~ اولاد ~ یہ جو تمھاری اولاد ہے یہ تمھارے بچے ن…

~ اولاد ~

یہ جو تمھاری اولاد ہے
یہ تمھارے بچے نہیں ہیں۔
یہ زندگی کی آرزوِحیات سے جنے
خود زندگی کی بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔
یہ یہاں آتے تمُھارے ذریعے ہیں
لیکن یہ تم میں سے نہیں،
یہ تمھارے ساتھ تو ہیں مگر
ان کا تم سے کوئی واسطہ نہیں۔
تم انہیں اپنی مُحبت دے سکتے ہو
مگر اپنی سوچ نہیں دے سکتے
تم لاکھ جتن کرلو لیکن جان لو
کہ ان کی سوچ اپنی ہی ہوگی۔

تم ان کے جسموں کو
دیوار و چھت تو دے سکتے ہو
لیکن ان کی آزاد روحوں کو
کبھی قید نہیں کرسکتے،
کیونکہ ان کی روحوں کا
کل کے گھر میں بسیرا ہے
جہاں تم نہیں جاسکتے،
اپنے خوابوں میں بھی نہیں۔

ہاں ، تم جو چاہو تو
ان کے جیسے بن سکتے ہو،
لیکن لاکھ کوشش کرو تو
ان کو اپنے جیسا نہیں بنا سکتے
کیونکہ زندگی نے کبھی
پیچھے کی طرف سفر نہیں کیا
اور نہ ہی گُزرے کل میں
ٹھری ہے کبھی۔

کہ تم ہی تو وہ کمان ہو
تمھارے بچے جس سے
زندہ تیروں کی مانند
آگے کی طرف سفر کرنے کو
بھیجے جاتے ہیں۔
لامکاں کے رستے پہ تیرانداز
اپنی پسند کے نشاں دیکھ کر،
تمھاری ذات کو اپنی مرضی سے
پھر کُچھ ایسے جُھکائے جاتا ہے
کہ تُجھ کمان سے نکلا ہوا تیر جائے
بُہت تُندی سے ، بُہت دور تلک !

تمھاری یہ کوشش رہے
کہ تیر انداز کے ہاتھ سے
خود کے جھکاو کو ہمیشہ
خوشیوں کی جانب رکھنا؛

یاد رکھنا یہ ! اُسے وہی تیر پسند ہے
جو بڑی شان سے ہوا میں اڑتا رہے،
ویسے ہی اُس ذات یکتا کو عشق ہے
اُس کمان سے جو مضبوطی سے جما رہے۔

شاعر : خلیل جبران
کتاب : النبی (The Prophet)
ترجُمہ : نودخان

~ On Children ~

Your children
are not your children.
They are the sons and daughters
of Life's longing for itself.
They come through you
but not from you,
And though they are with you,
yet they belong not to you.
You may give them your love
but not your thoughts.
For they have their own thoughts.

You may house their bodies
but not their souls,
For their souls dwell
in the house of tomorrow,
which you cannot visit,
not even in your dreams.

You may strive to be like them,
but seek not to make them like you.
For life goes not backward
nor tarries with yesterday.
You are the bows from which
your children as living arrows
are sent forth.

The archer sees the mark
upon the path of the infinite,
and He bends you with His
might that His arrows
may go swift and far.

Let your bending in the
archer's hand be for gladness;

For even as he loves
the arrow that flies,
so He loves also
the bow that is stable.

Poet : Kahlil Gibran
Translation: Nodan Nasir
Photo: Young Kahlil Gibran


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2997098723853974

جواب چھوڑیں