شکیل عادل زادہ یکم فروری 1939ء کو ہندوستان کے شہر …

شکیل عادل زادہ یکم فروری 1939ء کو ہندوستان کے شہر مرادآباد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد صاحب مراد آباد سے ماہنامہ ”مسافر“ شائع کیا کرتے تھے، جس کے مدیر رئیس امروہوی تھے۔ پاکستان ہجرت کے بعد شکیل عادل زادہ رئیس امروہوی اور ان کے بھائی جون ایلیا کے ساتھ ان کے گھر میں رہے۔ کامرس میں گریجویشن کیا۔ اسی گھرانے میں شکیل صاحب کی ادبی تربیت کے بعد ادبی سرگرمیوں کا آغاز ہوا اور وہ رئیس امروہوی کے اخبار ”شیراز“ میں کام کرنے لگے۔ پھر آپ جون ایلیا کے ساتھ ماہنامہ ”انشا“ سے وابستہ ہو گئے۔ جسے انہوں نے بعد میں ”عالمی ڈائجسٹ“ کی شکل دے دی جو بہت جلد ایک بڑی اشاعت کے ساتھ مقبول جریدہ بن گیا۔ جنوری 1970ء میں شکیل عادل زادہ نے سب رنگ ڈائجسٹ کے نام سے اپنا رسالہ جاری کیا۔ ڈائجسٹ کا عام تصور یہ ہے کہ اس میں جاسوسی اور رومانوی کہانیاں ہوتی ہیں۔ لیکن شکیل عادل زادہ نے سب رنگ ڈائجسٹ کو خالص ادبی ڈائجسٹ کے طور پر نکالا جس میں اردو زبان کے قواعد، املا، انشاء اور زبان کی صحت پر بھی خاص توجہ دی جاتی۔ اس ڈائجسٹ نے عام لوگوں کی نہ صرف ادبی تربیت کی بلکہ ادب پڑھنے کا ذوق و شوق پیدا کیا۔ شکیل صاحب نے اس ڈائجسٹ میں اردو کے قدیم و جدید ادیبوں کے ساتھ عالمی ادیبوں کو بھی متعارف کروایا اور اس میں دنیا بھر سے شاہکار تحریروں کا انتخاب شائع کیا۔ سب رنگ میں قواعد، املا اور زبان کے درست استعمال کا پورا خیال رکھا جاتا۔ سب رنگ نے بہت جلد پاکستان اور دنیا بھر میں اردو پڑھنے والوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی اور فروخت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ اردو دنیا کے اس عجوبۂ روزگار جریدے کی ماہانہ اشاعت ایک لاکھ پینسٹھ ہزار تک پہنچ گئی۔ سب رنگ کی سلسلے وار کہانیاں سونا گھاٹ کا پجاری، انکا، اقابلا اور امبربیل بھی قارئین میں بہت مقبول ہوئیں۔ خصوصاً شکیل عادل زادہ کے قلم کا شاہکار ”بازی گر“ آج بھی قارئین کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ سب رنگ کی یہ خوبیاں برقرار رکھنے کے لیے اس کی ہر مہینے آمد ممکن نہ رہی اور اردو کا یہ سب سے کثیرالاشاعت ماہنامہ تین تین چار چار ماہ کے وقفے سے آنے لگا۔ کچھ عرصے بعد یہ وقفہ مزید بڑھ گیا اور سب رنگ دو سال کبھی تین سال بعد شائع ہونے لگا۔ 2005ء میں شکیل صاحب نے اپنے ایک بہت قریبی دوست کے صاحبزادے کے ساتھ مل کر سب رنگ ایک نئے عزم سے باقاعدہ شائع کرنے کی کوشش کی مگر دو برس میں صرف پانچ شمارے ہی نکل پائے۔ جنوری 2007ء میں شکیل عادل زادہ نے سب رنگ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ نئی انتظامیہ نے سب رنگ جاری رکھنے کی پوری کوشش کی مگر سب رنگ تو شکیل عادل زادہ کا نام تھا ان کے بغیر سب رنگ سب رنگ نہ رہ سکا اور اشاعت تیزی سے نیچے آنے لگی۔ ایک لاکھ پینسٹھ ہزار کی تعداد میں شائع ہونے والا سب رنگ محض پانچ ہزار کی تعداد میں چھپنے لگا۔ دسمبر 2010ء میں سب رنگ بند ہو گیا۔ شکیل عادل زادہ ایک لِونگ لیجنڈ ہیں جن کو تمام اردو دنیا میں نہایت عزت و احترام حاصل ہے۔ آپ ان دنوں ”بازی گر“ کی آخری اقساط تحریر کر رہے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان انہیں صدارتی تمغہ برائے حُسنِ کارکردگی عطا کر چکی ہے۔

Shakeel Adil Zada was born on 1939st February 1939 in the city of Muradabad, India. Your father used to publish the monthly ′′ Musafir ′′ from Muradabad, whose manager was Raees Amrohvi. After migration to Pakistan, Shakeel Adil Zada Raees Amrohvi And lived in his house with his brother John Elia. Graduated in commerce. In the same family, after the literary training of Mr Shakeel, literary activities started and he started working in Raees Amrohvi's newspaper ′′ Shiraz Then you John Elia associated with the monthly ′′ Insha which he later shaped the ′′ Global Digest which soon became a popular magazine with a major publication. Shakeel Adilzada sub in January 1970 Released his magazine named Rang Digest. The general concept of Digest is that it contains spying and romantic stories. But Shakeel Adilzada outscrew all Rang Digest as pure literary Digest with Urdu language rules, Amla Special attention is also paid to the health of the tongue and tongue. This digest not only educated the common people, but also created the interest and interest of reading literature. Shakeel Sahib in this digest included international literature along with ancient and modern Urdu literature. Also introduced and published a selection of masterful writings from around the world. All colors take full care of rules, amla and correct use of language. All colors quickly attracted the attention of Urdu readers in Pakistan and around the world. The page has been released and set new sales records. The monthly publication of this strange employment magazine in the Urdu world reached one lakh fifty thousand. The stories of all colors are the priests of Sonaghat, Anka, Iqbal and Amberbel are also among the readers. Became popular. Especially the masterpiece of Shakeel Adilzada's pen, ′′ Bazigar is still the heartbeat of the readers. To maintain these qualities of all colors, it was not possible to arrive every month and this is the most popular publication of Urdu monthly three It started coming from a gap of three four four months. After some time, this gap increased further and all colors started to be published after two years, sometimes three years. In 2005 Mr. Shakeel together with the son of a very close friend of his. With a new commitment, I tried to publish all colors regularly, but only five numbers came out in two years. Shakeel Adilzada withdrew from all colors in January 2007 The new administration has decided to continue all colors. I tried, but all colors were the name of Shakeel Adilzada. Without them all colors couldn't live all colors and the publication began to come down rapidly. All colors published in one lakh fifty thousand, began to hide in just five thousand. Dec 2010 all colors closed. Shakeel Adilzada is a living legend who is highly respected and respected in all Urdu world. You are writing last episodes of ′′ Bazigar ′′ these days. His In recognition of literary services, the Government of Pakistan has awarded them the Presidential Medal for Good Performance.

Translated


جواب چھوڑیں