔اس وقت مسٹر سمرز حاضرین میں سے دو رضاکاروں کو بلاتا ہے تاکہ باکس کو ہلاتے وقت وہ اسے اچھی طرح پکڑکر رکھی تھیں مسٹر سمرز نےصاف ستھرا لباس زیب تن کیا ہوا ہے اور مسٹر گریووز سے اہم گفتگو کر رہا ہوتا ہے۔ جوں ہی مسٹر سمرز لاٹری کا آغاز کرتا ہے تو اس وقت بستی کی حسمزاح رکھنے والی ایک مقبول خاتون ُ مسز ٹیسی ہچنسن ُ لاٹری کی تقریب میں شرکت کے لئے پہنچتی ہے۔ اس نے دیر سے آنے کی معذرت کی اوراپنے خاوندکے ساتھ سب سے اگلی قطار میں کھڑی ہوگئی۔
مسٹر سمرز نے سنجیدگی سے لاٹری کی باقاعدہ کاروائی شروع ہوتی ہے۔ حاضری لگاتا ہے تو ۔۔۔ُ مسٹر کلائیڈ ڈنابر ُ اورمسٹر وارنر غیر حاضر تھے۔ پتہ چلا کہ اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور گھر پر تھا۔ اس لئے اس کی بیوی کو خصوصی اجازت دی گئی کہ وہاپنے خاندان کے سربراہ کے نام کی بھی پر چی نکالے گی۔ اس وقت اس بستی کا معمر ترین شخص مسٹر وارنر بھی پہنچ جاتا ہے۔اسکی عمرستتربرس ہوتی ہے۔ اس کے بعد مسٹر سمرز اعلان کرتا ہے کہ سب سے پہلے ہرخاندان کا سربراہ اور پھر دیگر افراد ایک ایککرکے اپنی پرچی نکالیں گے اور پرچی کواس وقت تک نہیں کھولیں گے جب تک تمام لوگ اپنی اپنی پرچی نکال نہ لیں۔
وہ مسٹر آڈمز کو سب سے پہلے بلاتا ہے۔۔۔اور باری باری سب اپنی اپنی پرچیاں نکال لیتے ہیں۔ مجمع میں زیادہ لوگوں نے پرچیاںنکال لی ہیں اور مضطرب دکھائی دیتے ہیں۔مسز ٹیسی ہچنسن اپنے میاں مسٹر بل ہچنسن کو کہتی ہے کہ جاکر باکس میں سے پرچیکالے ۔ وہ بےدلی سے کچھوے کی چال چل کر جاتا ہے۔ اس پر تمام لوگ قہقہہ لگاتے ہیں۔معمر شخص کہتا ہے کہ جون آگیا ہے،لاٹری نکل آئے گی توفصلیں اچھی ہو جائیں گی ۔ خوشحالی آ جائے گی۔ یہ عمدہ رسم ہے ۔ اسے برقرار ہنا چاہئیے۔ اسے مسٹر سمرز سےشکائت ہے کہ وہ اس رسم کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا اور درمیان میں مذاق کرتاہے جو اس رسم کا تقدس کھو دیتی ہے۔ ایسا نہ ہوکہ برکت کی بجائے برائی جنم لے۔
جب آخری آدمی اپنی پرچی نکال لیتا ہے تو مسٹر سمز کہتا ہے ۔۔۔ُ آل رائٹ دوستو ! ُ ۔۔۔ایک وقفے کے بعد کہتا ہے، سبلوگ اپنی پرچیوں کی تہیں کھول دیں۔ُ
۔۔ اس بار پرچی ۔۔۔ُ مسٹر بل ہچنسن ُکے نام نکلی ہے۔
بل ہچنسن کی بیوی ٹیسی چلا اٹھتی ہے کہ اس کےمیاں کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے کیونکہ اسے مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ وہرینگتے قدموں کے ساتھ گیا تھا اور پرچی نکالنے کے لئے اور اس سے امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔
اس وقت ڈیلا کہتی ہے کہ اسے سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرنا چاہئیے۔لاٹری کسی کے نام کی بھی نکل سکتی تھی۔ یہ قرعہ اببل کا نام نکلا ہے تو اسے نبھانا چاہئیے۔اس کی ہاں میں ہاں دیگر لوگ بھی ملاتے ہیں۔ مسز گریووز کہتی کہ یہ کسی کے نام بھی نکل سکتی تھی ۔ اس کا خاوند بل ہلچنسن اس وقت مداخلت کرتا ہے اوراپنی بیوی کو چپ رہنے کابولتا ہے۔ اس وقت مسٹر سمرزکہتا ہے کہ ابتمام رسمی کاروائیاں مکمل ہو گئی ہیں اس لئے اس پر اب عملدرآمد ہو نا چاہئیے۔ لیکن ٹیسی احتجاج کر تی ہے۔ُ وہ کہتی ہے کہ اس کی شادی شدہ بیٹی ایوا اور اسکے خاوند کو بھی ہمارے خاندان میں شامل کیا جائےسمرزکہتاہے کہ وہ بل کے خاندان میں شامل نہیں ہوسکتے کیونکہ شادی کے بعد اس کا خاندان اسکے میاں کے ساتھ ہے۔
بل! تمہارے گھر اور کتنے لوگ ہیں۔سمرز پوچھتا ہے
تین۔وہ تینوں ابھی بچے ہیں۔ بل نے کہا۔
سمرز نے گریووز ر سے کہا کی بل اور ٹیسی کی پرچیاں ان سے لے کر باکس میں ڈال دے اور تین بچوں کی پرچیاںبنائے۔ انہیں اچھیطرح تہہ کرکے سیاہ بکس میں ڈال دیا۔باقی تمام شرکا کی پرچیاں زمین پر پھینک دی جاتی ہیں جنہیں ہوا ڑا لے جاتی ہے۔
سیاہ باکس سے پرچی نکالنے کی رسم دوبارہ سے شروع کردی جاتی ہے ۔ اس سے ان پانچوں نے ایک ایک کر کے باری باری پرچیاںنکالنی ہوتی ہیں۔
مسٹر سمرز انہیں پھر یاد دلاتا ہے کہ پرچی نکالنے کے بعد اسے کھولنا نہیں۔
وہ مسٹر گریووز کو کہتا ہے کہ ڈیوی کا ہاتھ پکڑ کر لائے تاکہ وہ باکس میں سے پرچی نکال سکے۔ وہ صرف ایک ہی پرچی نکالے اور جب وہ نکال لے تو اسے اپنے پاس رکھ لے۔ چھ سالہ ڈیوی ایک معصوم بچہ ہے اسے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ ہنستا کھیلتاجاتا ہےاور باکس کے پاس جا کر قہقہہ لگاتا ہے اور اٹھکیلیاں کرتے ہوئے پرچی نکال لیتا ہے۔ڈیوی کے بعدبارہ سالہ نینسی کو بلایاجاتا ہے۔ جب وہ باکس کے پاس جانے لگتی ہے تو اس کی سہیلیاں دعا مانگتی ہیں کہ اس کے نام کی پرچی نہ نکلے۔
اس کے بعد تیرہ سالہ بل جونئیر جو کہ بڑا بیٹا ہوتا ہے، کی باری ہوتی ہے اور وہ پرچی نکال لیتاہےاس کے بعد ٹیسی جاتی ہے اور سب سے آخر میں اس کا میاں بل پرچی نکالتا ہے ۔
جب پانچوں پرچیاں نکل آتی ہیں تو مسٹر سمرز کہتا ہےکہ پرچیاں کھول دی جائیں۔اس دفعہ قرعہ ٹیسی کے نام نکلتا ہے۔ اس پر ٹیسیچیخ اٹھتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔ وہ اس رسم کو نہیں مانتی۔لیکن اب دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
اس کی یہ بات سن کر سب سے پہلے مسز ڈنابر اتنا پڑا پتھر اٹھاتی ہے جو اس سے بڑی مشکل سے اٹھایا جاتا ہے اور غصے سے اس کو مارتی ہے۔ وہ اپنے بچائو کے لئے اپنے ہاتھ سر اور گالوں پر رکھتی ہے۔اس کے بعد اس پر پتھروں کی برسات ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہپتھروں کاڈھیرختم ہو جاتا ہے۔ ۔۔اس طرحلاٹری کی رسم اختتام پذیر ہوتی ہے۔
شرلی جیکسن کی کہانی لاٹری کا عنوان بظاہر ایک ایسا موضوع ہے جس میں کسی شخص کی نجی خواہشات اور ضرورریات کیتسکین کےلئےقرعہ اندازی کے ذریعے کوئی رقم نکلتی ہے ۔ عام لو گوں میں یہ تصور عام ہے۔ یہ کہانی دلچسپ اور جاسوسی ناولوںکے انداز میں بیان کی گئی ہے جس میں تجسس آخری فقرے تک برقرار رہتا ہے۔ کہانی جوں جوں آگے بڑھتی ہے ، رازوں کےپرت کھلتے جاتے ہیں اور انجام آخر میں آشکار ہوتا ہے۔
اس افسانے کو اگر نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ شرلی جیکسن نے اپنے والدین سے اس کے ساتھ کی گئی بدسلوکی کا بدلہ لیاہے۔ ۔ اگر والدین چاہتے تو چھ سالہ معصوم ڈیوی، بارہ سالہ نینسی اور تیرہ سالہ بل جونیئر کو لاٹری کی رسم سےنکال سکتے تھے لیکن اپنے والدین کیخودغرضی اور ظلم ظاہر کرنے کے لئے اس نے پہلے تو ان کم سن بچوں کا نام لاٹری میں ڈلوایا جس کے تحت وہ بھی سزا پا سکتے تھے۔ اس سے بستی والوں کی نظروں سے والدین ظالم شمار کئے گئے ۔ اس کے بعد شرلی نے اپنی ماں کو سزا دلوانے کی ٹھانی۔چونکہ اس کے نزدیک اس کی ماں لاشعوری طور پر زیادہ ظالم تھی اس لئے اس نے ماں کونشان عبرت بنادیا۔اور اپنی طرف سے سے اس سے انتقام لے لیا ۔ وہ لاشعوری طور پر اپنے انہیں اذیتناک موت دینا چاہتی تھی۔
یعنی سوچی سمجھی سازش سے اس نے پہلے لاٹری سربراہ خانہ کے نام نکالی اور اس کو سنگ سار کرواناچاہا اور پھر کہانی کا رخ بیوی ( یعنی علامتی طور پر اپنی ماں ) کی طرف موڑ دیا۔ اور اسے ایسی موت دی جو اہل بستی کی بھلائی کا ضامنہو اور وہ سب یہ سمجھیں کہ اس کے مرنے کے بعد بستی میں سارا سال بستی ہر قسم کی برائیوں سے بچ جائے گی۔ راوی چین ہی چین لکھے گا۔ وہ اپنی عملی زندگی میں حقیقی طور پر تو اسے نقصاننہیں پہنچا سکتی تھی اس لئے اس نے اس کہانی کے ذریعے تسکین حاصل کی۔ اس نے ہیروئن ٹیسی (جو اس کی والدہ کے مفہوم میںاستعمال ہو رہی تھی) کو زمانے بھر کے پتھروں سے ایسے قتل کروایا کہ لوگ اس کے مرنے پر خوش تھے۔
لاٹری بنیادی طور پر بل ( لاشعوری طور پر اپنے والد)کے نام نکلی تھی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ٹیسی یہ چاہتی تھی کہ لاٹری کا عمل پھر سے شروع ہو اور اس کے خاندان کا نام آنے کے مواقع کم ہو جائیں اور مصنفہ اگر چاہتی تو اپنی کہانی میں ایسا کر بھی سکتی تھی لیکن چونکہ اس نے لاشعوری طور پر اپنی ماں سے انتقام لینا تھا اس لئے قاری کے جذبات اس کے خلاف بھڑکانےکے لئے ایک تو پورے خاندان کو جن میں تین معصوم بچے بھی تھے ، کا نام شامل کروایا اور اس کے خلاف نفرت کے جذبات ابھارے اور دوسرا اس کے نام کی لاٹری نکلوا کر اپنا انتقام لیا۔
اس کہانی کا دوسرا رخ زمانہ قدیم کے طبو اور طوطم کے نظریات کے اطلاق سے ہے جب غاروں کے دور میں جنگلی لوگ جادو، ٹونےٹوٹکے ، کالا علم وغیر ہ پر یقین رکھتے تھے۔ دشمنوں، آفتوں، بیماریوں اور فصل کی پیداور میں اضافے کے لئے بلی چڑھایا کرتے تھے۔ انسانوں کو کو ڈھول بتاشے بجا کر قتل کرتے اور ان کی کھوپڑیاںاپنی حدود کے چاروں کونوں پر لٹکا دیتے تھے۔پہلے پہلے تو بلیدانانسانی اور نوجوان باکرہ لڑکیوں کی قربانی ہوتا تھا بعد میں جانوروں کی قربانی دی جانے لگی۔اس کہانی میں اس رسم کو ڈرامائی رنگ میںبیان کیا گیا ہے۔
ابتدائی تفصیلات میں روشن سورج، پھول ، بچوں کا معصومانہ انداز میں اپنے کھیل کے لئے یا شوقیہ پتھروں کااپنی جیبوں میںپتھر ڈالنا اور انکے ڈھیر لگانا، حملہ کا لفظ استعمال کرنا ، خواتین کا سہمےانداز میں طنز ومزاح وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔اس وقت غیر موزوں لگتا ہے۔ یہ کیمو فلاج ہے۔ لیکن اسوقت اس کی اصلیت کا اس کا تصورنہیں ہوتا اس لئے اس لفظ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس نے یہ الفاظ اتنی مہارت سے استعمال کئے ہیں کہ قاری کو ان کی اہمیت کیطر ف دھیان بھی نہیں جاتا ۔ یا اگر وہ الفاظ کھٹکتے بھی ہیں ہیں تو ان کا تصور واضح نہیں ہوتا۔جیسے ُ حملہ پتھروں سے جیب بھرناُ ، ُ پتھروں کی ڈھریاں بنانا، ڈرتا، سسوکھے ہونٹوں پر زبان پھیرنا۔ہما ہونا وغیرہ اور کہانی کے آخر میں ان علامات کے ساتھ تعلق واضح ہوتا ہے۔ یہ خوفناکی اور قتل کیعلامات ہیں۔
اس میں ایک اور اہم نکتہ جدید اور قدیم تصورات میں ٹکراؤکا بھی ہے۔معمر لوگ لکیر کے فقیر ہیں ۔ وہ روایات سے جڑے رہناچاہتے ہیں ۔ تبدیلی نہیں چاہتے جبکہ زمانے کی ترقی کے ساتھ لوگوں کی سوچ کا رخ بھی تبدیل ہو رہا ہے ۔ وہ ان بہیمانہ رسوم کو پسند نہیں کرتے ۔ انہیں بدلنا چاہتے ہیں لیکن غیر یقینی صورت حال اور سماجی دبائو کی وجہ سے ان رسموں کو توڑنا نہیں چاہتے۔
اس کے منفی اور انسانیت سوز عمل کو جدید معاشرہ نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان جذبات کا برملا اظہار کرتا ہے۔ اور اس سےظالمانہ اورقاتلانہ رسم کی حمائت پر اس سے جواب طلب کرتا ہے۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2992166911013822

جواب چھوڑیں