غزوہ بدرمیں صحابہ کرام علہیم الرضوان کی جاں نثاری

ارشادباری تعالیٰ ہے۔وَلَقَدْنَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍوَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃ’‘”بے شک اللہ تعالیٰ نے میدان بدرمیں تمہاری مددکی حالانکہ تم بالکل کمزورتھے۔ارشادباری تعالیٰ ہے "بلاشبہ جنہوں نے کہاہمارارب اللہ ہے پھراس پرثابت قدم رہے ان پرفرشتے اترتے ہیں اور(بشارت دیتے ہیں) کہ نہ توتمہیں کسی( آنے والے خطرے) کاخوف ہوناچاہیے اورنہ ہی کسی (گذشتہ بات کا)رنج وملال اوراُس جنت کی خوشخبری سنوجس کاتم سے وعدہ کیاجاتاہے (حٰم السجدہ آیت ۲۳)
حضرت رافع بن خدریجؓ سے روایت ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ یاکوئی اورفرشتہ نبی کریمﷺکے پاس آیااورعرض کیا’’یارسول اللہﷺ!آپ اپنے لوگوں کے درمیان اہل بدرکوکیامقام دیتے ہیں ۔اصحاب نے کہاوہ ہم سب میں بہترہیں اس فرشتے نے جواب دیاکہ ہمارے نزدیک بھی جوفرشتے بدرمیں حاضرہوئے وہ سب سے بہترہیں ۔(ابن ماجہ)
ماہ رمضان المبارک بڑی عظمت والامہینہ ہے ۔اس ماہ مقدس کے بارے میںارشادباری تعالیٰ ہے "رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیاگیا”یہ مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی ہمارے دلوں میں اس واقعے کی یادتازہ ہوجاتی ہے جسے تاریخ "غزوہ بدر ـ ” کے نام سے یادکرتی ہے ۔بدرایک کنوئیں کا نام ہے جومدینہ طیبہ سے تقریباً80میل کے فاصلے پرواقع ہے ۔یہ کنواں بہت ہی مشہورتھااس لئے اس کے آس پاس کی آبادی دیہات کوہی بدرکہاجاتا جہاں پریہ غزوہ ہوا تھا۔یہ کنواں مسمی بدرابن عامرنے کھوداتھا۔رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کے بعدپہلے ہی رمضان کی17تاریخ2؁ ہجری جمعہ کومیدان بدرتاریخ اسلام کاانتہائی دردناک اوردلوںکوہلا کر رکھ دینے والا سانحہ رونماہوا۔قرآن کریم نے جن واقعات کواپنے اوراق میں محفوظ کیاہے ان میں سے غزوہ بدر بھی ہے ۔تاکہ قیامت تک مسلمانوں کے ذہنوں میں اس کی یادتروتازہ رہے مسلمانوں کے مکہ سے ہجرت کرجانے کے بعدبھی کفارمکہ نے ان کاپیچھانہ چھوڑا۔کفارکی ہروقت یہی خواہش ہوتی کہ مسلمان کہیں بھی امن وسکون سے نہ رہ سکیں ۔کفار مسلمانوں کومختلف طریقوں سے تنگ کرتے رہے ۔آخرمسلمانوں کومدینہ طیبہ میں پناہ گاہ مل گئی قریش کے لوگوں نے مدینہ کے اردگردچھاپے مارے اورمسلمانوں کے مویشی لوٹناشروع کردیے ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوجہادکی اجازت دے دی جس کے نتیجے میں کفرواسلام کایہ پہلامعرکہ بدر کے مقام پرپیش آیا۔کفارمکہ اپنے سردارابوسفیان کی قیادت میںملک شام سے تجارتی سامان لے کرواپس آرہے تھے اس قافلے میں ہزار اونٹوں پرپچاس ہزار دینارکی مالیت کاسازوسامان لداہواتھاقریش کی سب بڑی طاقت ان کی یہی تجارت اورتجارتی سامان تھاجومسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتاتھا۔آقاﷺصحابہ کرام علہیم الرضوان کی جماعت لیکران کے مقابلہ کے لئے روانہ ہوئے تاکہ اس قافلے کامقابلہ کرکے قریش کی طاقت توڑدی جائے ۔ رسول اکرم ﷺ اللہ کے حکم سے تین سوتیرہ صحابہ کرام علہیم الرضوان کولے کرروانہ ہوگئے لیکن یہ جنگ کے لئے پوری طرح تیارہوکرنہ نکلے تھے پورے اسلامی لشکرمیں سواری کے لئے ستر اونٹ دوگھوڑے چھ زرہ آٹھ تلواریں تھیں ۔جب ابوسفیان کومسلمانوں کے مدینے سے نکلنے کاعلم ہواتو اس نے فوراًقریش مکہ کوپیغام بھیجوادیاکہ مددکے لئے پہنچو ورنہ تجارتی قافلہ مسلمانوں کے ہاتھوں لٹ جائے گا۔اس قافلہ میںقریباً مکے کے تمام گھرانوں کاسامان شامل تھاکفارمکہ نے ایک ہزار افرادکالشکرتیارکرکے ابوجہل کی قیادت میں مدینے پرحملے کے لئے نکل پڑے ان کے پاس ایک سوگھوڑے چھ زررہ اورسینکڑوں اونٹ تھے ۔ادھرابوسفیان بدرکے راستے سے کتراکردوسرے راستے سے بخیریت مکہ معظمہ پہنچ گئے اورکفارکوپیغام بھجوایاکہ قافلہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچ گیاہے تم واپس آجائولیکن کفارمکہ اپنی طاقت پرنازکرتے رہے اور بدرکے قریب پڑائوڈال دیا۔چنانچہ اسلامی لشکربھی بدرکے قریب پہنچ کررک گیا۔ادھرمسلمانوں نے حضورﷺسے عرض کیاکہ ہم تو قافلہ روکنے کے لئے آئے تھے اس عظیم الشان جنگ کے لئے تیارنہ تھے آقاﷺکویہ عرض ناگوارگزری حضرت ابوبکرصدیق ؓ وحضرت عمرفاروقؓ نے کھڑے ہوکر عرض کیاکہ ہم کسی طرح بھی مرضی مبارک کے خلاف کرنے والے نہیں حضورﷺجہاں چاہیںہم کولے چلیں ہم تیارہیں اگرچہ آپﷺ فرمائیں توسمندرمیں کود جا ئیں حضورﷺنے فرمایا اللہ پرتوکل کرواورچلوفتح تمہاری ہوگی آقاﷺنے جنگ سے ایک دن پہلے زمین پرخط کھینچ کرفرمایاکہ یہاں فلاں کافرماراجائے گاا وریہاں فلاں چنانچہ ایسے ہی ہواجیساآپﷺنے فرمایا۔چنانچہ17رمضان 2؁ ہجری کودونوں لشکرآمنے سامنے ہوئے ۔اللہ پاک نے اسی میدان میں مسلمانوں کی مددکاتذکرہ کرتے ہوئے سورۃ الانفال میں فرمایا”بیشک اللہ تعالیٰ نے میدان بدرمیں تمہاری مددکی حالانکہ تم بالکل کمزورتھے”اس دن جبکہ مسلمان خداکے دین کی حفاظت کے لئے دشمن کے مقابل کھڑے تھے توبڑے کمزورتھے ہرظاہری اعتبارسے کمزورتھے ۔تعدادمیں بھی بہت کم تھے اللہ پاک نے غزوہ بدر میںکمزورمسلمانوں پرکرم فرماکران کی مددکرکے قیامت تک کے مسلمانوں کویہ بات تسلیم کرلینے کی عملی دعوت دی کہ کامیابی وکامرانی خداکی ہی مددسے نصیب ہوتی ہے صرف تم خودکواس قابل بنالوتاکہ خداتمہاری مددکرے ۔پہلی مدداس طرح ہوئی کہ مسلمانوں کوکافروں کی تعدادمیدان جنگ میں کم نظرآرہی تھی تاکہ اللہ کے یہ بندے دشمن کودیکھ کرگھبرائیں نہیں اورکافروں کومسلمانوں کی تعدادکم نظرآرہی تھی تاکہ وہ مسلمانوں سے ڈرکر میدان جنگ چھوڑنہ جائیں ۔حق وباطل کافرق ظاہرکرنے کے لئے اس جنگ کاہوناہی ضروری تھا۔دوسری مددیہ کہ جنگ کے دوران بعض اوقات کافروں کومسلمان اپنے سے دوگنے نظرآتے تھے جس کی وجہ سے ان پرمسلمانوں کاڈراورخوف طاری ہوتارہااوران کی ہمتیں پست ہوگئیں ۔میدان بدرمیں جنگ کی رات سب سوتے رہے لیکن آقاﷺنے پوری رات دعا میں بسرکی اسی رات اللہ تعالیٰ نے موسلادھاربارش برسائی ۔جب جنگ کی تیاریاں مکمل ہوئیں توپھراللہ کے محبوبﷺنے معبودحقیقی کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور عرض کیا”اے اللہ ا ب تیری اس مددکے ملنے کاوقت آگیاہے جس کاتونے مجھ سے وعدہ فرمایاہے اے اللہ اگرمسلمانوںکی اس چھوٹی سی جماعت کوتونے ہلاک ہوجانے دیاتوپھرتیری بھی عبادت نہ کی جائے گی ۔آقاﷺکی دعاقبول ہوئی آپﷺنے اپنے رب کی اجازت سے غلاموں کویہ خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا گھبرائونہیں آگے بڑھوخداکے ایک ہزارفرشتے تمہاری مددکے لئے آرہے ہیں مسلمانوں نے ہمت وجراء ت کے ساتھ دشمن کامقابلہ شروع کردیا۔دوران جنگ یہ خبر مشہورہوئی کہ کافروں کی مددکے لئے ایک بھاری لشکرپہنچنے والاہے اس خبرسے مسلمانوں کوکچھ تشویش ہوئی پھرنبی کریمﷺنے اللہ کے حکم کے مطابق غلاموں کومژدہ سنایاکہ حسب ضرورت ایک ہزارتین ہزاراورپانچ ہزارفرشتوں سے مددکاوعدہ کیااورجب جنگ پورے زورپرآئی توان فرشتوں نے اپناکام پورا کیاکہ تلوارلگنے سے پہلے سرکٹتے نظرآئے ۔دوران جنگ آقاﷺنے ایک مٹھی خاک کفارکی طرف پھینکی کافروں کالشکرپھیلاہواتھاکوئی کہیں کھڑاتھاکوئی کہیں کھڑاتھا کوئی خیمہ کے اندرتھااللہ پاک نے اپنے حبیبﷺکایہ معجزہ ظاہرفرمایاکہ ایک مٹھی خاک ہرکافرکی آنکھوں تک پہنچ گئی سب کی نظریں دھندلاگئیں ۔دشمن ایساخوفزدہ اور پریشان حال ہواکہ سوابھاگنے کے کوئی چارہ نہ تھانہ سامان سمیٹنے اورنہ ہی ساتھیوں کی لاشیں اٹھانے کاہوش رہا۔اللہ پاک نے یہ اعلان فرمایا”پس تم نے انہیں نہیں قتل کیابلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا”غزو ہ بدر میںصحابہ کرام علہیم الرضوان نے جاں نثاری کے بے شمارکارنامے سرانجام دیے غزوہ بدرمیں کافروں کے سترآدمی قتل ہوئے جن میں اکثران کے سرداراوراس جنگ کی روح تھے کفارکی فوج سے ابوجہل عتبہ شیبہ ولیدبن عتبہ امیدبن خلف وغیرہ یہ سب ہی نہایت ذلت وخواری سے مارے گئے۔ابوجہل کافروں کابڑاسردار سمجھاجاتاتھانہایت متکبر مغروراورحضورﷺکا،اسلام کابدترین دشمن تھالیکن اس خبیث کودونوجوان لڑکوں حضرت معوذؓ اورحضرت معاذؓ نے قتل کرڈالااوران کے سرداروں کے مرجانے کے بعد کافروں کوزبردست شکست ہوئی کہ وہ اپنامال واسباب اوراپنے مرُدے چھوڑ کربھاگ گئے۔حضرت عوف بن حارثؓ نے جوش جہادمیں اپنی زرہ اتارپھینکی اورتلوارلے کر دشمن پرٹوٹ پڑے یہاں تک کہ لڑتے لڑتے شہیدہوگئے حضرت عمرؓ نے عاص بن ہاشم کوقتل کیامیدان جہادمیںلڑتے لڑتے حضرت عکاشہؓ کی تلوارٹوٹ گئی آقاﷺنے حضرت عکاشہؓ کوایک لکڑی کاپھٹادیاآپؓ اسی پھٹے کوہاتھ میں پکڑکرلڑنے لگے۔جب کفارکی فوج سے عتبہ شیبہ اورولیدبن عتبہ نے باہرنکل کرمسلمانوں کوللکاراتوحضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ ،حضرت عبیدہ بن حارثؓ اورحضرت حمزہؓ نے ان کا مقابلہ کیااورتینوں کوواصل جہنم کیا ۔اللہ تعالیٰ نے لشکرِاسلام کوعظیم الشان فتح نصیب فرمائی کفارکواس جنگ میں بدترین شکست ہوئی کفارکے سترآدمی مارے گئے جن میں ان کے بڑے بڑے سرداربھی شامل تھے اور سترکافروں کومسلمانوں نے گرفتاربھی کرلیا کفارکے ان قیدیوں میں سے بعض کواحسان کے طورپر چھوڑدیا گیاجوباقی بچے ان کے متعلق یہ طے ہواکہ یاتوفدیہ دے کرآزادی حاصل کریں یادس دس مسلمان بچوں کولکھناپڑھناسکھادیںاس جنگ میں کافروں کاغرور خاک میں مل گیا۔اسلامی لشکرسے صرف چودہ صحابہ کرام علہیم الرضوان شہیدہوئے جن میں سے تیرہ میدان بدرمیں دفن ہیں اورحضرت عبیدہ بن حارثؓ جوشدید زخمی ہوئے تھے میدان بدرسے واپسی پرمیدان صغراء میں فوت ہوئے آپؓ کی قبرمبارکہ میدان صغراء میں ہے ۔غزوہ بدرہمیشہ کے لئے کفارکی ذلت وخواری کا نشان اوراسلام کی عظمت وحقانیت کااعلان بن گیامسلمانوں کی کامیابی کے بعددنیاکی نظریں کفرسے ہٹ کراسلام کی طرف اٹھنے لگیں دشمنوں نے پوری قوت سے اس کو دباناچاہالیکن یہ ابھرتاپھیلاتاچلاگیا۔
فانوس بن کرحفاظت جس کی ہواکرے وہ شمع کیابجھے جسے روشن خداکرے
میدان بدرمیں جوواقعات رونماہوئے وہ سب کے سب ایمان وافروزہیں آخرمیں عشق ومحبت سے بھرے ایک واقعہ پراپنے مضمون کااختتام کرتاہوں ۔غزوہ بدرکے دن آقائے دوجہاں سرورکون ومکاں ﷺجنگ کے لئے لائینیں سیدھی فرمارہے تھے کہ آپﷺایک صحابی حضرت سوادؓ کے پاس پہنچے ۔حضرت سوادؓ کاپیٹ کچھ بڑاتھا جولائن سے باہرنکلانظرآرہاتھا۔نبی کریمﷺنے اس صحابیؓ کے پیٹ پرچھڑی ماری اورفرمایااستواء یاسواداے سوادسیدھے کھڑے ہوجائو۔حضرت سوادؓ کوایک خاص موقع مل گیا۔آپؓ بول اٹھے یارسول اللہﷺ!آپ نے بلاوجہ میرے پیٹ پرچھڑی ماری ہے میں تواس چھڑی مارنے کاآپﷺسے بدلہ لوں گا۔آقاﷺنے حضرت سوادانصاریؓ کی بات سنتے ہی اپناکرتامبارکہ اٹھاتے ہوئے فرمایااے سوادؓ لومیراپیٹ حاضرہے آج تم اپنابدلہ لے لوحضرت سوادؓ نے دوڑکرآپﷺکے مبارک پیٹ کوچوما اورآپﷺسے چپٹ گئے ۔آقاﷺنے فرمایااے سوادؓ یہ کیاہے تم نے تواپنابدلہ لیناچاہالیکن اب آپؓ میرے پیٹ سے چپٹ گئے ہو۔قربان جائوں اے سوادؓ! تیری قسمت پرحضرت سوادؓ نے عرض کیایارسول اللہﷺاس وقت میں میدان جنگ میں ہوں کیاپتہ موت کاپیغام آجائے اورمیں شہیدہوجائوں ۔یارسول اللہﷺمیرے دل کی آخری تمنابھی یہی تھی کہ میراجسم آپﷺکے جسم مبارک سے چھوجائے رب تعالیٰ نے میری تمناپوری کردی اورمجھے آپﷺکے جسم مبارک سے چھوجانے کاموقع دے دیا(خداکی قسم)مجھے یقین ہے کہ اب میرے جسم پرجہنم کی آگ حرام ہوگئی پس جومیرامقصدتھاوہ پوراہوگیامیں اپنابدلہ معاف کرتاہوں ۔غزوہ بدرسے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ جولوگ اخلاص کے ساتھ اللہ کے دین کاکام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان مخلص ،متقی اورنیک بندوں کی ضرورمدد فرماتاہے ۔دنیاکی بڑی سے بڑی قوت ان پر غالب کردیتاہے ۔ ارشادباری تعالیٰ ہے”اے ایمان والو!اگرتم اللہ کے دین کی مددکروگے تووہ تمہاری مددفرمائے گااورتمہارے قدم جمادے گا”۔خداکایہ وعدہ قیامت تک کے اہل ایمان سے ہے ہم اس دنیامیں ذلیل ورسوااسی وجہ سے ہورہے ہیں کہ ہم نے اللہ اوراسکے رسولﷺکے بتائے ہوئے راستے کوچھوڑدیاہے دربدرکی ٹھوکریں اسی وجہ سے کھارہے ہیں کہ ہم نے اللہ پاک کی ذات پربھروسہ کرناچھوڑدیاہے ۔اللہ پاک ہم کوصراط مستقیم کے راستے پرچلنے کی توفیق عطافرمائے۔

حافظ کریم اللہ چشتی

جواب چھوڑیں