سوفی کی دنیا از جوسٹین گارڈر ایک اور فلسفی تھا …

سوفی کی دنیا
از
جوسٹین گارڈر
ایک اور فلسفی تھا انیکساغورس۔ اس کا ماننا یہ تھا کہ کوئی بھی خاص بنیادی مادا یا بیسک سبسٹانس جیسے مثال کے طور پر پانی ہے، وہ قابل تبدیلی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ فطرت میں جوبھی عناصر ہیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ تبدیل ہوسکتے ہیں۔ مگر یہ تبدیلی بہت ہی باریک سطح پر ہوتی ہے۔ انیکساغورس کا خیال تھا کہ فطرت کی تشکیل غیر محدود انتہائی باریک ذرات سے ہوئی ہے جو ننگی آنکھ سے نہیں دیکھے جاسکتے۔ اور یہ کہ اس کائنات کی جتنی بھی چیزیں ہیں وہ بہت ہی چھوٹے حصوں میں تقسیم ہوسکتی ہیں مگر ان چھوٹے سے چھوٹے ذروں میں تمام اشیا کے حصے شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس نے کہا کہ اگر جلد اور ہڈی کسی دوسری چیز کی تبدیل شدہ شکل نہیں ہیں، پھر جو دودھ ہم پیتے ہیں اور جو غذا ہم کھاتے ہین، ان میں بھی جلد اور ہڈی ہونی چاہیے۔ موجودہ دور کی دومثالیں انیکساغورس کے انداز فکرکو بخوبی سمجھا سکتی ہیںَ اور وہ دو مثالیں ہیں جدید لیزر ٹیکنالوجی اور ان سے ہولوگرام کا بننا۔ یاد رہے کہ ہولو گرام ایسی تین سمتی تصویر یا شبیہ ہوتی ہے جسے لیزر شعاعوں کی مدد سے تخلیق کیاجاتا ہے۔ مثلا اگر کوئی ہولوگرام کسی کارکی شکل بناتا ہے اور اس کا ہولوگرام مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا جائے، بے شک ہمارے سامنے کار کا صرف وہی حصہ ہو جس میں محض بمپردکھایا گیا ہو، ہمیں پھر بھی پوری کار نظر آسکے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے جزو میں پوری چیز موجود ہوتی ہے۔ ایک لحاظ سے ہمارے اجسام کی بناوٹ بھی اسی انداز سے ہوئی ہوتی ہے۔ اگر میں اپنی انگلی کا کوئی خلیہ ڈھیلا کرلوں، اس کے مرکزے میں نہ صرف میری جلد کی تمام خصوصیات موجود ہوں گی بلکہ اس سے بھی یہ منکشف ہوجائے گا کہ میری آنکھیں کسی قسم کی ہیں، میرے بالوں کا رنگ کیا ہے، میری انگلیوں کی تعداد کتنی ہے اور وہ کس نوعیت کی ہیں، علی ہذالقیاس۔ انسانی جسم کے ہرخلیے میں وہ بنیادی خاکہ موجود ہوتا ہے جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ باقی خلیوں کی ساخت کیسے ہے۔ چناچہ ہر واحد خلیے میں ’’ہر چیز کا کچھ نہ کچھ ‘‘ ہوتا ہے۔ یعنی ہر چھوٹے سے چھوٹے جزو میں کل موجود ہوتا ہے۔انیکساغورس ان مہین ذرات کو، جن میں ہر چیز کا کچھ نہ کچھ موجود ہوتا ہے،’’بیج‘‘seeds کہتا تھا۔ تمہیں یاد ہوگا کہ یاد کرو کہ ایمپے ڈوکلیس نے خیال ظاہر کیا تھا کہ یہ ’’محبت ‘‘ ہے جو مختلف عناصر کو جوڑ کر مکمل اجسام بناتی ہے۔ انیکساغورس بھی’’ترتیب‘‘ یا ’’نظم‘‘ کو ایک قسم کی قوت تصور کرتا تھا جو جانوروں اور انسانوں، پھولوں اور درختوں کو تخلیق کرتی رہتی ہے۔ وہ اس قوت کو ذہین یا ذہانت nous کہتا تھا۔انیکساغورس اس لیے بھی ہمارے لیے دلچسپی کا باعث ہے کیونکہ وہ پہلا فلسفی ہے جس کا اہم ایتھنز میں ذکر سنتے ہیں۔ اس کا تعلق ایشیائے کوچک سے تھا لیکن وہ چالیس سال کی عمر میں ایتھنز آگیا۔ اس پر بعد ازاں دہریت کا الزام لگایا گیا اور آخر کار اسے شہر سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ دوسری باتوں کے علاوہ وہ یہ بھی کہتا تھا کہ سورج کوئی دیوتا نہیں ہے بلکہ دہکتا ہوا سرخ پتھر ہے جو پورے پیلیپونیسpeloponnese جزیرہ نما (یعنی جنوبی یونان) سے بڑا ہے۔ انیکساغورس کو زیادہ تر فلکیات سے دلچسپی تھی۔ اسے یقین تھا کہ تمام اجرام فلکی اسی مادے substance سے بنے ہیں جس سے زمین کی تشکیل ہوئی ہے۔ وہ اس نتیجے پر ایک شہاب ثاقب کا مطالعہ کرنے کے بعد پہنچا۔ اس سے اس کے ذہن میں خیال پیدا ہوا کہ دوسرے سیاروں پر بھی زندگی موجود ہوسکتی ہے۔ اس نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہوتی۔۔۔۔ وہ کہتا تھا کہ چانداپنی روشنی زمین سے حاصل کرتا ہے۔ سورج گرہن کیوں ہوتے ہی، اس نے اس کی بھی وضاحت کی تھی۔
مکمل تٖصیل اس لنک میں


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2997982703765576

جواب چھوڑیں